تاج الدینؒ سمندر ہے
تاج الدینؒ سمندر ہے
بھیکی پور جائس سے ایک صاحب عبدالصمد نامی دربار میں حاضر ہوئے - ان کی دلی خواہش تھی کہ سرکار بابا صاحب مجھے کشف عطا فرما
دیں - جس وقت ان کو باریابی کا موقع ملا تو زبان دل سے سوال کیا کہ ... سرکار میرے دل کی آنکھیں کھل جائیں -
بابا صاحب کے ہاتھ میں سلگی ہوئی بیڑی تھی ، وہ ان کو دی اور فرمایا ... یہ لو کشف - انہیں نے کش لیا تو قوت کشف بیدار ہوئی اور
انہیں اپنے باطن میں روحانی صلاحیتوں کا انکشاف ہوا - سرکار تاج الاولیاء نے انہیں قوت تصرف بھی عطا فرما دی اور بہت سے
شہروں کے نام لے کر فرمایا ... جاؤ ، ان تمام مقامات پر تمہارے پانی سے ہر مرض کو فائدہ ہوگا بلکہ مکمل شفا یابی ہوگی -
یہ حضرت صاحب کرامت ہوکر واپس لوٹے - دنیا خود بخود ان کی طرف متوجہ ہوئی - لوگ اتنی کثرت سے ان کے پاس آنے لگے کہ
جس مقام پر وہ قیام فرماتے ، وہاں گورنمنٹ کو ریلوے اسٹیشن اور پولیس اسٹیشن بنانا پڑتا - دور دور تک آپ کی شہرت ہوگئی -
جہاں پانی پہنچتا اللّه کے حکم سے مریض کو شفاء ہوتی - پانی کے بےشمار برتن قطار در قطار آپ کی خدمت میں پیش ہوتے - آپ ان
برتنوں میں ہاتھ ڈالتے جاتے ... وہ پانی اکسیر کا کام دیتا -
اس زمانے کے ایک انگریزی اخبار ٹائمس ( TIMES ) میں ایک انگریز نے اپنا مشاہدہ اور تجربہ شائع کیا ... وہ یہ ہے ... انسان کے ہاتھ
میں برقی لہریں ہوتی ہیں ، ان سے پانی میں اثر پیدا ہوسکتا ہے ، اس پانی سے مرض بھی دور ہوسکتے ہیں مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ
بابا عبدالصمد ... ہزاروں برتنوں میں ہاتھ ڈالتے ہیں اور ہر برتن کا پانی یکساں طور پر مفید ثابت ہوتا ہے حالانکہ اتنے کثیر برتنوں میں ہاتھ
ڈبونے کے بعد برقی قوت ختم ہوجانی چاہئیے -
بابا عبدالصمد کی شہرت ہندوستان سے نکل کر بیرونی ممالک تک پہنچ گئی تھی - مسیحی دنیا میں بھی آپ کے چھوئے ہوئے پانی کا اعجاز
مسیحائی تسلیم کیا جا چکا تھا - بابا عبدالصمد صاحب کا یہ سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا -
ایک روز ایک عورت ان کے پاس حاضر ہوئی ، یہ زمانہ اس کے مخصوص ایام کا تھا - اس عورت کے بچے کی طبیعت بے حد خراب
تھی - بابا عبدالصمد نے ازراہ کشف اپنے عقیدت مندوں کو حکم دیا ... یہ عورت ناپاک ہے اسے نکال دو - جب اسے وہاں سے نکالا تو
وہ اسی پریشانی میں شکستہ دل ناگپور پہنچی - شکردرہ سے باہر ایک مولسری کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گئی -
ایک بزرگ کے در سے وہ ناپاکی کی وجہ سے نکالی جاچکی تھی لیکن اس کے بیٹے کی زندگی اور موت کا سوال تھا ، اس لئے اس نے دل
سے سرکار بابا صاحب میں عرض کرنا شروع کیا -
ادھر بابا تاج الدین اولیاءؒ نے ایک خادم کو حکم دیا کہ مولسری کے درخت کے نیچے جو عورت بیٹھی ہے اس کو بلا لاؤ - خادم گیا اور اس
عورت کو بلا لایا - وہ کانپتی ہوئی کافی فاصلہ پر ادب سے کھڑی ہوگئی - سرکار تاج الاولیاء نے فرمایا ... " قریب آؤ اماں ، عبدالصمد ایک
لٹیا پانی تھا گندا ہوگیا ... تاج الدین سمندر ہے ، یہاں آؤ اماں "- عورت قدم بوس ہوکر رونے لگی ، سرکار تاج الاولیاء نے اسے تسلی
دی اور فرمایا ... گھر جاتے اماں ، بچہ کھیلتا ملتا ہے اچھا رہتا ہے -
ادھر عورت بامراد روانہ ہوئی ادھر سرکار نے جائس کی طرف منہ کرکے فرمایا ... Abdus Samad suspended
جیسے ہی آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ... عبدالصمد صاحب کو جو کچھ عطا ہوا تھا ، سلب ہوگیا -
وہ پریشان ہوکر حاضر دربار ہوئے - بابا صاحب نے فرمایا ... پھر ملے گا اللّه اللّہ کرو - ظاہر ہے عبدالصمد صاحب نے جو غلطی کی تھی
اس کی اصلاح کرنی تھی - جب ان کی اصلاح ہوگئی تو پھر اپنی عطا سے نواز دیا -
بابا عبدالصمد صاحب کا اصل نام علی رضا تھا - 2 جولائی 1882ء کو صبح صادق کے وقت بھیکی پور ، ضلع رائے بریلی ، اتر پردیش انڈیا
میں پیدا ہوئے - آپ کا سلسلہ نسب خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ سے ملتا ہے - روایت ہے کہ جب آپ کی روحانی صلاحیتیں سلب
ہوئیں اس وقت آپ ، بابا صاحب کی خدمت میں پہنچے اور سرکار تاج الاولیاء نے آپ کو دو سال تک ریاضت اور مجاہدہ کرانے کے بعد
دوبارہ روحانی تصرفات عطا فرمائے - آپ تمام عمر خدمت خلق میں مصروف رہے -
7 جنوری 1966ء بروز جمعہ ، اس دار فانی کو الوداع کہا اور جان جان آفرین کے سپرد کردی - آپ کا مزار بھیکی پور ضلع رائے بریلی
اتر پردیش میں مرجع خاص و عام ہے -
![]() |
| بابا عبدالصمدؒ صاحب |
![]() |
| مزار مبارک بابا عبدالصمدؒ صاحب بھیکی پور ، رائے بریلی ، اتر پردیش انڈیا |


Comments
Post a Comment