طرز تعلیم - - 2 مرشد کامل


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


مرشد کامل 


سرکار تاج الاولیاءؒ کے غلاموں میں  ... میں ( قاضی امجد علی تاجی ) سب سے زیادہ اڑیل تھا  ،  غلطیاں بہت کرتا تھا  ... ایک مرتبہ سرکار 

نے مجھ غلام کے سر پر پانچ عدد نعلین مبارک رسید کیں - اس پر مجھے ناز ہے کہ میں اپنے آقا کا جوتے خور بھی ہوں اور کفش بردار بھی - 

سرکار نے واکی شریف میں اپنی نعلین مبارک عطا فرمائی تھیں ،  وہ مجھ سے بچھڑ گئی تھیں - جس کا مجھے بے حد صدمہ تھا - میرے رحم

 دل آقا نے  3 مارچ  1957ءکو بتوسط کریم بابا صاحب ... قاضی امین الدیؒن صاحب کے انتقال کے بعد  ،  ان کے پاس سرکار کی جو نعلین

 مبارک تھیں  ،  وہ مجھے عنایت فرمادیں - 

میرے حضور تربیت میں مروت نہیں برتتے تھے  ... شیخ جؒی بھائی ، خادم دربار ،  آگرہ والوں کو انیس روز صرف پانی پلا کر رکھا اور تلاوت

 قرآن پاک کراتے رہے - ننگے بابا عبدالرحمؒن  صاحب کو عیسائیوں کے قبرستان میں بٹھا کر تعلیم دی  ... وہاں شروع میں تو انگریز پادریوں

 نے مخالفت کی لیکن بعد میں ان کے مطیع  ہوگئے -

بابا محمد حسیؒن صاحب دربار میں آکر  ... اپنے گھر میں گڑھا کھود کر نماز معکوس ادا کیا کرتے تھے  - ایک روز بابا تاج الدین اولیاءؒ اس

 گڑھے پر پہنچے اور فرمایا  ..." محمد حسین کیا کر رہا ہے  ،  ارے نکل ہم نے سب کچھ کرلیا ہے "- اس کے برعکس یوسف شاہ صاحب 

 سے نماز معکوس کا چلہ پورا کرایا - اسی طرح پٹیل صاحب کے ساتھ بھی ہوا - کریؒم بابا کو اپنے مادر ذاد ولی بچوں کی خدمت میں رکھ کر اور

 دورے کرواکر تعلیم دی - مجھے اپنی خدمت میں رکھ کر نوے دن صرف کالی چائے پلا کر مجاہدہ کرایا -

سرکار تاج الاولیاء کا عام تعلیمی فرمان تھا  ... مٹی کھاتے ، مٹی میں رہتے اچھے رہتے - 

چونکہ سرکار کے جد امجد مولائے کل حضرت علی کرم اللّہ وجہہ الکریم کا خطاب ابو تراب بھی ہے  ...  حضورعلیہ الصلوٰة والسلام نے

 حضرت علیؓ کو یہ خطاب عطا فرمایا تھا اور مولائے کل کو یہ خطاب بہت پسند تھا  ،  اس لئے میرے خیال میں  ... حضور بشان بندگی اپنے ہر 

غلام کو اپنے مولا کی طرف رجوع فرماتے تھے  ،  یا یہ بھی ہوسکتا ہے  ... کل شئی یرجع الیٰ اصلہٖ   ... اس لئے ہر شخص کو اپنی حقیقت

 کی طرف رجوع کرتے ہوں ( انسان مٹی سے بنا ہے )  لیکن عام طور سے یہ سمجھا گیا کہ سرکار تاج الاولیاء صبر و شکر کی تعلیم کے لئے

 یہ الفاظ استعمال کرتے تھے -

محمد حسین بابا سے بھی فرمایا تھا  ... مٹی کھانا    مٹی میں رہنا    چپ گزران ہے    ... د ال کھانا کھاتے    اللّہ اللّہ کرتے    اچھے رہتے  - 

یہ تینوں جملے قریب قریب ایک ہی معنی رکھتے ہیں  ... ان جملوں کے عامل ضروریات زندگی کو بالکل محدود رکھتے تھے  ،  صرف زندہ رہنے

 کے لئے تن پروری کرتے تھے اس لئے وہ کہیں سوالی نہیں ہوتے تھے - ان کی نظر اور یقین صرف اپنے مالک کی طرف رہتی - جب وہ

 یہاں جم جاتے تو مخلوق ان کی خادم ہوجاتی - اس مقام پر جمانے کے لئے بابا صاحب خود ان کے پاس تشریف لے جاتے یا کسی کو

 بھیج کر ان کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے - اگر اس کے خلاف کسی زیر تعلیم غلام نے دربار میں حرکت کی تو فرماتے ... کمر کی ہڈی توڑ 

دوں گا - 

مثال کے طور پر ایک تحصیلدار صاحب نے دوران تربیت کچھ گڑبڑ کردی  ...  ان کے تمام منی آرڈر  ،  خطوط جو ان کے گھر سے آتے

 تھے چھ ماہ کے لئے روک دیئے گئے - جب وہ بہت پریشان ہوئے تو سرکار سے معافی چاہی - اس وقت بابا صاحب ایک نیم کے درخت

 سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے  ،  حضور کو رحم آگیا  ،  اوپر جو نظر کی تو تمام خطوط  ،  منی آرڈر کی رقم ایک ایک کرکے نیچے گری  ... تحصیلدار

 صاحب نے اٹھا لی - اس پر سرکار نے فرمایا  ... ڈاک کا انتظام ہم ہی کرتے ہیں -

اسی طرح مجھ غلام  ( قاضی امجد علی تاجی )  کے ساتھ بھی ہوا  ... چھ ماہ تک تنخواہ تخفیف سے  ملتی رہی  ... معافی تلافی کے بعد ایک روز

 سرکار بڑے اسٹیشن سے تانگہ میں شکردرہ تشریف لے جارہے تھے -  میرے ایک ساتھی شیخ محبوب صاحب میرے ہمراہ تھے  ،  میں تانگہ

 پکڑ کر دوڑنے لگا تو سرکار نے پانچ ڈبل روٹیاں عنایت کرکے فرمایا  ... اتنا دیئے تو بس ہے  - اس کے ایک ہفتہ بعد تمام بقایاجات اور

 پوری تنخواہ بھی مل گئی - 

مجھے اڑیل ہونے کے باوجود سرکار نے بہت نوازا - ایک روز حضرت کملی شاہ صاحب نے فرمایا  ... دربار میں صبح شام حاضری دیا کرو  ،

  اس کو میں نے اپنے آقا کا حکم سمجھتے ہوئے یہ قطعہ کہا ...

ہوکر  در  جاناں  پر    ہم   دست نگر    آئے                            اب بھیک ملے ایسی کہ ہم کو صبر آئے 

گو حال میرا ان پر  روشن ہے مگر پھر بھی                              یوں پوچھتے ہیں مجھ سے کیوں آپ کدھر آئے 

والیل   و مزمل   اور    والشمس    مدثر    کے                        جلوے ہیں عیاں رخ پر یہ سن کر ادھر آئے 

دیدار کے ہوتے ہیں اوصاف حمیدہ سب                            کانوں سے سنے تھے جو آنکھوں سے نظر آئے 

امجد   تیری   عرضی   پر   یہ  حکم   ہوا   صادر                        دربار   میں   دیوانہ    ہر    شام   و   سحر  آئے 


سرکار تاج الاولیاء کا فرمان ہے  ... وہ مرشد ،  مرشد کامل نہیں ہوسکتا جو اپنے مرید کی خواہش کے مطابق اسے تعلیم نہ دے  اور یہ بھی آپ

 کا فرمان ہے  ... میں طالب کو اس کی طلب کے مطابق تعلیم دیتا ہوں -

بابا تاج الدین نے اپنے ہر بچے کی بقدر ظرف  ،  اخلاقی اور روحانی تعلیم و تربیت فرمائی - 

زمانۂ حال کے مجدد روحانیت  ... شہنشاہ ہفت  اقلیم   سید محمد بابا تاج الدین اولیاء نے روحانیت کی منزلوں پر عبور حاصل کرکے منزل

 جاناں تک پہنچنے کا آسان اور عام فہم راستہ بتایا ہے - آپ جب تک حیات ظاہری میں رہے روحانیت کی تبلیغ کرتے رہے  ،  وہ تبلیغ آج

 بھی جاری ہے - جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا -

سچ ہے حضور بابا صاحب دنیا میں ایسے عجیب انداز سے تشریف لائے کہ اللّہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر چہار جانب سے بے پردہ نظر آرہا ہے -

 بابا صاحب نے ہر ایک کو مرد جانباز بننے کی تعلیم دی -


قسم ہے مست  ہوجاتا  ہے  ہر   تار  نفس  اپنا                    کبھی  گر  یاد  آجاتی   ہے مستی  تاج والے   کی 

ہزاروں کشتیاں سروؔر رواں تھیں بحر وحدت میں                 مگر اک شان دکھلاتی تھی کشتی تاج والے کی 


راوی  ...  قاضی امجد علی تاجی 



Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2