پیش لفظ
پیش لفظ
اخرج بصفاتی الی خلقی من راک فقد رانی و من قصدک قصدنی و من احبک احبنی ( حدیث قدسی )
میری صفات سے مخلوق پر ظاہر ہو ( اور ان کو میری طرف بلا ) جو تجھے دیکھے گا وہ مجھے دیکھے گا اور جو تیرا
قصد کرے گا وہ میرا قصد کرے گا اور جو تجھ سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرے گا
ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
اس ذات باری تعالیٰ کا کس زبان سے شکر ادا کیا جائے کہ اس نے اپنے محبوب نبی کریم صلی الله علیہ وآ له وسلّم کا سکہ ہمارے زمانے
میں بھی بہ شکل و اسم بابا تاج الدین ... کامٹی .. ناگپور مہاراشٹر ہی میں نہیں بلکہ چار دانگ عالم میں جاری کیا ...
جسے ہر زمانہ میں کل یوم ھو فی شان علیحدہ علیحدہ شکل و شباہت میں جاری کرتا رہا ہے -
ہمیں اپنی قسمت پر ناز ہے کہ ہم کو اس ہستی نے اپنی آغوش رحمت میں لیا ہے جس نے دین کی حقیقی و عملی خدمت انجام دی - ایسی
ہستی کی تعریف و توصیف یا ان کے ارشادات گرامی کا مفہوم و مطلب بغیر ان کی تائید کے سمجھنا یا سمجھانا ممکن نہیں -
ایک مدت سے کریم بابا تاجی صاحب ... تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں ... جس کے نتیجے میں ایک کتاب بنام " تاج مراری " شائع
ہو چکی ہے اور اب اس کے دوسرے ایڈیشن کی تیاری ہے - اس کے علاوہ مختصر کتابچے بھی لکھے گئے ہیں -
یہ سلسلہ اگلے زمانے کے بزرگوں سے رائج ہے کہ ہر سلسلۂ عالیہ کے پیشوا کی حیات طیبہ ... یعنی ان کی سوانح عمری شائع کی جاتی ہے تا کہ
آئندہ نسلوں کے لئے یادگار رہے - اس لئے ہم غلامان سلسلہ تاجیہ کا بھی فرض ہے کہ اپنے پیشوا ئے برحق شہنشاہ ہفت اقلیم بابا سید
محمد تاج الدین اولیاء کے حالات زندگی حتی الامکان زیادہ سے زیادہ فراہم کریں ... جس کے جاننے کے لئے بلا تفریق مذہب و ملت ...
پاکستان اور ہندستان کے علاوہ افراد و دل مغرب تک مضطرب ہیں -
دنیا نے دیکھا ہے کہ اس محسن حقیقی نے تمازت آفتاب ... تاریکئی شب ... ضعف پیری ... بھوک پیاس خاردار صحرا نوردی کی
ضرورت نہ ہونے کے باوجود " خاک ڈالو رخ محبوب پر اکسیر ہے " سمجھ کر ہمارے لئے سب مصیبتیں و تکلیفیں گوارا کیں اور اپنی
خدمت میں رکھ کر ہم کو " تخلقو بااخلاق اللہ " کی عملا تعلیم دی -
بقول مولانا روم ... ہفت صد و ہفتاد قالب دیدہ ام ... اگر فہم اتنے قالب بھی بدلے تب بھی ان کے احسانات سے سبکدوش نہیں
ہوسکتے - اس پر بھی ماہر فن تصنیف و تالیف وابستگان سلسلہ عالیہ تاجیہ نے ... جو اب چراغ سحری ہورہے ہیں ... غفلت برتی تو
ہماری جاں نثاری کی حقیقت بالکل سراب سمجھی جائے گی -
اس لئے بابا تاج الدین اولیاء کے نادر حالات طیبات فراہم کرنے میں جہاں تک ممکن ہو عجلت کی جائے کیونکہ یہ معمولی بات نہیں ہے
بلکہ اپنے ہم عصروں کی خدمت اور آئندہ نسلوں کے لئے خدا شناسی کا وسیلہ مہیا کرنا ہے ورنہ آج ہم جس کو مشکل سمجھتے ہیں کل اس
کا نام مجبوری ہوگا اور آج جو کام نہایت دشوار معلوم ہورہا ہے کل یہ بھی ناممکن ہوجائے گا ... بقول شخصے ... خیمے مسافران عدم نے
لگائے ہیں -
جس قافلے میں ہم ہیں وہ سب جانے والے ہیں ... ممکن ہے بابا صاحب اپنے سلسلے کے صاحبان علم سے باز پرس فرمائیں کہ تم نے
اپنے علم سے ہمارے مشن کی کیا خدمت کی ... ؟
قاضی امجد علی تاجی 1956 ء
.jpg)
Comments
Post a Comment