کاشی ناتھ راؤ ڈھاکے پٹیل
کاشی ناتھ راؤ ڈھاکے پٹیل واکی کا مال گزار یہ پٹیل مقروض ہوگیا تھا اور قرض خواہ نے مقدمہ جیت لیا تھا اور اس کے خلاف قرقی کا وارنٹ جاری ہوگیا تھا -جس روز قرقی آنی تھی اس سے ایک روز پہلے وہ ولی خانہ آیا ...جہاں بابا صاحب رہتے تھے - وہ چھکڑے پر سوار تھا اور ساتھ میں اس کے ایک چھوٹا بچہ تھا -بابا صاحب باہر آکر اس کے چھکڑے کے پاس آئے اور کہا ...تو چل میں آتا ہوں ..-وہ چھکڑا اپنے گاؤں واکی کی طرف لے گیا ...جب واکی پنہچا جو ناگ پور سے تقریباًسولہ ، سترہ میل دور ہے ...تو دیکھتا ہے بابا صاحب اس کے مکان میں بیٹھے ہیں - پھر سرکار تاج الدین بابا نے رات بھر میں اس کے گھر کا سارا فرنیچر اکھٹا کرکے جلا دیا مگر وہ ایسا عقیدہ میں پکا تھا کہ جیسا بابا حکم دیتے وہ کرتا -دوسرے روز صبح بیلف کے ساتھ کورٹ کا عملہ آیا تو اس کی عورتیں اور بہوئیں اوپر والی منزل کی طرف بھاگیں -قرقی میں عورتوں کے زیورات بھی اتار لئے جاتے ہیں -بابا صاحب نے کاشی ناتھ راؤ پٹیل کو مخاطب کرکے کہا ...یہ عورتیں کیوں بھاگتی ہیں ...ڈھولی ...