Posts

Showing posts from August, 2025

پاگل جھونپڑی

Image
  پاگل جھونپڑی  پاگل خانے کے ایک کمرے میں آپ کو بند کردیا گیا  لیکن اکثر آپ کمرے سے باہر نظر آتے  ... جب آپ کی طبیعت چاہتی کامٹی پہنچ  جاتے اور پاگل خانے میں بھی موجود ہوتے - چونکہ آپ کی شہرت پھیل چکی تھی اس لئے اب پریشان حال مراد مندوں نے پاگل  خانے کا رخ کیا اور مخلوق خدا جوق در جوق پاگل خانے  پہنچنے لگی  ... جو    حاضر ہوتا اپنی مراد لے کر واپس لوٹتا - اس شہرت کی وجہ  سے گورنمنٹ  نے آپ کے دیدار کو آنے والے حضرات  کے لئے فیس مقرر کردی - شروع میں فیس دو آنہ مقرر کی   ... لیکن لوگوں کا  ہجوم کم نہ ہوا  چنانچہ  فیس بڑھاتے بڑھاتے ایک روپیہ کردی گئی  ... ل یکن   پبلک اس کے باوجود  ٹوٹی  پڑ  رہی تھی - جب  فیس ایک روپیہ کردی گئی تو اس سے گورنمنٹ کو کثیر آمدنی ... ہزاروں روپیہ کی ہونے لگی  ... اس آمدنی میں سے گورنمنٹ نے پاگل خانہ  میں تاج الدین باغ اور تاج الدین محل بنوایا تاکہ لوگ حکومتی انتظامیہ کی اس روش پر اعتراض نہ کرسکیں -  پاگل خانے کے انچارج ڈاکٹر...

حالات زندگی - - 3

Image
                                                                     حالات زند گی  بابا تاج الدین اولیاؒء  ... 1881ء  میں ناگپور کی رجمنٹ نمبر   8   میں نائک مقرر ہوئے  ،  جو مدراسی پلٹن کہلاتی تھی - دوران ملازمت بھی  آپ کے اشغال و ریاضت الٰہی میں فرق نہیں آیا -  ڈیوٹی کے اوقات کے بعد آپ کو عبادت   الٰہی   میں مصروف دیکھا گیا  ... اور رات  میں بلند آواز سے حافظ شیرازی اور مولانا روم کے اشعار بھی پڑھتے سنا گیا - آپ کے افسران آپ کی  سادہ زندگی اور راست گوئی کی وجہ سے بے حد مہربان تھے - اس طرح تین سال آپ نے کامٹی میں گزار دیئے  -  تین سال بعد  1884ء  میں آپ کی رجمنٹ کے دو حصے کردیئے گئے  ... ایک حصہ کامٹی میں رہا اور دوسرا حصہ ساگر چھاؤنی روانہ کردیا گیا  - ساگر والے حصہ میں آپ شامل کرلیئے گئے - ساگر چھاؤ...

حالات زندگی - - 2

Image
حالات زندگی   حضرت بابا سید محمّد تاج الدین اولیاءؒ  بمقام کامٹی  گورا  بازار  اپنے مکان میں ایک روایت کے مطابق  27  جنوری  1861ء کو پیدا ہوئے - پیدائش کے وقت آپ عام بچوں کی طرح نہیں روئے بلکہ آنکھ بھی نبد رکھی  ... جس کی وجہ سے آپ کے عزیزوں کو خیال ہوا کہ شاید بچہ  بے جان   پیدا ہوا ہے  ،  لیکن تجربہ کار عورتوں نے نبض دیکھی تو وہ جاری تھی  ... اس لئے اس وقت کے رواج کے مطابق تانبے کے  پیسے کو گرم کرکے آپ کے جسم کو داغا گیا  ... وہ داغ آپ کے جسم پر موجود تھے   ... تب آپ نے آنکھیں کھولیں - بابا تاج الدین اولیاء کے دادا صاحب  ...  ملازمت کے سلسلے میں ...  کامٹی  ،  ناگپور ،   جو سابق صوبہ  سی   پی  میں واقع ہے  تشریف لائے ،  اب یہ علاقه  مہاراشٹرا   بن  گیا ہے - آپ نے اپنے صاحبزادے سید حسن مہدی بدرالدین  کی شادی  ... حضرت سید میراں شاہ صاحب صوبیدار میجر   ...   پلٹن نمبر  3...

حالات زندگی - - 1

بشارت  تاج الاولیاء حضرت بابا تاج الدین ناگپوری  کی والدہ ماجدہ نے بابا صاحب کی   پیدائش سے قبل ایک خواب دیکھا   ...  جس میں آپ کی  ولادت کی بشارت دی گئی تھی - انہوں نے دیکھا کہ  تا حد نظر ایک وسیع و بسیط میدان ہے  ... اس میدان میں ہزاروں شہر آباد ہیں اور مخلوق خدا بے حد و بے حساب  ہے  ...  جس میں ہر مذہب و ملت کے لوگ آباد ہیں -  سردی کا موسم ہے  ،  چاند کی چودھویں تاریخ ہے اور چاند خوب چمک رہا ہے -   حضرت تاج الاولیاء کی والدہ ماجدہ نے دیکھا کہ چاند آسمان سے ٹوٹا اور ان کی گود میں اتر آیا -

متصرف فی الوجود

  متصرف فی الوجود  حضرت بابا سید محمّد تاج الدین حسنی و الحسینی ناگپوری رحمتہ الله علیہ  اواخر بارہویں صدی ہجری میں منصُہ شہود پر آئے - کسی کا قلم  کیونکر ان کے اوصاف  بیان کرسکتا ہے -  سکر و صحو  ،  جذب و سلوک کی کیفیات آپ پر یکساں طاری رہتی تھیں   ... اس لئے جمع کردہ  حالات  میں بعض حضرات نے اپنے تجربات اس طرح   بیان کئے گویا آپ حالت سکر میں ہیں - حضرت با یزید بسطامؒی اور شیخ عبدالقادر  جیلانی محبوب سبحانیؒ  کی طرح آپ بھی متصرف فی الوجود   ہیں  ... جیسا کہ جمع کردہ شواہد سے  معلوم ہوتا ہے - جس پر حقیقت کھلی اس نے دور رہ کر بھی بابا صاحب سے فیض حاصل کیا اور جو محجوب رہا وہ نزدیک رہ کر بھی محروم رہا  ... جیسا کہ  بہت سے حضرات آج بھی آپ کو مجذوب سمجھتے ہیں  ... وہ محروم رہتے ہیں  ،  حالانکہ آپ جس بے خودی کے مقام پر فائز تھے  ... اس  بے خودی کا حال مولانا رومی نے کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے  ...  من شدم عریاں ز تن او از خیال  می    خ...

فقر تاج دینی

Image
فقر  تاج  دینی   اسلامی فخر کی داستان طولانی ہے  ... فرد و ملت کا عروج باطنی صلاحیتوں کو بیدار کئے بغیر ممکن نہیں -  شرعی تقاضوں کے تحت تزکیہ باطن  کے بعد ظاہر کا حسن و سنوار زیب دیتا ہے - ظاہر و باطن کی میزان قائم رکھنا فقراء صاحبان امر کا کام ہے - شریعت کا تعلق تزکیہ نفس  ... رشد و ہدایت اور پابندی احکام کے ذریعے پہلے باطن کی اصلاح ہے پھر ظاہر کی طرف رجوع کرنا ہے - سلاسل طریقت تو ہیں ہی مقام قلب و روح کی باتیں  ... مقام عشق و امر سے کارفرمائی ... اس لئے صاحبان طریقت نے اول افراد ملت  کے باطن کی اصلاح کی جانب توجہ دی  ... یہ کام صرف صاحبان امر کے ہاتھوں تکمیل پاتا ہے کیونکہ قلب و روح کی دنیا ہے ہی امر کی دنیا جب یہ برکت بسم اللہ قلب و روح کی دنیا میں قم باذنی کردیا جاتا ہے  ... اس وقت ہر طالب حق رجوع الی الله ہوجاتا ہے -   ملت کی زندگی   میں یہ قم باذنی اکثر ہوا ہے - برصغیر  میں بابا فریؒد نے باطن کی جانب رجوع ہونے کی راہ کشادہ کی -  نخل اسلام کا باطن میں    بیج بونے کی   ضرورت یوں ...