ولی ساز
ولی ساز
لاریب جو صدق دل سے خدا اور خدا والوں کا ہوجاتا ہے ... تو وہ ریب ہی سے پاک نہیں ہوتا بلکہ خدا اور خدا والے بھی اس کے ہوجاتے ہیں ... چنانچہ یہ بات مشہور ہے کہ بندہ ایک بار ان کا ہو تو وہ سو بار اس کے ہوجاتے ہیں -
وہ کسی کا احسان پسند نہیں فرماتے وہ تو اللہ کے بندوں کی خدمت کرنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں .. یہاں تک کہ زندگی کو بندگی کے سانچے میں ڈھال کر ما سوا اللہ سے بےنیاز فرما دیتے ہیں -
اہل الله فرماتے ہیں .. جب روحانی شمعیں روشن ہوجاتی ہیں تو گرد و پیش کے تمام ماحول سے تاریکیاں از خود چھٹ جاتی ہیں ... یہاں تک کہ نسل بعد نسل ان کی شعاعیں چھن چھن کر فیوض و برکات لٹاتی رہتی ہیں -
غیر منقسم ہندوستان کا کون سا ایسا اہل دل و اہل نظر ہے جو حضرت بابا سید محمد تاج الدین ناگپوری رحمتہ اللہ علیہ کے نام نامی سے مع کمالات واقف نہیں - اس مرد کامل نے صرف سی پی ہی کو اپنے گوہر یکدانہ سے آب و تاب نہیں بخشی بلکہ سی پی کے اس موتی نے ہر خطہ کو اپنی روحانیت سے مرکز نور و معرفت بنا دیا -
یہ ولی بر حق محض مسلمانوں ہی کا رہنما و پیش رو نہ تھا ... بلکہ تمام ادیان و مذاہب کے صاحبان طلب و فکر ... حاضر دربار ہوکر بقدر ظرف و استعداد استفادہ کرتے تھے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت قائم و دائم رہے گا ... انشاء الله -
حضرات اولیاء کرام کی وفات حسرت آیات عام افراد سے بالکل مختلف ہوتی ہے - وہ حضرات زمان و مکان سے اپنی حقیقت اصلیہ و دوامیہ کی جانب منتقل ہوتے ہیں -مشاہداتی زندگی میں وہ بصورت قطرہ ہوتے ہیں لیکن وصل الی الحق کے بعد بحر ناپید کنار بن جاتے ہیں -
حضرات اولیاء کرام قید حیات سے نکل کر نہایت آزادانہ جلوہ حق بکھیرنے پر قادر ہوتے ہیں حتٰی کہ فیوض و برکات کے وہ دروازے جو قید زندگی میں بند ہوتے ہیں وہ بھی وصال کے بعد کھل جاتے ہیں یعنی وہ زندہ بھی رہتے ہیں تو دوسروں کی زندگی بنانے کے لئے اور جب ... کل من علیھا فان ... کے قانون پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو بھی بندگان خدا کو ... خدا سے ملانے کے لئے .. وہ اس لئے کہ شہنشاہ انبیاء حضرت محمد صلی الله علیہ وآ له وسلّم اور شہنشاہ اولیاء حضرت مولا علی علیہ السلام کا وہ مشن معنوی حیثیت سے تشنہ تکمیل نہ رہے ... جس کے لئے ذات احدیت نے اٹھارہ ہزار عالمین کو معرض وجود میں لانے کا شرف بخشا -
تمام آل کبار و اصحاب ذی وقار و اولیاء کرام ... شمع توحید و معرفت کی ایسی کرنیں ہیں کہ جب یہ کرنیں ... آفتاب نبوت اور ماہتاب ولایت میں مدغم ہوجاتی ہیں تو کرنیں نہیں رہتیں ... کچھ اور ہوجاتی ہیں ... جس طرح قطرہ دریائے وحدت میں گم ہونے کے بعد دریا ہی تصور کیا جاتا ہے -
فی الواقع حضرات اہلبیت اطہار اور حضرات خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد ان کے تربیت یافتہ اولیاء کرام ہی نے تبلیغ و ترویج اسلام کا حق ادا فرمایا - انہی اہل کمال قدسی نفس ہستیوں میں سے ایک حضرت بابا سید محمد تاج الدین اولیاء ہیں - کوئی بزرگ کسی علاقے کے لئے ... کوئی کسی خطے کے لئے مگر اس زریں تاج والے نے سی پی میں رہ کر دنیا کے ہر خطے کو اپنے در ناسفتہ سے جلا بخشی -
شہنشاہ ہفت اقلیم تاج الاولیاء بابا سید محمّد تاج الدین ناگپوری رحمتہ اللہ علیہ دنیا میں رہ کر اہل دنیا کو نواز کر بھی تارک دنیا رہے یعنی وہ بلندئ ذات احدیت کے لئے خود کو ہیچ سمجھتے تھے تاکہ وہی باقی رہے جسے باقی رہنے کا حق ہے ... ہم تو اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں ... یہی جاذبیت و فنائیت بابا صاحب کی زندگئ جاوید کی ضامن ہے -
وہ صرف ولی کامل نہ تھے بلکہ ولی ساز بھی تھے ... جس پر نگاہ پڑگئی دیوانہ کردیا - آپ کا فرمان ہے کہ " آج بھی چلتے پھرتوں کو ولی بناتا ہوں " -
1925 ء میں حضرت شاہ میر سکندر علی رحمانی صاحب نے ایک محفل میں یہ واقعہ بیان کیا ... بوقت وصال بابا تاج الدین اولیاء موسم نہایت شدید و تپش آلود تھا ... لوگوں کو فکر ہوئی کیسے تجہیز و تکفین ہوگی ... بس کچھ وقفہ کے بعد بادل گھر آئے ... اندھیرا چھا گیا ... موسلا دھار بارش ہونے لگی -
اب مزید فکر دامن گیر ہوئی لیکن جنازہ پاک اٹھتے وقت بارش کا نام بھی نہ تھا مگر اس کا نشان ضرور تھا وہ بھی جنتی ہواؤں کی صورت میں چنانچہ عظیم الشان مجمع نے نہایت سکون و فرحت کے ساتھ تدفین میں شرکت کی - یہاں اس نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیں کہ خدا بھی خدا والوں کی ناز برداری فرماتا ہے -
شاہ انصار الہ آبادی
Comments
Post a Comment