ذوق سماع - - 1

 ذوق سماع 


بابا تاج الدین اولیاءؒ  سماع یعنی قوالی کا ذوق رکھتے تھے  ... خوش الحانی آپ کو پسند تھی - بزم میلاد حکماࣧ  منعقد ہوا کرتی تھی - قوالوں اور

 گانے والوں کو سرکار تاج الاولیاء حاضری کا موقع دیتے  ... اس طرح ان کی دل جوئی اور پرورش ہوتی -

  آپ جب شہر سے باہر جنگلوں میں نکل جاتے  ... تو مجمع کے ساتھ قوال بھی  پیچھے اپنا کلام سناتے چلتے - ایک روز بارش ہورہی تھی  ... 

مجمع ساتھ تھا ... آپ ایک جنگل میں چل رہے تھے اور سب سے آگے تھے  ... قوال کچھ فاصلہ پر تھے اور یہ کلام پڑھ رہے تھے   ...

آدمی   پہلے محبت  میں  بگڑے  تو  بنے 

جب  ملے  خاک میں  دانہ  تو  شگوفہ  نکلے 

بابا صاحب یہ شعر سن کر پلٹے اور رک کر فرمایا  ... ہو حضرت  جیسے ہم بگڑے  - 

ایک مرتبہ اسی طرح قوال مندرجہ ذیل شعر پڑھ رہا تھا ...

عشق  کیا  شے  ہے  کسی  کامل  سے   پوچھا  چاہئیے 

کس  طرح  جاتا  ہے  دل  بے دل  سے   پوچھا  چاہئیے 

چونکہ کبھی کبھی آپ مزاح بھی فرماتے تھے اس لئے اس شعر کے جواب میں آپ نے فرمایا  ... یوں پڑھو  ... کس طرح جاتا ہے دل

 مرچوں سے پوچھا چاہئیے  - بعض اوقات آپ خود یہ بول پڑھتے ... بڑھیا ہوگئی لڑکپن چھوڑ دے -

 ایک مرتبہ قوالی ہورہی تھی ،  ایک شخص کیفیت کی حالت بنا کر  ،  ھو حق کرتا ہوا مجمع سے نکلا اور بابا صاحب کے قدموں میں آ  گرا  ...

 بابا تاج الدین نے فرمایا  ... حضرت! بخار چڑھانا اچھا نہیں ہوتا - اس نے ادب سے عرض کیا  ... حضور کی قدم بوسی اسی بہانے سے

 کرنی تھی -

ایک موقع پر ایک صاحب نے عرض کیا ... بابا صاحب حال کس طرح آتا ہے ؟   وہ صاحب ٹوپی پہنے ہوئے تھے  ... آپ نے ان کی ترکی

 ٹوپی اتار کر زمین پر الٹ کر رکھ دی - جیسے ہی ٹوپی رکھی وہ بھی الٹ گئے  ... خوب اچھلے کودے ،  لوٹ پو ٹ ہوتے رہے  ... جب سرکار

 نے ٹوپی سیدھی کی .. وہ فوراࣧ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے - سرکار نے فرمایا  ... سمجھ گئے حال کیسے آتا ہے -

سید ضیاء الحق صاحب ایک واقعہ سناتے ہوئے بیان کرتے ہیں  ... جب وہ سی  پی میں ...  پولیس کے محکمے میں ... سب انسپکٹر تھے

 ،  ایک رات سرکار کے ہمراہ جنگل  میں تھے - اس وقت بابا تاج الدین اولیاء ایک بہت بڑے سایہ دار درخت کے نیچے تشریف فرما تھے

 ... درخت کی جڑیں زمین پر آکر خم دار ہوگئیں تھیں - ان جڑوں پر بابا صاحب ہاتھ سے تھاپ دے دے کر یہ شعر پڑھنے لگے  ... 

جگ دو دن کی  باجریا   رے سوچ سمجھ کر سودا کرلے 

جگ  دو  دن  کی  باجریا  رے 

یعنی دو دن کی دنیا کا یہ چھوٹا سے بازار ہے اس میں سوچ سمجھ کر سودا کرلے - رات کا وقت تھا ،  ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی  ،

  بابا صاحب کی آواز میں نا قابل بیان سوز و گداز تھا ... آواز میں گریہ کی سی کیفیت تھی - سرکار تاج الاولیاء کافی دیر تک ان جملوں کو

 دہراتے رہے - جو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر تھے ان پر بھی گریہ طاری تھا - 

قاضی بابا صاحب فرماتے ہیں کہ غلام نبی پہلوان کی روایت کے مطابق یہ اشعار بھی سرکار نے پڑھے  ...

جدائی تری کس کو منظور ہے            زمین سخت ہے آسماں دور ہے 

اگر دانستم از روز ازل داغ جدائی را        نمی کردم بہ  دل روشن چراغ آشنائی را 

سائیں مارے سوٹا فرنگی مارے  بان                  گولہ سنسناتا رائے پور کے میدان 


شکر درہ گھوڑ پاگاہ کے سامنے بابا تاج الدین تشریف فرما تھے ... کچھ لوگ رقص کرکے سرکار کو یہ کلام سنا رہے تھے  ... 

کیا بانکا وسیلہ مرا محبوب خدا ہے           جس کی ادا دیکھ کر خالق بھی فدا ہے 

آپ نے ان سے گھونگرو لے کر خود باندھے اور کیفیت میں رقص فرمایا ،  اور یہ اشعار پڑھے  ...

اللّه کی زباں جو تھی محمؐد کی زباں تھی               جو قول محؐمد تھا وہی قول خدا تھا 






Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2