ذوق سماع - - 2

 محفل سماع بابا صاحب کی عطا :

                                                                                                         حضرت فرید خان صاحب فضا فرماتے ہیں ... بابا تاج الدین اولیاء واکی شریف کے  جنگل

  کے ایک بنگلہ میں تشریف فرما تھے  ... میں دروازہ کھول کر اندر  داخل ہوا - دو قوال اپنا کلام سنا رہے تھے اور سرکار سکون سے سن رہے

 تھے  ... اس مصرع کی تکرار جاری تھی  ... بھر بھر جام پلا دے ساقی  ... قوال معمولی سا تھا مگر قوالی کی کیفیات غیر معمولی تھیں  ،  مجھ پر

 خاص اثر تھا -

 میں نے اپنے دل میں کہا بابا کا میخانہ تمام دنیا پر کھلا ہوا ہے  ... ساری دنیا فیضیاب ہورہی ہے  ،  کاش مجھے بھی کوئی جام  عطا ہوتا -

 یہ خیال دل میں آنا تھا کہ معاࣧ سرکار نے خادم کو حکم فرمایا ... ایک گلاس پانی دو  ... خادم نے پانی کا گلاس حاضر کیا  ... آپ نے ایک دو

 گھونٹ پی کر گلاس میری طرف بڑھایا - میں گلاس لینے کو بڑھا مگر دل میں کہا  ،  جذب نہیں سلوک چاہتا ہوں - آپ نے ہاتھ واپس کھینچ

 لیا اور خود   پینے لگے - میں نے شرمندہ ہوکر پھر دل میں جام طلب کیا ... آپ نے گلاس پھر میری طرف بڑھاد یا  ... لیکن میں نے دل میں

 وہی کہا ،  جذب نہیں سلوک ... پھر آپ نے ہاتھ کھینچ لیا ،  اسی طرح تیسری مرتبہ گلاس میری طرف بڑھایا مگر بد قسمتی نے میرا ساتھ نہ

 چھوڑا ،  وہ خیال سوار رہا ... یہ خیال آتے ہی حضور نے گلاس کو زمین پر زور سے دے مارا ،  قوالوں کو ڈانٹا ، ڈھولک کے ٹھوکر ماری اور

 جذبی کیفیت میں جنگل کی طرف نکل گئے -


بڑے صاحب کا بینک  :

                                                        بابا تاج الدین اولیاء لال محل میں تشریف فرما تھے  ... شہزادی بائی باہر کھڑے ہوکر ساز پر یہ کلام پڑھ رہی تھیں  ...  

مدینہ  میں مورا    پیا  بالا  ہے  رے 
بالا  ہے   رے  متوالا  ہے  رے 

بابا صاحب محل سے باہر تشریف لے آئے اور شہزادی بائی کو حکم دیا اسی کو پڑھو  ... اس کی تکرار پر آپ پر وجدانی کیفیت

 طاری ہوئی   آپ نے اس کیفیت میں جبہ مبارک کی دھجیاں کردیں اور حاضرین سے فرمایا ... کھڑے ہوجاؤ  ،  

شہزادی بائی سے فرمایا  ... یہی پڑھتی رہو  ... اس موقع پر موجود افراد ،  سرکار کو روپیہ نذر کر رہے تھے - ایک عورت نے اپنے کان کی ایک

 بالی پیش کی ،  جسے سرکار نے قبول نہ کرتے ہوئے  ،  اس پر ہاتھ مار کر گرا دیا  ... اور فرمایا ... سب کی جیب خالی ہوگئی  ،  اب

 بڑے صاحب کے بینک سے اسے عطا کریں گے  ،  چنانچہ آپ نے ہر بار دس روپے نذر کئے اور ہر نوٹ پر فرماتے  ...   یہی پڑھو  -

 اس کی تکرار ایک گھنٹہ رہی - آپ کے حکم سے جب کلام بند ہوا تو شہزادی بائی کے پاس بابا صاحب کے عطا کردہ پانچ سو روپے ہوگئے

 تھے -

سرکار تاج الاولیاء  ... شیخ سعدی  کی نعت کا یہ شعر اکثر پڑھتے تھے 

چہ   غم    دیوار  امت   را   کہ    دارد    چوں تو     پشتیبان 

چہ  باک   از  موج   بحر  آں  را   کہ   باشد  نوح  کشتیبان 



Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2