شمائل تاج الاولیاءؒ
شمائل تاج الاولیاءؒ
حضرت بابا تاج الدین اولیاء کا رنگ گندمی قدرے سیاہی مائل تھا ... قد مبارک درمیانہ ، گردن صراحی دار ، پیشانی فراخ حالت جلال
و جمال میں یکساں ، آپ کی آنکھوں میں ایسا نور تھا کہ آپ کے چہرہ مبارک کو کوئی غور سے نہیں دیکھ سکتا تھا - ہاتھ پیر لانبے اور
مضبوط تھے ، جسم چھریرا تھا - کبھی لنگوٹ لگا کر جبہ زیب تن فرماتے اور کبھی صرف جبہ ہی ہوتا ... شروع شروع میں قلندرانہ ٹوپی
پہنتے تھے بعد میں کوئی چیز سر پر نہ رکھی - لب ولہجہ مدراسی تھا ... گفتگو ہمیشہ دلچسپ ، معنی خیز اور مختصر فرماتے - ہو حضرت ... آپ کا
تکیہ کلام تھا اور فعل کے ساتھ " تے " بہت فرماتے تھے مثلا آتے جاتے رہتے ، مٹی پتھر کھاتے ، ایسا نہیں کرتے وغیرہ -
بابا تاج الدین خود کلامی میں اکثر فرماتے ... ہم شہنشاہ ہفت اقلیم ہیں ، کبھی فرماتے ... ہم تاج الاولیاء ہیں ، کبھی فرماتے ... قفل
میرے پاس ہے کنجی اللّه کے پاس ہے حضرت -
گلاب جامن ، مونگ پھلی اور چنے شوق سے کھاتے تھے ... د ال چاول اور مچھلی بھی اکثر نوش فرماتے ... بیڑی اور ناس کا شوق بھی
کرتے تھے ... چائے کی پیالی میں مٹی ڈال دیتے ، اس کو خود پیتے اور لوگوں کو بھی عنایت فرماتے ، اس کے ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں
ہوتی - کھانے کی زیادہ رغبت نہ تھی ، بہت کم کھانا نوش کرتے ... اکثر دو دو اور تین تین دن کا فاقہ کرتے -
اپنے زائرین اور چاہنے والوں کو پلٹن فرماتے ... کبھی کبھی تعویذ بھی لکھا کرتے اور عنایت فرماتے - آپ ہزاروں کے اجتماع میں
قد آور حضرات کے درمیان بھی دور سے نظر آجاتے تھے یعنی سب سے بلند و بالا نظر آتے تھے ... یہ آپ کی سرداری کی علامت تھی -
آپ کی نشست اسم محمد صلی اللّہ علیہ وسلم کا طغرا تھی - محمدی مشرب فقراء نشست و برخاست میں اس امر کا خاص اہتمام رکھتے ہیں
سرکار تاج الاولیاء کی بغل مبارک میں سات تاج ہمیشہ درخشاں رہتے تھے ، ان کو اکثر خداموں نے اور کئی زائرین نے بھی دیکھا ہے -
صاحبان کشف سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رہتی لیکن سرکار تاج الاولیاء نے اپنے کشف کو عیب جوئی اور نکتہ چینی میں کبھی استعمال
نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ عیب پوشی آپ کا طریقه رہا - عالم ظہور میں بھی آپ خطاکاروں سے درگزر فرماتے -
حضرت بابا تاج الدین ناگپوری بظاہر جذب و جلال میں رہتے لیکن خلق خدا پر نظر شفقت ہی رہتی تھی ... بے نوا عاجزوں پر ہمیشہ
التفات فرماتے -
بابا سید محمد تاج الدین اولیاء انتہائی درجہ رحم دل اور غریب پرور تھے - ہر ایک کے ساتھ ہمدردی اور حاجت روائی آپ کا شعار تھا -
جو تعلیم آپ عام لوگوں کو دیتے ... اس پر خود بھی عمل کرتے ، مثلا آپ کی تعلیم میں خصوصی طور پر کم کھانے کی تلقین ہوتی ... آپ نے
بھی کبھی شکم سیر ہوکر نہیں کھایا - کم سونے کے لئے لوگوں سے فرماتے ، اس کے بھی آپ عامل تھے ... دن رات میں چند ساعتوں
سے زیادہ آپ نے کبھی آرام نہیں کیا - کوئی سائل آپ کے در سے کبھی خالی نہ لوٹا -
ہر قوم کے فرد سے آپ شفقت سے ملتے - دور دور سے لوگوں کو بلا کر ہر قسم کی نعمتوں سے نوازتے - جذب و جلال میں بھی محبت و
عنایت کا ظہور ہوتا -
ایک مرتبہ چھمی جان اپنا کلام سنا رہی تھیں ... جب یہ شعر پڑھنے لگیں
اچھے رہیں نزدیک برے جائیں کدھر کو
اے رحمت خدا تجھے ایسا نہ چاہئیے
یہ سن کر بابا صاحب نے فرمایا ... نہیں یوں پڑھو
اچھے ادھر کو جائیں برے آ ئیں ادھر کو
اے رحمت خدا تجھے ایسا ہی چاہئیے
آپ کا دربار بےحد رحم دل تھا - ایک اپاہج سرکار کے دربار میں حاضر ہوا ، مجمع اس قدر کثیر تھا کہ وہ آپ تک نہ پہنچ سکا اور نا امید ہوگیا
کہ سرکار کی قدم بوسی نہ کرسکوں گا ... یکایک بابا تاج الدین خود اس کے پاس چلے آئے ، اس سے مخاطب ہوئے اور دعا دے کر چلے
گئے -
ایک روز ایک افغانی صاحب حاضر ہوئے اور عرض کیا ... بابا ہم کو شیطان بہت ستاتا ہے ... آپ نے فرمایا ... حضرت! تاج الدین
کے پاس شیطان کے لئے بھی بد دعا نہیں ہے -
ایک مرتبہ ایک بہت ہی خستہ حال شخص بابا صاحب کے دیدار کے لئے آیا لیکن عقیدت مندوں کی بھیڑ کے سبب سرکار تک نہیں پہنچ
سکا ... جب وہ اس بھیڑ میں راستہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا تو دربار کی خادمہ لال اماں نے اس کو پکڑ لیا اور مارنے لگیں - سرکار کافی دور
تھے ... وہیں سے بھاگتے ہوئے آئے اور لال اماں کا ہاتھ پکڑ کر بولے ... ہو جی میرے پاس آئے ہوئے کو مارنے والی تو کون ہوتی رے
، جو ساری دنیا سے ناامید ہوجاتا ہے وہ ہمارے پاس آتا ہے جب اس کو یہاں بھی مارا جائے تو بے چارہ کہاں جائے ؟ اس غریب کی
بات توجہ سے سنی اور دعا دے کر رخصت کیا -
ایک مرتبہ ایک شخص حاضر ہوا اور سرکار تاج الاولیاء کو .. باوا کہہ کر مخاطب کیا ... آپ نے فرمایا ... میں تو تیری ماں ہوں رے -
آپ کی توجہ سے ہزاروں لوگ تائب ہوئے اور راہ مستقیم پائی - گھنٹوں آپ پر جلالی کیفیت رہتی مگر اس دوران بھی کبھی کسی کو کوئی
نقصان نہیں ہوا - کوئی شخص جب اپنا دکھ درد لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو اس کا دکھ درد سرکار خود پر طاری کرکے اس کی
تکلیف کو دور فرمادیتے - آپ نے خلق خدا کی خاطر بڑی بڑی تکالیف برداشت کیں -
سرکار تاج الاولیاء کی ایک ایسی کیفیت جو کہیں دیکھنے میں آئی اور نہ سنی گئی وہ یہ کہ ہزاروں کا اجتماع ساتھ ہونے کے باوجود اعلان
فرماتے ... مراد مندوں کو بلاؤ -
کہا جاتا ہے کہ جب سرکار تاج الاولیاء کی بارگاہ میں دکھ درد کے ماروں کا مجمع بہت زیادہ ہوجاتا تھا ... اس وقت بابا صاحب شیخ سعدی کی
رباعی گنگناتے تھے ...
ز رحمت کن نظر بر حال زارم یا رسول اللّه صلی اللّه علیہ وسلم
غریبم بے نوائم خاکسارم یا رسول اللّہ صلی اللّه علیہ وسلم
ز لطف تو ہمی امید وارم یا رسول الّله صلی اللّه علیہ وسلم
آپ کا آسرا ہے جان عالم یا رسول الّله صلی اللّه علیہ وسلم
اور کبھی
بلغ العلٰی بکمالٖه کشف الدجیٰ بجمالٖه
حسنت جمیع خصالٖہ صلو علیہ و آلہٖ
پڑھتے اور دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر وجد میں آجاتے -
ایسا بھی ہوا کہ آپ کو اگر کسی نے برا بھلا کہا تو خدام نے اس کا برا منا کر آپ سے عرض کیا ... سرکار ! اس شخص کے لئے بددعا
کر د یجئے ... اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا ... نکو حضرت ... ہمارا دربار دعا کا ہے بددعا کا نہیں - ان برا بھلا کہنے والوں نے
بھی آپ سے فیض پایا - آپ نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی - رحمت اللعالمین صلی الّله علیہ وسلم کے گھرانے کے چشم و چراغ
تھے ... آپ کا دربار تمام عالم کے لئے باعث رحمت تھا ... آج بھی وہی شان ہے - آپ کے دربار میں بلا امتیاز مذہب و ملت ہزاروں
افراد حاضر ہوتے ہیں ، فیض کا دریا جاری و ساری ہے -
![]() |
| ؒسرکار تاج الاولیا |
✦ اردو میں لفظ شمائل کے معنی حلیہ ، شکل و صورت ، وضع قطع ، عادات و اخلاق ہیں - یہ کسی شخص یا چیز کی خصوصیات ، اوصاف اور کردار کو
بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے -
.png)
Comments
Post a Comment