پاگل جھونپڑی

 

پاگل جھونپڑی 


پاگل خانے کے ایک کمرے میں آپ کو بند کردیا گیا  لیکن اکثر آپ کمرے سے باہر نظر آتے  ... جب آپ کی طبیعت چاہتی کامٹی پہنچ

 جاتے اور پاگل خانے میں بھی موجود ہوتے - چونکہ آپ کی شہرت پھیل چکی تھی اس لئے اب پریشان حال مراد مندوں نے پاگل

 خانے کا رخ کیا اور مخلوق خدا جوق در جوق پاگل خانے  پہنچنے لگی  ... جو  حاضر ہوتا اپنی مراد لے کر واپس لوٹتا -

اس شہرت کی وجہ سے گورنمنٹ  نے آپ کے دیدار کو آنے والے حضرات  کے لئے فیس مقرر کردی - شروع میں فیس دو آنہ مقرر کی

  ... لیکن لوگوں کا ہجوم کم نہ ہوا  چنانچہ  فیس بڑھاتے بڑھاتے ایک روپیہ کردی گئی  ... لیکن   پبلک اس کے باوجود  ٹوٹی  پڑ  رہی تھی - جب

 فیس ایک روپیہ کردی گئی تو اس سے گورنمنٹ کو کثیر آمدنی ... ہزاروں روپیہ کی ہونے لگی  ... اس آمدنی میں سے گورنمنٹ نے پاگل خانہ

 میں تاج الدین باغ اور تاج الدین محل بنوایا تاکہ لوگ حکومتی انتظامیہ کی اس روش پر اعتراض نہ کرسکیں -

 پاگل خانے کے انچارج ڈاکٹر  عبدالمجید صاحب نے ایک رات بابا صاحب کو پاگل خانے کے برآمدے میں ٹہلتے ہوئے پایا تو چوکیدار پر

 بہت خفا ہوئے کہ تم نے کمرے کو بند کیوں نہیں کیا -چوکیدار ... ڈاکٹر صاحب کو لے کر بابا صاحب کے کمرہ پر پہنچا اور انہیں دکھایا  ... کمرہ

 کو تالا لگا ہوا تھا اور بابا صاحب اس میں بند تھے - ڈاکٹر صاحب حیران ہوکر کبھی تالے کو دیکھتے اور  کبھی بابا صاحب کو  ... اتنے میں اندر

 سے بابا صاحب بولے ..."  کیا دیکھتا ہے  ،  ہوا ہی تو ہے آتی بھی ہے اور جاتی بھی ہے - "  

ایک روز ڈاکٹر عبدالمجید صاحب پاگل خانہ آرہے تھے  ... راستہ میں بابا صاحب ملے  ... ڈاکٹر صاحب سے فرمایا ... حضرت ضروری کام سے

 جاتا ہوں - جب ڈاکٹر صاحب پاگل خانہ پہنچے تو بابا صاحب اپنی کوٹھری میں موجود تھے -

ڈاکٹر عبدالمجید خان صاحب کے ریٹائر ہونے کے بعد ڈاکٹر کاشی ناتھ راؤ پونسکر پاگل خانے کے انچارج بنے - وہ طالب علمی کے زمانے

 سے ہی روحانیت کی طرف مائل تھے - ان کے گرو ...  بابا برہمچاری جب ان سے ملنے پاگل خانہ آئے تو دروازے سے ہی پکار اٹھے  ...

 بھائی تاج الدین ..!یہ بچہ تمھارے حوالے ہے  ... اسے سنبھال کر رکھنا - سرکار تاج الاولیاء اس وقت ایک درخت کے نیچے تشریف فرما

 تھے ... وہیں سے بولے  ... اپنی برادری کا ہے کہاں جاسکتا ہے - دونوں بزرگوں کی بات چیت ڈاکٹر کاشی ناتھ راؤ کے لئے حیران کن تھی

 - اسی دن سے ان کے دل میں بابا صاحب کے لئے عقیدت   پیدا ہوگئی اور انہیں اپنا روحانی گرو سمجھنے لگے -


شہنشاہ ہفت اقلیم بابا تاج الدین اولیاء پاگل خانے کو پاگل جھونپڑی کہا کرتے تھے - 1897ء  میں جب آپ پاگل جھونپڑی میں تشریف

 فرما تھے ... آپ کے سگے چچا زاد بھائی سید یوسف صاحب آپ سے ملنے آئے - ان کا طالب علمی کا زمانہ تھا اور وہ گھر والوں کو بتائے بغیر 

... سکندر آباد سے ناگپور آپ کے پاس  آگئے تھے   -

بابا صاحب بہت تپاک سے ملے - کچھ وقت گزرا تو حاضرین کی موجودگی میں آپ نے اپنی زبان مبارک باہر نکالی اور یوسف صاحب سے

 کہا ... "اپنی جیبھ ( زبان ) اس پو لگاؤ  ... یوسف صاحب ہچکچانے لگے  ... پھر بابا صاحب نے اپنا بازو اونچا کیا اور بغل کی طرف اشارہ

 کرتے ہوئے فرمایا  ... یہ تیرے سر پر رکھتا ہوں  ... یوسف صاحب نے دیکھا ،  بابا صاحب کی بغل میں سات تاج جگمگا رہے تھے ... یہ منظر 

دیکھ کر وہ ڈر گئے -

 حاضرین نے انہیں کہا بھی کہ جیسا بابا صاحب فرما رہے ہیں آپ ویسا کریں ... لیکن انہوں نے انکار ہی کیا - سرکار تاج الاولیاء نے ان

 سے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی  ... اس کے بعد کہا ... اچھا خوش رہے گا  ،  اب جا  ،  تو چچا سے پوچھ کر نہیں آیا  ،  وہاں جاکر چچا سے میرا

 سلام بولنا  ،  دل وہاں آنا چاہتا ہے مگر حکم نہیں ہے  ... تاج الدین زندہ ہے  ،  مرا نہیں بول -


حضرت بابا  تاج الدین ناگپوریؒ کی کرامات کا چرچہ ہندوستان کے مختلف مقامات تک پہنچ چکا تھا اور دور دور سے لوگ آکر سرکار سے

 فیض پانے لگے -

اس میں ہندو  ،  مسلم  ،  سکھ  ،  پارسی  غرض کہ ہر قوم کے لوگ ہوتے  ... یہاں تک کہ انگریز عہدیدار بھی بابا صاحب کی خدمت میں

 حاضری دینے لگے  ... ان میں سر انتھونی  میکڈونلڈ    چیف کمشنر   ،   کرنل رو  سول سرجن  سمیت کئی انگریز افسران شامل تھے -

مسلم افسران میں موتی صاحب  سپرنٹنڈنٹ پولیس  ...  حافظ ولایت اللّٰه خان صاحب اسسٹنٹ کمشنر بھی حاضر خدمت ہوئے -

ان کے علاوہ شکردرہ اسٹیٹ کے راجہ  ،  مہاراجہ رگھو ویر  راؤ بھونسلے بھی آپ کے دیدار کے لئے حاضر ہونے لگے -

بابا صاحب کے فیض سے وہ تمام حضرات تو مستفیض ہورہے تھے جو فیس ادا کرکے سرکار کی خدمت میں پہنچ جاتے تھے  ... لیکن ایسے

 بھی ہزاروں افراد تھے جو فیس ادا نہیں کرسکتے تھے  ... وہ محروم تھے ، چنانچہ    پبلک کی طرف سے ایک درخواست   پیش کی گئی  کہ سرکار بابا

  ... پاگل نہیں ہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور ولی اللّٰه ہیں  ... جن کے فیض سے بےشمار مخلوق فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے

 محروم ہے -

اس درخواست پر کمشنر نے حکم دیا کہ قانونی طور پر کوئی شخص ضمانت داخل کرکے سرکار کو لے جائے  ... چنانچہ راجہ رگھو ویر  راؤ

 صاحب کو جیسے ہی علم ہوا  ... آپ نے دو ہزار روپیہ کی نقد ضمانت   پیش کی اور سرکار کو سولہ سال بعد ستمبر  1908ء  کو پاگل خانہ سے

 اپنے محل شکردرہ لے آئے -

بھونسلے خاندان میں اس سلسلے میں ایک مشہور روایت آج بھی موجود ہے کہ ... 1908ء میں سرکار تاج الاولیاء  ... راجہ رگھو ویر راؤ کے

 خواب میں تشریف لائے اور راجہ صاحب سے کہا ... مجھے یہاں سے نکالو -

جس وقت بابا صاحب پاگل خانے سے باہر نکلنے لگے تو فرمایا  ... " یہ جگہ خالی نہیں رہے گی "  ،  چنانچہ اس وقت سے آج تک اللّٰه کے

 برگزیدہ بندوں میں سے ایک نہ ایک عارضی طور پر پاگل خانے میں موجود ہوتے ہیں -

یہاں ناگپور کے پاگل خانے کی تصاویر شائع کی جارہی ہیں جہاں بابا تاج الدین نے اپنی زندگی کے سولہ سال گزارے -


             




حضرت بابا  تاج الدین اولیاء پاگل  خانے کے ایک مقام پر بیٹھ جایا کرتے تھے جہاں زائرین آپ سے ملاقات کیا کرتے ...

یہ جگہ آپ کی بیٹھک کہلاتی ہے -

اس مقام  پر ایک عمارت بنا دی گئی ہے جس پر گنبد ہے -یہاں ہر سال 27جنوری کے دن آپ کی سالگرہ بھی منائی جاتی ہے -      


               






Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2