طرز تعلیم -- 3 - رزق کا ادب -- ایثار -- امانت


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


 رزق کے ادب کی تعلیم  :

 ایک روز سرکار لنگر خانے کی طرف تشریف لے جارہے تھے  ،  راستہ میں چاول کے چند دانے زمین  پر   پڑے ہوئے د  یکھے - آپ وہاں

 رک گئے اور تمام چاول چن کے اپنی ہتھیلی پر رکھے اور دوسرے ہاتھ سے صاف کرکے نوش فرمائے - اس کے بعد   پیشانی کا پسینہ ہاتھ

 سے صاف کرکے فرمایا  ... یہ تاج الدین کے پسینہ کی کمائی کا  پیسہ ہے - 


ایثار کی تعلیم  :

                                                        ایک روز بابا یوسف شاہ تاجی اور چند تاجی بھائی  ... ایک جامن کے درخت کے سائے میں بیٹھے مصروف گفتگو

 تھے - اسی راستہ سے ایک شخص کچھ مٹھائی لے کر بابا صاحب کو پیش کرنے جارہا تھا - ان لوگوں نے اسے روکا اور مٹھائی اس سے

 لے کر سب نے کھائی - سب کا خیال یہ تھا کہ سرکار تاج الاولیاء تو کھاتے پیتے نہیں  ،  وہاں پر بھی ہم جیسے لوگ ہی کھائیں گے - 

جب وہ لوگ مٹھائی کھا چکے توفوراً ہی سرکار کا اس طرف سے گزر ہوا  ... وہاں رک کر سرکار نے فرمایا  ...

وَ  یُؤ ِثرُونَ عَلَیٰ انَفُسِھِم وَلوَ کَانَ بِہِم خَصَاصَہ 

اور وہ لوگ اپنے نفسوں پر ایثار کرتے ہیں گرچہ خود ضرورت مند کیوں نہ ہوں   ( القرآن  )


 امانت کی تعلیم  :

                                                             بابا یوسف شاہ تاجی کی خدمت میں بمبئی سے ایک صاحب تشریف لائے - وہ بمبئی سے اچھے قسم کے آم ساتھ

 لائے تھے جو سرکار بابا تاج الدین کی خدمت میں   پیش کرنے تھے - یوسف شاہ صاحب نے ان سے دریافت کیا  ،  بمبئی سے کیا لائے ہو

  ...  انہوں نے وہ آم لا کر   پیش کئے اور بتایا کہ یہ سرکار تاج الاولیاء کے لئے لایا ہوں - 

یوسف شاہ صاحب نے یہ سمجھتے ہوئے کہ سرکار تو کھاتے نہیں  ،  ہم ہی لوگوں کو عطا کردیں گے  ... اس میں سے دو آم نکال کر خود کھائے

 اور جو لوگ موجود تھے ان کو کاٹ کر کھلائے - صبح ان صاحب کو ساتھ لے کر سرکار میں حاضری کے لئے گئے تو آم گھر بھول گئے -

 سرکار کی قدم بوسی کی  ... جب ان صاحب نے قدم بوسی کرنا چاہی تو آپ نے انہیں حکم دیا  ...   پہلے شاہ صاحب کو   گیارہ   جوتے مار

 اور نو ( ٩ )  گن - یوسف شاہ صاحب نے تعمیل حکم میں گردن جھکا دی اور گیارہ جوتے کھائے -

Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2