واکی شریف -- 1
واکی شریف
1908ء میں سرکار با باتاج الدین اولیاء کو پاگل خانے سے باہر نکالنے کی کوششیں ہورہی تھیں ، کاشی ناتھ پٹیل صاحب کو اس کی اطلاع
مل چکی تھی ، جس دن سرکار باہر تشریف لارہے تھے ...پٹیل صاحب نے ایک بگھی ، خدمت گاروں کے ساتھ آپ کے لئے بھیجی -جس
وقت سرکار بابا صاحب پاگل خانے کے مین گیٹ پر تشریف لائے ...اس وقت گیٹ پر دو بگھیاں موجود تھیں -ایک کا رخ شکردرہ کی
طرف تھا اور دوسری بگھی کا رخ واکی کی طرف تھا -راجہ رگھو ویر راؤ ...ہاتھی ، گھوڑے ، اونٹ اور دیگر سازوسامان کے ساتھ پہنچے تھے
سرکار ، راجہ رگھو جی راؤ کے ساتھ شکردرہ چلے گئے -
سرکار تاج الاولیاء ، شکردرہ میں زیادہ دن نہیں ٹہرے -کاشی ناتھ پٹیل صاحب کے خاندان میں یہ بات مشہور ہے کہ شکردرہ میں ایک یا
ڈیڑھ ماہ قیام کے بعد ایک روز بابا صاحب نے راجہ صاحب سے کہا "بڑے بھیا !ایک میان میں دو تلوار نہیں رہتی ...ہم چلے اپنے نانا
کے پاس -"
کچھ روز بعد ہیرا لال کوچوان سے فرمایا ..." ہماری گاڑی لگاؤ ، اپن چھپ کے جنگل گھومنے جاتے جی "...ہیرا لال نے تانگہ تیار کیا ...
بابا صاحب لوگوں سے چھپ کر تانگے تک پہنچے اور سوار ہوئے -سرکار تاج الاولیاء نے اپنے تانگے کے گھوڑے کا نام بہادر رکھا تھا
...آپ کی عادت مبارکہ تھی جب تانگہ میں سواری کرتے تب بہادر کو مطلق العنان کردیتے ...یعنی ہیرا لال کو اس کی لگام کھینچنے کی
اجازت نہ ہوتی تھی ، بلکہ جہاں سرکار چاہتے ، بہادر خود ہی اس راستے پر چل پڑتا تھا -
اس موقع پر بہادر نے واکی کا رخ کیا -واکی سے چار میل پہلے پاٹن ساؤنگی کے مقام پر پہنچے تو آپ نے تانگے کو روکا اور وہاں اتر گئے -
ہیرا لال کو واپس جانے کا حکم دیا ...وہ تانگہ لے کر واپس چلے گئے -
یہاں آپ کو واکی کے رہنے والے کچھ لوگ ملے جو اپنے گاؤں واکی جارہے تھے -بابا تاج الدین نے ان سے مخاطب ہوکر اپنے مخصوص
انداز میں فرمایا ..."واکا جانا ہے ڈھاکا کے یاں "...ان لوگوں نے اندازہ لگایا کہ واکا کا مطلب واکی ہوسکتا ہے اور ڈھاکا بولے تو مال گزار
ڈھاکے پٹیل -جب یہ لوگ واکی پہنچے تو کاشی ناتھ پٹیل صاحب سے ملے اور انہیں بتایا کہ پاٹن ساؤ نگی پر ایک مست فقیر ایسا بولتے ہیں
-پٹیل صاحب ...بابا صاحب کے اس انداز سے واقف تھے ...وہ سمجھ گئے کہ سرکار تشریف لائے ہیں -
پٹیل صاحب نے اپنے گھر والوں اور عزیزوں کو ساتھ لیا اور چار بیل گاڑیاں لے کر بابا صاحب کو لینے پاٹن ساؤ نگی پہنچے -کاشی ناتھ
صاحب نے بابا صاحب کو اپنی بیل گاڑی میں سوار کیا اور اپنے گھر واکی لے آئے -
اس واقعہ کی خیالی پینٹنگ ...واکی شریف دربار اور دیگر مقامات پر خوبصورت فریم میں آویزاں ہے - جس گاڑی میں سرکار بیٹھے وہ آج بھی
دربار واکی شریف میں موجود ہے -اس گاڑی میں سرکار تاج الاولیاء کے بیٹھنے کے بعد آج تک کوئی بیٹھا نہیں -کاشی ناتھ صاحب نے اپنی
تین منزلہ حویلی کو خالی کیا اور سرکار کو وہاں ٹہرایا -
ناگپور اور اطراف کے لوگوں کو جلد ہی معلوم ہوگیا کہ سرکار تاج الاولیاء واکی تشریف لے گئے ہیں چنانچہ زائرین اور مراد مندوں کا رخ
واکی کی طرف ہوگیا -کاشی ناتھ پٹیل صاحب اور ان کے گھر والوں نے ...بابا صاحب سے ملنے کے لئے آنے والے زائرین کی بہت
خدمت کی -
سرکار اس حویلی میں تین سال تک ٹہرے ...لوگ جوق در جوق یہاں آنے لگے اور ہجوم زیادہ ہونے لگا -تین سال بعد ایک روز
بابا صاحب نے پٹیل صاحب سے فرمایا ... " نانا ! گھر میں بہو بیٹی رہتی ، اپن یہاں سے دور چلتے جی "- سرکار تاج الاولیاء نے کاشی ناتھ
کا ہاتھ پکڑا اور گھر سے باہر نکل آئے ... گھر سے نکل کر کھیتوں میں گھومتے رہے اور ایک املی کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے
اور فرمایا ... " یہیں رکتے" -
پٹیل صاحب نے یہاں پر ایک گھاس پھونس کی جھونپڑی بنا دی ، پلنگ رکھا اور کچھ آدمی ..نوکر ، بابا صاحب کی خدمت میں رکھے -
اس وقت راجہ رگھوجی راؤ نے بھی چند خدمت گار ، بابا صاحب کی دیکھ بھال کے لئے بھیجے ...ان میں سپاہی اور پہلوان شامل
تھے -سرکار تاج الاولیاء نے اس املی کے درخت کے نیچے قریب نو ( 9) سال گزارے -
حضرت بابا تاج الدین اولیاؒء نے واکی شریف میں کاشی ناتھ راؤ پٹیل صاحب کی زمین پر خدمت خلق کے کئی مراکز قائم کئے ، جن سے
آج بھی مخلوق فیض حاصل کر رہی ہے -
شفاء خانہ :
پٹیل صاحب نے جس جگہ آپ کی قیام گاہ بنائی تھی ، اس سے دو فرلانگ آگے جاکر ایک آ م کے درخت کے قریب کھڑے ہوکر آپ
نے فرمایا ... یہ ہمارا شفاء خانہ ہے - آپ لاعلاج مریضوں کو حکم دیتے ... ہمارے شفاء خانہ میں داخل ہوتے ، اچھے ہوجاتے - بعض
مریض اس خطہ زمیں پر چند گھنٹے قیام کے بعد ہی ٹھیک ہوجاتے ... بعض دو چار روز قیام کرکے تندرست ہوکر روانہ ہوجاتے -
مدرسہ :
شفاء خانے سے کچھ دور مغرب کی جانب کھڑے ہوکر فرمایا ... یہ ہمارا مدرسہ ہے - اس مدرسہ والی جگہ پر آپ کند ذہن طلباء کو بیٹھ کر
پڑھنے کے لئے حکم فرماتے - بچے وہاں بیٹھ کر پڑھتے اور چند روز ہی میں ذہین طالب علم ہوکر نکلتے -
عدالت :
مدرسہ سے دو فرلانگ آگے ایک جگہ کھڑے ہوکر سرکار نے فرمایا ... یہ ہماری عدالت ہے - مقدمات سے پریشان حال حضرات کو آپ
اس جگہ ٹہرنے کا حکم فرماتے - اس جگہ آم کا درخت تھا ، جس کے سائے میں آپ تشریف رکھا کرتے تھے - روایت ہے کہ اس مقام پر
ایک پھانسی کے مجرم کو اس کی آخری خواہش پوری کرنے کے لئے لایا گیا - اس کی آخری خواہش تھی کہ ... وہ سرکار بابا تاج الدین
اولیاء کا دیدار کرنا چاہتا ہے -
بابا صاحب نے تصرف فرمایا اور اس کی پھانسی کی سزا ختم کردی گئی ... وہ شخص باعزت بری ہوگیا -
آم کا درخت عرصہ ہوا گر چکا ہے ... اس جگہ ایک نشان بنادیا گیا ہے - پھانسی کے مجرم کے واقعہ کی خیالی پینٹنگ بھی یہاں آویزاں ہے
- آج بھی لوگ دور دور سے یہاں آتے ہیں اور عرضیاں لکھ کر بابا صاحب کی عدالت میں جمع کراتے ہیں - اس مقام کو بابا صاحب کا
ہائی کورٹ بھی کہا جاتا ہے -
مسجد :
آپ نے اپنی قیام گاہ سے بالکل قریب کھڑے ہوکر ... اس جگہ کے لئے فرمایا ... یہ ہماری مسجد ہے - بے راہ روی کے شکار افراد کے
لئے حکم فرماتے ... ہماری مسجد میں بیٹھ کر اللّه الّله کرتے -
پریڈ گراؤنڈ :
اسی علاقے کی زمین کے ایک خطہ پر کھڑے ہوکر اسے پریڈ گراؤنڈ قرار دیا - اس پریڈ گراؤنڈ پر آپ نے بیرون ملک جنگوں کی کمان کی -
![]() |
| کاشی ناتھ پٹیل سرکار تاج الاولیاء کو واکی شریف لے جاتے ہوئے |
![]() |
| وہ گاڑ ی جس میں سرکار واکی تشریف لائے |
![]() |
| مین گیٹ واکی دربار شریف |
![]() |
| واکی دربار شریف |
![]() |
| املی کا وہ درخت جس کے سایہ میں سرکار تاج الاولیاء نو سال تک تشریف فرمارہے درخت کے ارد گرد عمارت تعمیر کردی گئی ہے جسے واکی دربار شریف کہا جاتا ہے |
![]() |
| کاشی ناتھ پٹیل سرکار تاج الاولیاء کے قدموں میں اصل فوٹو گراف پٹیل صاحب کے خاندان میں موجود ہے |
![]() |
| شفاء خانہ بابا صاحب واکی شریف |
![]() |
| بابا صاحب کا ہائی کورٹ واکی شریف |






.png)



Comments
Post a Comment