فقر تاج دینی





فقر  تاج  دینی  



اسلامی فخر کی داستان طولانی ہے  ... فرد و ملت کا عروج باطنی صلاحیتوں کو بیدار کئے بغیر ممکن نہیں -  شرعی تقاضوں کے تحت تزکیہ باطن

 کے بعد ظاہر کا حسن و سنوار زیب دیتا ہے - ظاہر و باطن کی میزان قائم رکھنا فقراء صاحبان امر کا کام ہے -

شریعت کا تعلق تزکیہ نفس  ... رشد و ہدایت اور پابندی احکام کے ذریعے پہلے باطن کی اصلاح ہے پھر ظاہر کی طرف رجوع کرنا ہے -

سلاسل طریقت تو ہیں ہی مقام قلب و روح کی باتیں  ... مقام عشق و امر سے کارفرمائی ... اس لئے صاحبان طریقت نے اول افراد ملت

 کے باطن کی اصلاح کی جانب توجہ دی  ... یہ کام صرف صاحبان امر کے ہاتھوں تکمیل پاتا ہے کیونکہ قلب و روح کی دنیا ہے ہی امر کی دنیا

جب یہ برکت بسم اللہ قلب و روح کی دنیا میں قم باذنی کردیا جاتا ہے  ... اس وقت ہر طالب حق رجوع الی الله ہوجاتا ہے -

  ملت کی زندگی  میں یہ قم باذنی اکثر ہوا ہے - برصغیر  میں بابا فریؒد نے باطن کی جانب رجوع ہونے کی راہ کشادہ کی -  نخل اسلام کا باطن میں

   بیج بونے کی  ضرورت یوں پیش آئی کہ ماوراء الہند  ...  عالم اسلام کی ملی زندگی میں تہذیب و ترقی  ...  علم و دانش  اور کتابی فلسفہ کے دفتر 

کے دفتر  موجود  ہوتے ہوئے صرف ظاہر کا خول رہ گیا تھا -

دین اپنے باطنی انوار اور عشق و محبت کی خوشبو سے معرا  ہوچکا تھا   ...  اس تازہ سرزمین میں گنجائش تھی کہ پھر سے نخل امت کی آبیاری

 ہوسکے    ... تب ہی اگلے زمانے کے  فقراء نے باطن و ظاہر کو توازن میں لاکر  ... کئی صدیوں تک امر الہی کا اجراء اس سرزمین میں فرمایا

 اور ہر اسلامی حکومت کی راہ باطن سے پشت پناہی کی -  بزرگان دین کی وہ تمام داستانیں جن کا ظہور سرزمین ہند پر ہوا   ... آج بھی زبان

 زد خاص و عام ہیں -


بابا تاج الدین اولیاءؒ   کے زمانے تک پھر افتاد زمانہ سے ملت کی باطنی راہ دھندلی ہوتی چلی گئی - قوم نور باطن سے مبرا ہونے  لگی اور

 بات صرف وعظ و نصیحت  ... ظاہری علم کی تدریس اور کتب بینی تک محدود ہوکر رہ گئی  ... گویا امت مسلمہ کے علم و دانش کی وہ ساری

 خوابیدہ صلاحیتیں  ... جن کو فقرائے باطن اپنے اپنے زمانوں میں   بیدار کرکے بلند سطح تک لاتے رہے  ... وہ ظاہری رسم و رواج سے دب

 دب کر بے معنی سی ہوکر رہ گئیں -


حضرت بابا تاج الدین اولیاء 

جب باطنی صلاحیتوں کے اس دفینے کو برآمد کئے بغیر قوم  کو راہ فروغ پر ڈالنے کی کوئی صورت نہ رہی تو 

  حریص علیکم بالمومنین رؤف الرحیم   .... کی شدت کے تحت بابا تاج الدین اولیاء کا ظہور ہوا -

اب انقلابی طریقه سے ہی آتش فشانی قوت کی طرح  ... امت کے باطنی حب و عشق کے  خزانوں کو باہر  لایا  گیا  - مسلمان  ،  ہندو  ،  سکھ

  ،  عیسائی  کہہ اٹھے   ... العشق جزبتہ من جذبات الحق  ... خود غرضی اور عقل و دانش کے فریب سے نکل کر تو ہی تو اللہ ہو سے باطن   بیدار ہوا -
 یہاں محبت کے خزانوں کے علاوہ اور کیا تھا  ... الخلق عیال الله کی معیت میں خلوص  و وفا  ... محبت و خدمت خلق  ... قرب حق کا ذریعہ بن گیا 


ناگپور کے باطنی ماحول کی جلالی شان کی داستانیں ہزاروں ہیں - بابا تاج الدین اولیاءؒ   نے ظاہرداری کو یکسر نظرانداز کرکے باطن اور

 صرف باطن کی جانب رجوع کی راہ کشادہ کی -  باطن میں سوائے عشق و محبت کے کیا ہے اور رجوع الی اللہ کیا ہے کہ انسان  .... اپنے

 ہی خزانہ غیب کو پاکر فتح غیب کرے -  یہ اپنے اندر ڈوب جانا ... حق میں محویت و استغراق ہے  ... سیر النفس ہے -  خود میں ڈوب

 جانے والا لاکھوں میں ایک ہوتا ہے اور وہ بھی الله کے فضل سے   ... ایسی ہستی کو مجذوب کہہ کر ٹال دینا سراسر جہالت و نادانی ہے -


بحر حق میں غوطہ لگائے بغیر کون ہے جو منازل اعلیٰ کی جانب رسائی کرسکا ہے - جذب و انہماک تو انبیاء اور اولیاء کی سنت رہا ہے  ...

 چلہ کشی  ... اعتکاف  ... گوشہ نشینی  ... درجہ بہ درجہ کوہ طور  ... غار حرا کی سنتیں  ... اپنے اپنے مقام کی باتیں ہیں - جذب حق اور عشق کی

 منازل طے کئے بغیر  ... روح اور مقامات امر کی باتیں  ... عرفان ذات اور قرب حق کا  تذکرہ سوائے خود فریبی کے دعوؤ ں  کے اور کیا

 ہے - یہ عشق اور امر الہی قلندروں کی میراث ہے  ... انبیاء کی طرح یہ بھی زمانے کے لحاظ سے بھیجے جاتے ہیں -


پیر  کامل چونکہ توحید کا شہسوار ہوتا ہے  ... یعنی صورت  ،  روح اور حقیقت کی اس میں توحید ہوتی ہے اس لئے اس کی صورت میں ہی

 حقیقت کی رونمائی ہوسکتی ہے -  وجه ربّی کی جھلک اور لقائے حقیقت کا ظہور ایسے ہی آئینوں میں ہوتا ہے جیسے کہ

  بابا تاج الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ   ... مگر وائے تقدیر کی کوتاہی کہ کچھ تو اپنی کثافتوں  ... اپنی عقل و دانش کی شیطانیت میں بابا صاحب

 کی ظاہری شکل و صورت اور انداز تک ہی رہ گئے  ... انہیں مجذوب سمجھتے رہے اور کچھ حق اور مظہر حق میں اپنے وہم و گمان کی دوئی کی

 وجہ سے اس  دولت سرمدی اور نور محمدی صلی الله علیہ وسلم  تک رسائی سے محروم رہ گئے   ... جو اپنے زمانے میں آسمان ولایت پر بدر

 کامل بن کر آیا تھا -

دربار تاج الاولیاء ناگپور شریف انڈیا

بابا تاج الدین کے روحانی آتش فشاں نے باطن انسانیت میں  ... مٹی کے ڈھیر میں صدیوں سے دبے جذبات کو پھاڑ کر
 روحانی قوت بخشی - آپ کی ہستی ... روحانی ذوالفقار علی علیہ السلام ہاتھ میں لے کر ساری الحادی قوتوں  ... مادہ پرستی اور ظاہرداری سے ادا کردہ رسوم کے خلاف حق کی آواز تھی  اور حق کی آواز ہے  ... تم مجھہ میں سما جاؤ اور میرا بول بالا کرو -

جاننا ہے کہ باطن کی تبدیلی ظاہری اعمال  ،  وعظ  و نصیحت   ،  رشد و ہدایت سے نہیں ہوا کرتی  ... اس کا تعلق عقل سے نہیں  ،  قلب وروح سے ہے -  باطن کا راستہ بتانے والے کی اس انحطاط کے زمانے میں سخت ضرورت تھی - بابا تاج الدین نے یہی کیا کہ عشق کے ذریعے باطن کو روشن کیا اور وصل کا راستہ کھول دیا  ... وصل کا راستہ یہی ہے کہ کسی کے عشق میں اپنے آپ کو فنا کردو  ...  اپنی بتی کسی دئیے میں ڈال دو -
یہ عشق محبوب کو سمو لینے والی بات ہے  ... وصل کا مقام ہی ولایت کا مقام ہے اب واصل باللہ  ... فنا فی الرسول صلی الله علیہ وآ له وسلّم   ... فقیر بابا تاج الدین اولیاء کے مقام کا خود اندازہ لگالیں اور اس کو سمجھیں کہ ولایت  ،  وصل کے بعد کی حیات کی تفسیر ہے -

بابا تاج الدین نے وصل کا راستہ کھولا اور بندہ کا ناطہ حق سے جوڑا ... اور اس سبق کی شدت سے تجدید کی ہے کہ جب ہمارا ظاہر اس سرائے خانے میں چار دن کا مہمان ہے تو اس کی خاطر کیوں اپنی توجہ صرف کریں   ... باطن جو ابدی ہے اس کے لئے کیوں نہ ہمہ تن وقف ہوجائیں -
قلب کی دنیا اور روح کی سلطنت میں قدم رکھ کر کیوں نہ ذات تک رسائی حاصل کریں -  شیخ عبدالقادر جیلانؒی فرماتے ہیں  ... مخلوقات سے فنا ہوجاؤ  ... خواہشات کو مردہ کرلو  ... تمام ارادوں سے فنا ہوجاؤ تو اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی اور دائمی حیات میں آجاؤ گے جس کے بعد موت کا وجود ختم ہوجائے گا -

طالبین حق کے لئے شہنشاہ ہفت اقلیم  بابا  تاج الدین  اولیاءؒ  نے یہ کیا کہ قلوب پر اسرافیلی  نسبت سے دم عشق سے وہ صور پھونکا کہ ان کی سوئی ہوئی روح اٹھ کھڑی ہوئی -
  یہ صور پھونکنا یوں بھی کیا کہ امر ربی  ... توجہ کی ایک نظر بابا صاحب نے چلا دی جیسے ایک چھلکتی تلوار   .... 
اور کبھی یوں بھی کیا کہ کشتہ عشق کو دم دیا  ... کیمیا بن گیا  ، ،  نیست سے ہست میں لائے اور طالب کو اپنے الحیات کے خزانے سے کچھ عطا کردیا - 

گو بظاہر سرکار تاج الاولیاء نے جذب میں پردہ کر رکھا تھا  ... مگر بہ باطن اپنے ہی وجود کی مثال پیش کرکے بہت ٹھوس طریقے سے ثابت کیا
 کہ جب روح قدوسیت کے مقام تک پہنچ جاتی ہے  ... مٹی کا یہ جسم جو اس کا قالب  ہے  ... روح کے ساتھ لطافت اختیار کرلیتا ہے  ... خود الحیات میں قائم و دائم رہ کر دوسروں کو بھی الحیات سے وابستہ کردیتا ہے -

گویا بابا صاحب کے سراپا میں لوگوں کو وحدت الوجود بالشہود  کی تصویر جان عالم کا سراپا دیکھنے میں آتا تھا  ... وہ جلال کا جمال بن کر آنکھوں میں سمانا  ... وہ قدوسیت کے انوار و  ،  فیضان رحمت کہ جس طرف بابا تاج الدین نے نظر ڈالی اندھیرے اجالے ہوگئے -

یہ نظر کیا تھی ایک شعاع نور  مستور کہ جس پر یہ نگاہ پڑ گئی اس کا الم نشرح ہوگیا ... یعنی وہ اک نظر کہ جدھر اٹھ گئی برق بن کر گری اور  خانۂ  دل میں رابطہ حسن ازلی کے چراغ روشن کرگئی -

یہ ہے احسان بابا تاج الدین کی ولایت کا  ... فقر تاج دینی   ...   کا  ،   آج بھی بابا صاحب کی یہ نظر   بہ نور الله والی بات کا احسان ہے کہ  خلقت کو مادیت و بت پرستی اور انانیت و خود پرستی کی ظلمات سے نکال کر رجوع الی الحق کراکے فنا فی الذات کردیا ہے -

اس طرح نور اتم نور محمد صلی الله علیہ وسلم کی تجلی میں مقام امر پر اٹھا لیا جانا  ... دربار تاجیہ کا جاری فیضان ہے -

زمانہ شاہد ہے کہ اسی نور اتم میں بہت سے چراغ روشن ہوئے اور اب اگلے زمانوں میں ان کے ذریعے دوسرے چراغ روشن ہوتے چلے جایئں گے -

اب ہمارے لئے بابا تاج الدین اولیاءؒ  کے مشن کا حصہ بننے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے خود ذات مظہر حق یعنی بابا صاحب سے محبت
 اور لگن کے جذبہ کو وہ شدت دی جائے کہ اپنی  .. میں .. سے نجات مل جائے  ... پھر اس .. فقر تاج دینی ..  کی زکوٰة اس طرح ادا کرنی ہوگی کہ ... بے سہارا  ،  بے آسرا مسکینوں کو دنیاوی زندگی میں بھی  اور راہ حق میں بھی فیض پہنچایا جائے  ... لہٰذا ہر قسم کے صاحب اقتدار اور  ذمہ دار افراد پر  خلقت کی دیکھ بھال فرض ہوگی -

خلوص  و وفا  ،  محبت اور شفقت اور بے لوث خدمت خلق  ،  ہر سالک کا دن رات کا وظیفہ ہوگا -

گزشتہ کئی صدیوں میں اسلا م کی صحیح چاشنی کو کسی نے   بیان نہیں کیا  ... تبلیغ کے پیچھے تو لگ گئے یا رسم و رواج خانقاہی کو زینت بخشتے رہے مگر دل کی بات نہ ملا نے چھوئی نہ صوفی نے  ... خود ہی سوچیں کہ جب تعلق ہی نہ ہوا تو کیا بسم الله  یا الحمد للہ -

اہل الله بتاتے ہیں کہ پچھلا سب اٹھ گیا  ... اب چشمہ ہی پھوٹنا ہے فقر کے باطنی نظام کا  ... جس کی بنیاد بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ نے رکھی تھی  اور جس کی شاہراہ اس صدی میں   شہنشاہ ہفت اقلیم  بابا  تاج الدین  اولیاءؒ  نے کھول دی ہے -

وہ باطنی نظام پھل دے چکا ہے  ،  اب وقت آگیا ہے فتح مبین کا   ،  عالم امر میں اب انقلاب ہے  ... اب نئی دنیا ہی بننی ہے  ... پرانی ضعیف ہوچکی ہے اور علاج کی کوشش بےکار ہے -
ولی الدین    پشاور 

Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2