تاج الاولیاء کا ظہور
تاج الاولیاء کا ظہور
انیسویں صدی کے نصف آخر کا زمانہ برصغیر میں اہم تبدیلیوں کا زمانہ تھا ... ہماری تاریخ میں اس کو مغرب کے مادی نظریات کے نفوذ
کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے ... لیکن یہی زمانہ روحانیت کے قطب مدار حضرت بابا تاج الدین اولیاء کے ظہور کا زمانہ بھی ہے -
ایک روایت کے مطابق اس دنیا میں آپ کا ورود مسعود 1861ء میں ہوا تھا - 1857ء کی جنگ آزادی کی شکست کے نتیجے میں مغرب کی
مادیت کو بالادستی حاصل ہوگئی تھی اور ہماری روایتی روحانیت جس کا اثر پہلے خانقاہ سے خانوادہ شاہی تک ہوا کرتا تھا ... اب صرف
مہمان سرائے فقراء بن کر رہ گئی تھی -
مادیت کی بالا دستی کے سبب مادی افکار کی یلغار مغرب کی جانب سے ہورہی تھی اور لوگوں میں پیروی مغرب کا رجحان بڑھتا جارہا تھا -
اس نازک صورتحال میں حضرت تاج الاولیاء کے ظہور کی حقیقت اور معنویت کیا ہے ؟
تاریخ کے اس اہم موڑ پر آپ کا ظہور ... محض ایک امر اتفاقی تھا یا اس ظہور کے پس پردہ کوئی الوہی حکمت کارفرما تھی ؟
بالفاظ دیگر مادیت کی یلغار کے اس دور میں ... روحانیت کے اس چراغ مصطفوی صلّ الله علیہ وسلّم کا ظہور کیوں ہوا ؟
یہ ایک اہم سوال ہے ... اس سوال کا صحیح جواب معلوم کرکے ہی ہم تاج الاولیاء کے ظہور کی حقیقی معنویت کا سراغ لگا سکتے ہیں -
ایک مؤرخ کی عقل اس سوال کا کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دےسکتی ... مؤرخ کی عقل تو محض خارجی واقعات کی کڑیوں کو جوڑتی
ہے اور ان کڑیوں کو جوڑنے میں مادی نقطہ نظر سے کام لیتی ہے ... وہ حکمت الٰہیہ کے اسرار تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی یہی وجہ
ہے کہ یہ ظاہری ناقص عقل جب اولیاء اللہ سے ظاہر ہونے والے واقعات کا سامنا کرتی ہے تو سراپا حیرت بن جاتی ہے ...
البتہ ایمانی بصیرت اس راز سے واقف ہے کہ ... فطرت الٰہیہ نار نمرود کے مقابل گلزار ابراہیم کو سرسبز و شاداب کرتی ہے ....
فرعون کی تمکنت کے مقابل ضرب کلیمی کی سطوت لاتی ہے اور شرار بولہبی کے مقابل شمع رسالت محمّد صلی الله علیہ وآ له وسلّم کو
روشن کرتی ہے ... فطرت الٰہیہ ہمیشہ باطل کے مقابلے پر حق کو لاتی ہے اور حق کا بول بالا کرتی ہے -
ایمانی بصیرت اس راز سے بھی واقف ہے کہ نمرود ... فرعون اور ابولہب جیسے باطل پرست لوگوں کے پاس وسائل کی فراوانی
ہوتی ہے اور وہ ظاہری قوت و شوکت بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے مقابل جو حق نما اور حق افروز ہستیاں ہوتی ہیں ان کے پاس نہ مادی
وسائل کی فراوانی ہوتی ہے اور نہ ظاہری قوت و شوکت البتہ ان کے پاس ایک ایسی مخفی اور پراسرار قوت ضرور ہوتی ہے جس کے
سبب ان کو باطل کے مقابلے میں کامیابی نصیب ہوتی ہے -
آیئے اس ایمانی بصیرت کے وسیلے سے ہم تاریخ کے ایک نازک مرحلے پر بابا تاج الدین کے ظہور کی معنویت دریافت کریں - کئی
صدیوں پہلے ہماری تاریخ میں زوال بغداد کے بعد بھی ایک نازک مرحلہ آیا تھا ... اور اس نازک مرحلے پر بھی بڑے بڑے صوفیاء نے
ظہور کیا تھا اور گرداب میں پھنسی ہوئی امت کی کشتی کو سہارا دیا تھا ... اس لئے آئیے دیکھتے ہیں کہ 1857ء کی رستاخیز کے بعد
برصغیر میں حضرت تاج الاولیاء کے ظہور کی کیا معنویت ہے -
برصغیر کی تاریخ میں فہم رکھنے والے جانتے ہیں کہ 1857ء میں مغرب نے ہمارے اوپر صرف سیاسی غلبہ حاصل نہیں کیا تھا بلکہ یہ ایک
ہمہ گیر غلبہ تھا ... جس کی گرفت میں ہماری تہذیب ... علوم و فنون ... ادب ... افکار ... عقائد ... سب آگئے تھے -
ہماری روائتی اقدار حیات پامال ہورہی تھیں ... ان اقدار پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جارہا تھا اور مادی افادیت پرستی کا رجحان
معاشرے میں عام ہوتا جارہا تھا - مغرب زدہ لوگ خدا پرستی کے بجائے فطرت پرستی کی طرف مائل ہوگئے تھے - ہمارے روائتی علوم
و فنون کی اہمیت و وقعت ختم کی جارہی تھی -
تعلیم کے میدان میں لارڈ میکالے کی حکمت عملی گل کھلا رہی تھی اور ادب میں کرنل ہالرائیڈ حالی کو نیچرل شاعری اور افادی ادب کا
درس دے رہے تھے - حالی نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ ... حالی اب آؤ پیروی مغرب کریں ... بعض مقتدر حضرات خفیہ طور پر مغرب
کے گرویدہ ہوگئے تھے اور علانیہ طور پر یہ کہتے تھے کہ وہ اہل مشرق کی فلاح کے لئے کام کررہے ہیں ... حد یہ ہے کہ مذہب میں عقلیت
پرستی کا رویہ رونما ہوگیا تھا اور خدا کے عطا کردہ مذہب کی ایسی تشریح کی جارہی تھی جو اس وقت کے مغربی انسان کے سائنسی نظریات کے عین مطابق ہو -
مختصر یہ کہ مغرب کی پیروی کرنے والوں نے صرف مغرب کو ہدایت کا سرچشمہ تصور کرلیا تھا ... اس بناء پر ہمارا اپنا جو کچھ تھا اس کو یا تو
مغرب کے مادی نظریات کے مطابقت میں لایا جارہا تھا ... یا فضول سمجھ کر رد کیا جارہا تھا ... صرف یہی نہیں بلکہ روحانیت کے حقیقی
سرچشمہ سے ہمارا تعلق منقطع کرکے ... مغربی مادیت سے ہمارا رشتہ استوار کرنے کی کاروائی بھی کی جارہی تھی ...
چنانچہ مغرب نے اپنی برتری کے زعم میں ہم کو یہ سبق پڑھایا تھا کہ حقیقت صرف ہمارے حواس کی مادی اور مرئی دنیا تک محدود ہے ...
اس مادی دنیا سے اوپر کوئی حقیقت نہیں اور بالفرض کوئی غیر مادی اور غیر مرئی حقیقت کہیں اوپر ہو بھی تو اس کی تصدیق کے سائنسی
ذرا ئع ہمارے پاس نہیں ... اس لئے اس اوپر والی یا ماوراء حقیقت کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے- اس سبق کو پیروی مغرب والوں
نے ذہن نشین بلکہ دل نشین کرلیا تھا ... اس طرح حقیقت لا منتہٰی سے ہمارا ناطہ توڑنے کا کام شروع ہوچکا تھا کہ ...
شہنشاہ ہفت اقلیم بابا تاج الدین اولیاء کا ظہور ہوا اور آپ کے روحانی کمالات کا شہرہ تھوڑے ہی عرصے میں برصغیر کے گوشے گوشے میں پہنچ گیا -
ایمانی بصیرت کے نقطۂ نظر سے اس مرحلے پر آپ کا ظہور ہرگز ایک اتفاقی امر نہیں تھا بلکہ ایمانی بصیرت یہ گواہی دیتی ہے کہ آپ مادیت
کے فروغ کے اس دور میں روحانیت کی بالادستی بحال کرنے کے لئے تشریف لائے - مؤرخ کی عقل بھی خارجی واقعات کی شہادت کی
بناء پر حتمی طور پر یہ نتیجہ اخذ کرسکتی ہے کہ آپ کا ظہور مادیت کے طوفان کو روکنے کے لئے تھا -
مستند شواہد اس بات کے موجود ہیں کہ آپ کی قدسی الاصل ذات سے وہ روحانی کمالات ظاہر ہوئے جو بے بصیرت مادیت کے خواب و
خیال میں بھی نہیں آسکتے - مادی سائنس اپنی ڈاکٹری اور سرجری پر نازاں تھی اور آپ چشم زدن میں مردے کو زندہ کردیتے تھے -
بابا تاج الدین اولیاء نے مادیت کے خلاف علمی موشگافیاں نہیں فرمائیں اور نہ مناظرہ بازی سے کام لیا ... کیونکہ علمی موشگافیوں اور
مناظرانہ حجتوں میں مزید گفتگو کی گنجائش باقی رہتی ہے بلکہ آپ نے روحانی حقیقت کو برسر عام آشکار کردیا کہ ... آفتاب آمد دلیل آفتاب
... آپ کی کرامات کے سبب پیروی مغرب والوں کو خیال آیا کہ روحانی حقیقت بھی کوئی شے ہے ... کوئی بڑی شے اور عوام میں مغربی
پیروی کا جو طوفان اٹھا تھا وہ دب کر رہ گیا ... حد یہ کہ مادیت پرست انگریز افسران بھی آپ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کے روحانی
تصرف سے انہوں نے فائدہ اٹھایا -
اس طرح مادیت کی سرفرازی کے مقابل آپ نے روحانیت کی بالا دستی کو بحال فرمادیا ... اور یہی وہ الوہی مشن تھا جس کی تکمیل کے
لئے آپ تشریف لائے تھے - بعض لوگوں نے روحانیت دشمنی میں اور بعض نے اپنی کوتاہ فہمی کے باعث ... آپ کے بارے میں یہ
بات مشہور کردی کہ آپ محض ایک مجذوب تھے -
اس بات کو مشہور کرنے سے روحانیت کے دشمنوں کا تو یہ مقصد تھا کہ آپ کی روحانیت کا سلسلہ آگے نہ چلے کیونکہ مجذوب کے پیچھے
کوئی سالک نہیں چلتا لیکن کوتاہ فہمی کی بناء پر جن حضرات نے آپ کو مجذوب سمجھا
... وہ ایک طرح دور کے تماشائی تھے ... انہوں نے محض حالت جذب میں آپ کو دیکھ کر یا صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے یہ
قیاس کرلیا کہ آپ مجذوب ہی ہوں گے ... حالانکہ یہ ایک نامناسب رویہ ہے اگر وہ اس بات کی طرف توجہ دیتے کہ بابا صاحب کے
روحانی فیض سے کتنے ہی افراد نے راہ سلوک طے کی اور واصل باللہ ہوۓ ... تو ان کی غلط فہمی دور ہوجاتی -
حالات خواہ کچھ بھی رہے ہوں ... روحانیت کے دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور کوتاہ فہموں کی کوتاہ فہمی کے باوجود ... روحانیت کا وہ
چراغ مصطفوی صلی الله علیہ وآ له وسلّم بڑی آب و تاب کے ساتھ روشن ہوا اور اس چراغ سے سینکڑوں چراغ روشن ہوئے جن کی
بدولت سلسلہ تاجیہ کا ... نور ہدایت ... دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ رہا ہے -
خدائے برتر مادیت کی آندھی میں ... روحانیت کے ان چراغوں کو سدا روشن رکھے - آمین -
احمد علی سید تاجی

Comments
Post a Comment