اعادہ ٔ حیات
کشف و کرامات اعاد ہ ء حیات بابا عبدالجبار صاحب فرماتے ہیں کہ گرجی نامی طوائف کو بابا تاج الدین اولیاءؒ نے زندہ کیا ... اس طرح کہ گرجی ایک عرصے سے بیمار تھی - ایک دن صبح واکی کے پٹیل نے اپنے آدمی کو گرجی کے پاس دیکھنے کے لئے بھیجا - آدمی نے گرجی کو دیکھا تو وہ مر چکی تھی - اس نے یہ خبر پٹیل کو جا سنائی - پٹیل نے اپنے آدمی سے کہا کہ تم جا کر بابا صاحب سے کہو کہ گرجی مر چکی ہے ، اس کو دفن کیا جائے یا جلاد یا جائے - سرکار تاج الاولیاء نے اس رات واکی کے جنگل میں قیام فرمایا تھا - بابا تاج الدین نے صبح ایک آدمی کو چائے دے کر کہا ... جاؤ یہ چاء گرجی کو پلا دو - ادھر سے پٹیل کا آدمی دریافت کرنے جا رہا ہے کہ گرجی کو جلایا جائے یا دفن کیا جائے اور اس طرف سے بابا صاحب کا روانہ کردہ آدمی چائے لے کر آرہا ہے - راستے میں ان دونوں کی ملاقات ہوئی - پٹیل کے آدمی نے دریافت کیا کہ اس وقت سرکار کہاں ہیں ، اس نے پتہ بتا دیا ... پھر پٹیل کے آدمی نے پوچھا تم کہاں جا رہے ہو ...