واکی شریف -- 2
واکی شریف
واکی شریف میں بچپ بھائی نے سرکار تاج الاولیاء کے لئے دو بیل کا تانگہ خرید کر سواری میں پیش کیا ... جس کو کلو بنجارہ ، راما کنبی اور
جمن لنگڑا ہانکا کرتے تھے - ایک روز سرکار گھومتے ہوئے کاشی ناتھ راؤ جی کے مکان پر پہنچے - اس وقت وہاں گھر کے لوگ جوار پیس
رہے تھے -
بابا صاحب نے سب کو اٹھا دیا اور خود جوار پیسنے بیٹھ گئے - لوگوں نے دست بستہ عرض کی ... سرکار آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں ؟
ارشاد ہوا ... " ارے چپ رے چپ ... ہمارا ہم جانتے ، مائی جی ( پٹیل صاحب کی بیگم اور نیل کنٹھ راؤ کی والدہ ) پکاتے ، ہم
کھاتے "- سرکار نے ڈیڑھ پائیلی جوار پیس دی ... مائی جی نے اس کی روٹی پکائی ، جس کو سب لوگوں نے تبرک کے طور پر تھوڑی تھوڑی
کھائی -
آپ واکی کو چھوٹا ناگپور فرمایا کرتے تھے - ایک روز بابا صاحب تفریح کرتے ہوئے گاڑا گھاٹ پر تشریف لائے اور بولے ..." اب ہم
یہیں رہتے - دوسرے روز خود فرمانے لگے ... نکو رے ، لوگاں میرے واسطے آ ئیں گے ... ندی میں ڈوب کو مریں گے .... میرا نام لیں
گے ، چلو رے چلو " اور واپس واکی تشریف لے آئے -
واکی شریف میں آپ کم و بیش بارہ برس قیام پزیر رہے - ان بارہ برسوں میں سرکار کبھی کامٹی ... ناگپور اور اطراف میں بھی چلے جایا
کرتے تھے - جن جگہوں پر بابا صاحب اکثر تشریف لے جایا کرتے تھے ، ان میں کابل قندھار ... درگاہ حضرت لشکر شاہ شہید بمقام کھاپا
اور کنہان ندی قابل ذکر ہیں -
کابل قندھار :
واکی کے قریب کنہان ندی کے دوسرے کنارے پر ...ایک پہاڑی ٹیلہ پر ... آپ کبھی کبھی جایا کرتے اور وہاں ایک
پتھر پر بیٹھا کرتے -
روایت ہے کہ کچھ افغان تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے ہوئے تھے - ان افراد کا تعلق افغانستان کے شہروں کابل اور قندھار
سے تھا - اچانک پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی ... سرحدوں پر حالات خراب ہوگئے اور یہ لوگ ہندوستان میں پھنس گئے -
کافی عرصہ گزر چکا تھا اور یہ لوگ اپنے گھر والوں کے لئے بہت فکر مند تھے کہ معلوم نہیں وہ افغانستان میں کس حال میں ہوں گے -
بابا تاج الدین اولیاء اس پہاڑی ٹیلہ پر تشریف فرما تھے ... یہ افغان آئے اور اپنی بپتا سنائی - بابا صاحب نے کہا ، آنکھیں بند کرو یہیں
ہے کابل قندھار - ان لوگوں نے بند آنکھوں سے اپنے شہروں کابل ، قندھار اور گھر والوں کی حالت کا مشاہدہ کیا - اس واقعے کے بعد
سے یہ مقام کابل قندھار کہلانے لگا -
حضرت لشکر شاہ شہید ؒ :
واکی سے کچھ فاصلے پر کھاپا کے مقام پر حضرت لشکر شاہ شہید کی درگاہ ہے - اس مزار مبارک کے مجاور
بھی حضرت لشکر شاہ بابا کی حیات مبارکہ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے - یہ ایک قدیم درگاہ ہے - روایت ہے کہ اس مقام پر آپ کی
شیاطین سے جنگ ہوئی ... اس جنگ میں آپ کے ہمراہ کافی تعداد میں سپاہی بھی تھے - شیاطین میدان چھوڑ کر بھاگ گئے - اس جنگ
میں حضرت لشکر شاہ بابا اور آپ کے ساتھ کئی سپاہی شہید ہوگئے - آپ کے مزار شریف کے اطراف میں ان سپاہیوں کی قبریں موجود
ہیں - کہا جاتا ہے کہ آپ کا سر مبارک قلم کردیا گیا تھا - اس مزار میں آپ کا جسم مبارک دفن ہے جبکہ سر مبارک یہاں سے پندرہ بیس
کلومیٹر کے فاصلے پر مارکن نامی گاؤں میں دفن ہے -
حضرت بابا تاج الدین اولیاء اکثر آپ کے مزار مبارک پر حاضر ہوا کرتے تھے - سرکار تاج الاولیاء درگاہ میں اندر تشریف نہیں لے
جاتے تھے ... فرماتے تھے ... " یہاں شہیدوں کا لہو بہا ہے ، میں قدم کہاں رکھوں " - آپ باہر ہی سے زیارت کیا کرتے تھے اور
حاضری کے لئے پٹیل صاحب کو اندر بھیجا کرتے تھے -
واکی اسٹیشن :
واکی میں قیام کے دوران ایک روز آپ ریلوے لائن کے بالکل قریب کھڑے ہوگئے - ٹرین آئی تو خود بخود وہاں رک
گئی - ریلوے ملازمین نے بہت کوشش کی لیکن ٹرین کھڑی کی کھڑی رہی - ان میں سے بعض لوگوں نے سرکار کو پہچان لیا اور التجا کی کہ
آپ ٹرین پر سوار ہوجائیں - جب بابا صاحب ٹرین پر سوار ہوئے تو ٹرین چلنے لگی - اس روز کے بعد ہر ٹرین جب اس مقام پر پہنچتی تو
خود بخود دو منٹ کے لئے رک جاتی - ریلوے ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کی گئی ... ابتداء میں وہاں فلیگ اسٹیشن بنا ... رفتہ رفتہ مستقل
اسٹیشن ہی مقرر کردیا گیا ... جس کو اب واکی اسٹیشن کہتے ہیں -
![]() |
| کنہان ندی ناگپور انڈیا |
![]() |
| کابل قندھار واکی شریف انڈیا |
![]() |
| کابل قندھار واکی شریف انڈیا |
![]() |
| درگاہ حضرت لشکر شاہ شہید کھاپا ناگپور انڈیا |

درگاہ حضرت لشکر شاہ شہید کھاپا ناگپور انڈیا



.png)


Comments
Post a Comment