طرز تعلیم -- 1

ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


طرز تعلیم 

سرکار تاج الاولیاء کے دربار میں بظاہر ذکر اذکار اور اشغال ووظائف کا کوئی خاص معمول نہیں تھا البتہ ہر شخص کی تربیت باطنی

 اور تزکیہ نفس کا بڑا اہتمام تھا - کسی کو حکم ہوتا کہ وہ کھانا چھوڑ دے یا کم کردے  ... کسی کو کم سونے کا حکم دیتے  ... کسی سے

 فرماتے زیادہ وقت خاموش رہے اور کسی کو گوشہ نشینی کی ہدایت فرماتے  ،  غرض کہ ہر شخص کو اس کے مناسب حال حکم ملتا -

یہ سب امور اہل ظاہر کی نظر میں خلاف شرع معلوم ہوتے تھے ،  اس لئے وہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عمل شرعاࣧ جائز نہیں یا شریعت

 کے خلاف ہیں مگر وہ حضرات یہ نہیں سمجھتے تھے کہ معالج اپنے مریضوں کو جائز چیزوں کا بھی پرہیز بتاتے ہیں - اسی طرح روحانی طبیب

 بھی سالک کے امراض باطنی کا علاج جائز امور کی ممانعت سے کر سکتا ہے -

قاضی سید امجد علی شاہ تاجی صاحب بیان کرتے ہیں  ... ایک مرتبہ حسب معمول بابا تاج الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوا ،  جیسے ہی

 قدم بوسی کی ،  سرکار نے فرمایا   ،"    بہت کھانے لگا رے  ،  آج سے تیرا کھانا بند  ،  چائے پیتے اچھے رہتے  "-  اجازت کے بعد جب اپنی

 جھونپڑی میں پہنچا تو اہلیہ سے کہا کہ ایک کیتلی چائے بنا لو  ،  چنانچہ اہلیہ نے اسی وقت چائے بنا دی جسے میں صبح سے شام تک  پیتا رہا -

صبح حسب معمول حاضر ہوا ،  سرکار نے فرمایا  ..."  ہم نہ کہتے تھے بہت کھانے لگا ہے  ،  صبح سے شام تک چائے پینے کے لئے کب

 کہا تھا  ... صرف تین   پیالی تین وقت کالی چائے پیتے اچھے رہتے  ،  اس کے علاوہ کچھ کھاتے اور  نہ پیتے "-   

اس پر سرکار نے نوے دن عمل کرایا -

ایک مرتبہ دل میں خیال آیا کہ بیوی بچوں کو  ساتھ رکھ کر احکام کی تعمیل میں رکاوٹ ہوتی ہے اس لئے ان کو ناندورہ  ... اپنی پھوپھی کے

 گھر چھوڑ آیا - چند ہی روز بعد بابا صاحب نے حکم دیا  ،"  جورو کو نہیں ستاتے رے ساتھ رکھتے اس کو بھی کھلاتے ہم کو بھی کھلاتے  "-

چنانچہ حکم کی تعمیل میں پہلی ٹرین سے گھر گیا اور معہ پھوپھی اور پھوپھی زاد بہن  کے سب کو لے کر آیا اور سرکار میں حاضر ہوا -

بابا تاج الدین اولیاء کی خدمت میں رہتے ہوۓ مجھے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ایک شیخ  تشریف لائے -  سرکار کی حاضری میں ان کا

 سرکار سے کیا معاملہ ہوا ،  اس کا تو مجھے علم نہیں لیکن جب وہ میرے پاس آئے تو مجھ سے کہنے لگے  ... تم بہت نیک معلوم ہوتے ہو اس

 لئے تمہیں بتا رہا ہوں کہ بابا صاحب مجذوب ہیں  ... تمہیں کسی سالک بزرگ سے   بیعت  ہونا چاہئیے  ،  تمہیں میں تو مرید نہیں بنا سکتا لیکن

 تم کو اپنے   پیر کے پاس دہلی لے جا کر ان سے بیعت کرادوں گا -

اس کے علاوہ اور بزرگوں کی زیارت کا لالچ بھی دیا اور زبردستی مجھے اپنے ہمراہ دہلی لے گئے اور اپنے   پیر و مرشد کی خدمت میں پیش کیا

 لیکن ان کے   پیر صاحب نے بیعت کرنے سے معذرت کی - جو حضرت ساتھ لے گئے تھے مایوس ہوئے اور اپنی بات نبھانے کے لئے

 مجھے اجمیر شریف  ،  کلیر شریف وغیرہ زیارتیں کراکر روانہ کردیا -

جب میں ناگپور پہنچا اور بابا تاج الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوا تو بابا صاحب  نے مجھے دیکھ کر فرمایا  ... " ہو جی حضرت ! آ لو   پیاز کا

 بھاؤ معلوم کرکے آگئے "-

سرکار تاج الاولیاء خود قائم الیل یعنی شب بیدار تھے اور غلاموں کی تعلیم کے لئے خصوصی طور پر فرماتے ... کم سوؤ -

 آپ پچھلی رات میں کلام پاک کی تلاوت ایسی فرماتے کہ سننے والے حضرات بے ہوش ہوجاتے - سورہ فلق  ،  سورہ ناس  ،  تبت یدا  ،

  الم نشرح  ،  سورہ والضحٰی  ،  سورہ والشمس  ،  سورہ فتح  ،  سورہ یوسف  ،  یٰس شریف  ،  مزمل شریف اور سورہ رحمٰن خود  بھی تلاوت

 فرماتے اور حلقہ بگوشوں کو بھی حکم دیتے -


محمد فرید خان صاحب فضا ہیڈ ماسٹر انجمن ہائی اسکول ناگپور  ... بیان کرتے ہیں  ... میں سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں 1901ء سے

 حاضر ہوتا رہا ہوں - بابا صاحب اکثر مجھے فرماتے  ... کتاب پڑھو  ،  تو میں سورہ مزمل شریف کی تلاوت کرتا  ،  جب میں رَبُّ الَمشرِقِ

 وَالمَغرِبِ لَا إِلٰہَ اِلّا ھُوَ فَاتَّخذِ ہُ وَکِیلا   ... پڑھنے لگتا تو سرکار بھی میرے ساتھ پڑھتے - اس کے بعد  ... اللّه اکبر   الّله اکبر    لا الہ الا اللّہ    اللّه اکبر  

  اللّه اکبر     و للّہ الحمد  ... کئی بار تکرار فرماکر سورہ پوری کرواتے اور مجھ سے مخاطب ہوکر فرماتے  ..." حضرت تم بھی پڑھا کرو ،  ہم بھی

 پڑھتے ہیں  ... بڑی کتاب پڑھتے اللّہ اللّہ کرتے اچھے رہتے "- 

قاضی بابا فرماتے ہیں کہ  .. مجھ غلام کو درود شریف میں محمد کی پہلی میم پر دونوں  لب محبت سے کھولنے اور بند کرکے پھر کھولنے کی تعلیم

 دی - ہر ایک کو تاکید فرماتے  ... اللّہ اللّہ کرتے اچھے رہتے - ایک روز یہ بھی فرمایا کہ  ... جمعہ کی نماز میں سب کچھ ہے -


خان عبدالرحمن خان صاحب تاجی ، ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر بھوپال  ... اکثر بابا صاحب کو نعتیں سناتے - ایک روز بابا صاحب کے ساتھ

 تھے  ... صبح کی اذان ہوئی تو ان کو خیال ہوا کہ میں سرکار کی خدمت میں ہوں  ،  اگر نماز کو گیا تو پتہ نہیں سرکار یہاں سے کہیں چلے جائیں  ،

  وہ اس خیال سے نماز ترک کرنا چاہتے تھے - بابا تاج الدین نے فرمایا ... جا نماز پڑھ -

  ایک جمعہ کو انہی حضرت نے جمعہ کی نماز مسجد میں نہیں پڑھی - حاضر ہوئے تو سرکار نے فرمایا ... کیوں رے  ،  جمعہ کی نماز مسجد میں

 پڑھتے ہیں یا گھر میں  ؟ -

ایک مرتبہ شکر درہ باؤلی کے قریب بابا صاحب تشریف فرما تھے  ،  مغرب کی اذان ہوئی ... سرکار نے حکم دیا  ،  اذان ہوگئی جاؤ  ،  دوبارہ

 پھر فرمایا  ... جاؤ اللّه اللّه کرو - چنانچہ تمام حاضرین نے تعمیل کی -

 دوسرے روز ایک انجمن قائم ہوئی جو دربار کے تمام حاضرین کو نماز کی دعوت دیتی تھی - چند حضرات نے دعوت کے جواب میں کہا کہ

 ہم کو حضور کا سہارا کافی ہے - دوسرے دن جب یہ حضرات ( جنہوں نے نماز کی دعوت کو رد کیا تھا ) سرکار کی قدم بوسی کے لئے حاضر 

ہوئے تو بابا صاحب نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا  .... 

فَمَن یّعمَل مِثقَالَ ذَرّ ةٍ   خَیرً   یَّرہ     وَ مَن یَّعمَل مِثقَالَ   ذَرَّ ةٍ   شَرًّ   یَّرہ 

یعنی  اعمال   خیر   و  شر   کا   ذرہ   ذرہ   محاسبہ   میں   آئے      گا 





Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2