شاہ دلق پوش



 


شاہ  دلق  پوش 


قدرت نے حضرت بابا سید محمّد تاج الدین رحمتہ اللہ علیہ کو صالحین اور گروہ صوفیا کی ایسی جماعت کا سرخیل بنا کر سرزمین پاک و ہند میں

 ظاہر کیا  ... جن کے سلسلہ کو جملہ سلاسل تصوف میں ایک نمایاں مقام حاصل ہونا تھا اور جن کی روحانیت کی ضیاء پاشیوں میں روز

 افزوں اضافہ ہونا تھا -

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ  ... جس طرح تالاب کی سطح آب پر رات کو منعکس ہونے والے ستارے صبح کو دھندلا

 جاتے ہیں بالکل اسی طرح سلاسل تصوف اور زمانوں کی نسبتیں قائم ہیں - 

ایک زمانے میں ایک سلسلہ مقبول ہوتا ہے تو دوسرے زمانے میں دوسرا  اور یہ  دستور ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے - سلسلہ تصوف

 کی مقبولیت کا تعین بھی غیبی قوتیں کرتی ہیں -

حضرت بابا سید محمّد تاج الدین کا سلسلہ فیض جس تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے  ... وہ قوی دلیل ہے کہ رب قدیر نے اس سلسلہ کو

 عصر رواں کے مقبول ترین سلسلوں میں ایک امتیاز عطا فرمایا ہے اور کیا عجب ہے کہ اس صدی کے اختتام تک اس کا پھیلاؤ برصغیر 

سے نکل کر باہر کی دنیا میں فیضان عام کرنے لگے -


حضرت بابا سید محمّد تاج الدین نے علم لدنی  ( جسے اہل ہنود  " انبھو شکتی  "  کی اصطلاح سے پکارتے ہیں  )  پر جو ذخائر عرفان متلاشیان

 حق کو منتقل کئے ہیں  ... اس سے تشنگان فیض کے قلوب سیراب ہورہے ہیں - ان کے روحانی معرکے اور مکاشفات مسلمانوں کے

 ایمانوں کو تقویت دینے کا باعث تو تھے ہی  ... مگر جو رنگ تصوف نکھر کر سامنے آیا اس نے اہل ہنود کی نظروں کو بھی خیرہ کردیا اور وہ

 قبول اسلام کے بعد ان کے پیرو بن کر آشنائے رمز حقیقی ہوگئے -

اسلام کے دائرے میں داخل ہوکر ان پر یہ راز کھلا کہ جس  "  انبھو شکتی  "  کی درات کو وہ ویرانوں اور رہبانیت میں تلاش کرتے رہے ہیں

  ... اور وہ دستیاب نہ ہوتی تھی  ... وہ مقام بے بہا  ... اقلیم روحانیت کے ایک شاہ دلق پوش  حضرت بابا سید محمّد تاج الدین کے قدموں

 میں بیٹھ کر اور اعمال صالح  اور خدمت انسانیت کا شعار اختیار  کرنے سے   ... اب ان کی دسترس میں دکھائی دینے لگی ہے -


کلام معرفت مجازیب و صوفیا کی زبان سے ادا ہوتا ہے تو اس میں قلت الفاظ اور کثرت معنی ہوتے ہیں  ... اگر اس کی شرح نہ کی جائےتو

  ہر شخص بقدر اپنی استعداد اور قابلیت کے ان کلمات کے معنی نکالتا ہے جس سے ابہام بڑھتا ہے - یہ مشکل اس لئے پیش آتی ہے کہ

 مکاشفات کی حقیقت دنیوی زبان اور اس کے محدود المعنی الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی  - تصوف کو اسی لئے

  INCOMMUNICATIVE سمجھا جاتا ہے -

مجازیب اور صوفیاء کا کلام اور ان کے فرمودات  ... دنیا داروں کی قوت ادراک سے برتر اور ارفع ہوتے ہیں -  اس کا واحد حل یہ ہے کہ

 صوفیاء کے شارحین  ... وہ لوگ ہوں جو صوفیاء کے ارشادات کی حقیقت کو اپنے قلب میں مشاہدہ کرسکیں کیونکہ شارح کا یہی درجہ اسے

 اس مقام پر فائز کرتا ہے کہ وہ استعاروں اور رمز  و کنایہ میں کہے گئے اسرار کی عقدہ کشائی کرے اور استقلال شہادت اور ظہور حقیقت کی

 آسانیاں پیدا کرے -


   شکر  کن  مر  شاکراں  را  بندہ  باش            پیش ایشاں مردہ  شو  پائندہ  باش 
                                            
                                                                              شکر  کر  اور  شکر گزاروں   کا  غلام  بن           ان کے سامنے مردہ بن اور عمر دوام حاصل کر 

احمد غزالی شہیدی  لاہور 


تصوف میں  ... دلق  ... ایک خاص قسم کا لباس ہوتا ہے جسے  صوفی یا فقیر   پہنتے ہیں   جو عام طور  پر موٹا اور  پرانا ہوتا ہے ،  اور بعض

 اوقات   پیوند لگا ہوا ہوتا ہے  ... اسے خرقه بھی کہتے ہیں -


Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2