حالات زندگی - - 3
حالات زند گی
بابا تاج الدین اولیاؒء ... 1881ء میں ناگپور کی رجمنٹ نمبر 8 میں نائک مقرر ہوئے ، جو مدراسی پلٹن کہلاتی تھی - دوران ملازمت بھی
آپ کے اشغال و ریاضت الٰہی میں فرق نہیں آیا - ڈیوٹی کے اوقات کے بعد آپ کو عبادت الٰہی میں مصروف دیکھا گیا ... اور رات
میں بلند آواز سے حافظ شیرازی اور مولانا روم کے اشعار بھی پڑھتے سنا گیا -
آپ کے افسران آپ کی سادہ زندگی اور راست گوئی کی وجہ سے بے حد مہربان تھے - اس طرح تین سال آپ نے کامٹی میں گزار دیئے
- تین سال بعد 1884ء میں آپ کی رجمنٹ کے دو حصے کردیئے گئے ... ایک حصہ کامٹی میں رہا اور دوسرا حصہ ساگر چھاؤنی روانہ کردیا گیا
- ساگر والے حصہ میں آپ شامل کرلیئے گئے -
ساگر چھاؤنی میں بھی آپ کی عبادت و ریاضت اسی طرح جاری رہی ... ساگر میں آپ حضرت داؤد مکی چشتؒی کے مزار مبارک پر
مستقل طور پر شب بیداری فرماتے رہے -
ساگر ڈپو میں تین سال گزرنے کے بعد ایک روز آپ نے اچانک اپنی فوجی ملازمت چھوڑ دی - فوجی ملازمت ترک کرنے کے متعلق دو
روایتیں بیان کی جاتی ہیں ... پہلی روایت جناب سہیل احمد عظیمی صاحب کے تصنیف کردہ ... تذکرہ بابا تاج الدین میں دیکھی جاسکتی
ہے ... یہاں دوسری روایت پیش کی جارہی ہے -
ساگر کی فوجی ملازمت کو تین سال ہوچکے تھے ... ایک روز آپ اپنے فوجی افسر کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ اب ہم ملازمت نہیں
کریں گے - فوجی افسر نے آپ کو سمجھایا کہ آپ کی ترقی کا نمبر آگیا ہے ... ایسے وقت میں ملازمت سے علحیدہ ہونا مناسب نہیں - اس
کے جواب میں آپ نے فرمایا ... مجھے جو ترقی ملنی تھی مل گئی - یہ فرما کر تمام سرکاری چیزیں وردی وغیرہ ... اس افسر کے حوالے کرکے
فو جی احاطہ سے باہر آگئے اور ساگر کی گلیوں میں دیوانہ وار گھومنے لگے -
اس فوجی افسر نے یہ اطلاع آپ کے گھر کامٹی کردی - جس وقت فوجی افسر کی طرف سے اطلاع آپ کے گھر پہنچی ... آپ کی نانی
صاحبہ پریشان ہوکر ساگر پہنچیں اور کسی طرح بابا صاحب کو اپنے ہمراہ کامٹی لے آئیں - کامٹی میں آپ کی نانی صاحبہ اور ماموں
صاحب نے ہر قسم کا علاج کروایا - یہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ زیادہ عبادت و ریاضت سے دماغ میں گرمی پیدا ہوگئی ہے یا پھر کسی چلہ
وغیرہ میں کوئی غلطی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے دماغ میں خلل پیدا ہوگیا ہے ... چنانچہ کئی عاملوں کی خدمات حاصل کی گئیں ، مقامی اعلیٰ
سے اعلیٰ ڈاکٹر اور حکیم رجوع کئے گئے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا -
نانی صاحبہ پر اس کیفیت کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ وہ اس دار فانی سے کوچ کرگئیں - نانی صاحبہ کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری آپ کے ماموں
صاحب نے سنبھالی - بابا تاج الدین اولیاء اس زمانے میں بستی کی گلیوں میں گشت کرتے رہتے ... آپ کے دیوانہ وار گشت کے
دوران بستی کے بچے آپ پر سنگ باری کرتے ... راہ گیر جب بچوں کو منع کرتے تو سرکار ، رک کر ان حضرات سے مخاطب ہوکر
فرماتے ... ان بچوں کو آپ کیوں روکتے ہیں ... یہ پیارے پیارے معصوم بچے تو مجھ پر پھول برساتے ہیں جن سے بڑی خوشبو آتی ہے -
بابا صاحب بستی کے ٹمپل گارڈن میں بھی کبھی قیام فرماتے ... اسی زمانہ میں مسٹر ترونگڑ ، کمپاؤ نڈر کنٹونمنٹ ہسپتال کے مکان پر بھی
تشریف لے جاتے تھے ... ان کی بیوی کو آپ مامی کہہ کر مخاطب فرماتے تھے - ان کے علاوہ ایک مدراسی صاحب کے مکان پر شام میں
روزآنہ تشریف لاتے ... یہ صاحب لاولد تھے ، جب سرکار تاج الاولیاء ان کے گھر آتے تو وہ بہت عاجزی سے کھانا پیش کرتے ... سرکار
کو آنے میں دیر ہوجاتی تو باہر بیٹھ کر ان کا انتظار کرتے -
ایک روز بابا صاحب حسب معمول تشریف لائے ... مدراسی صاحب نے کھانا پیش کیا ...
بابا صاحب نے فرمایا ... " گرتا ہے تو گر تاج الدین تو ہے " - آپ کے اس جملہ کو مدراسی صاحب نے سنا لیکن کچھ خیال نہیں کیا -
بابا صاحب کے روانہ ہونے کے کچھ دیر بعد ہی ، مدراسی صاحب کا مکان گر گیا ... لیکن مدراسی صاحب اور ان کی بیوی کو ذرا بھی
چوٹ نہیں لگی -
اس طرح بابا صاحب سے تواتر کے ساتھ کرامات ظاہر ہونے لگیں اور پریشان حال لوگ آپ کے پاس حاضر ہونے
لگے - آپ نے ریاضت کے لئے ایک انگریز کا باغ منتخب کیا - انگریزوں کی حکومت تھی اور عام لوگ انگریزوں سے ڈرتے تھے ، لیکن
یہاں بھی لوگ اس انگریز کے پاس پہنچے اور اس سے درخواست کی کہ ہمیں بابا صاحب سے ملنے کی اجازت دی جائے ... اس لئے کہ یہ
الله کے ولی ہیں ... ہم لوگ اپنی مرادوں کے لئے ان سے عرض کرتے ہیں اور وہ الله سے عرض کردیتے ہیں ... ہماری مرادیں پوری
ہوجاتی ہیں - انگریز نے اجازت دے دی -
اب سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں ہجوم رہنے لگا ، چنانچہ آپ نے ایسی ترکیب نکالی کہ اس انگریز نے خود ہی آپ کو تانگہ میں بٹھا کر
ناگپور روانہ کردیا -
ناگپور میں بھی جب لوگ بہت زیادہ تنگ کرنے لگے تو آپ ایک روز انگریز عورتوں کے ٹینس کلب میں برہنہ داخل ہوگئے ... وہاں پر
جو عورتیں موجود تھیں وہ پریشان ہوگئیں ... پولیس کو اطلاع دی گئی ، پولیس آگئی اور آپ کو کنٹونمنٹ مجسٹریٹ اور ضلع مجسٹریٹ
کے حکم سے 26 اگست 1892 ءکو پاگل خانہ میں داخل کردیا گیا -

درگاہ حضرت داؤد مکّی چشتی ساگر -- ناگپور میں یہ درگاہ پیلی کوٹھی کے نام سے مشہور ہے
![]() |
| درگاہ حضرت داؤد مکّی چشتی - ساگر - مدھیہ پردیش - انڈیا |

درگاہ حضرت داؤد مکّی چشتی ساگر 
حضرت داؤد مکّی کے مزار مبارک کے احاطے میں وہ مقام جہاں سرکار تاج الاولیاء ریاضت و عبادت کیا کرتے تھے
حضرت داؤد مکّی کے مزار مبارک کے احاطے میں وہ مقام جہاں سرکار تاج الاولیاء ریاضت و عبادت کیا کرتے تھے
حضرت داؤد مکّی کے مزار مبارک کے احاطے میں وہ مقام جہاں سرکار تاج الاولیاء ریاضت و عبادت کیا کرتے تھے
![]() |
| برٹش گورنمنٹ کا 1877ء میں قائم کردہ کامپٹی کلب جہاں سے سرکار تاج الاولیاء کو گرفتار کیا گیا |
![]() |
| برٹش گورنمنٹ کا 1877ء میں قائم کردہ کامپٹی کلب جہاں سے سرکار تاج الاولیاء کو گرفتار کیا گیا |
![]() |
| برٹش گورنمنٹ کا 1877ء میں قائم کردہ کامپٹی کلب جہاں سے سرکار تاج الاولیاء کو گرفتار کیا گیا |
![]() |
درگاہ حضرت معصوم شاہ کامپٹی ناگپور |
![]() |
درگاہ حضرت معصوم شاہ کے احاطے میں موجود مزار جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سرکار تاج الاولیاء کی نانی صاحبہ کا مزار ہے |
![]() |
درگاہ حضرت معصوم شاہ کے احاطے میں موجود مزار جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سرکار تاج الاولیاء کی نانی صاحبہ کا مزار ہے |







Comments
Post a Comment