الله بابا
ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
مولانا قاضی نور احمد صاحب ضلع چاندہ سے حاضر دربار ہوئے - یہ اہلحدیث غیر مقلد تھے - حاضر ہونے کا مقصد تصدیق واقعات
تھا - بابا تاج الدین اولیاءؒ کے تصرفات کی ہر طرف بلکہ تمام عالم میں دھوم تھی - یہ انبیاء علیہم السلام کو مجبور محض سمجھنے والے بھلا
کسی ولی کے تصرفات کا اعتراف کس طرح کرلیتے -
ادھر جن احباب سے واقعات سنے ان کو جھوٹا نہیں جانتے تھے - مجبور ہوکر خود شکردرہ حاضر ہوئے - چند روز کے قیام میں حاضرین دربار
کا حال دیکھا تو بدعقید تی اور بھی بڑھی ، کہ نہ یہاں خدا کا ذکر ہے نہ رسول صلی اللّٰه علیہ وسلم کا نام ہے جدھر دیکھئے بابا ہی بابا ورد زبان
ہے ... اللّه بابا کی صدائیں لگ رہی ہیں ، لوگ ہیں کہ بابا کے نام کا وظیفہ پڑھ رہے ہیں ... انہیں حاجت روا ، مشکل کشا اور نہ جانے کیا
کیا سمجھ رہے ہیں -
ان کے پاؤں کی خاک کو سرمہ بناتے ہیں - سلام علیکم کے بجائے قدم بوسی اور سجدہ ریزی - یہ سب مناظر دور ہی دور سے دیکھتے رہتے
اور سب کو کافر ، مشرک اور بدعتی قرار دیتے رہے - ایک دن سرکار بابا صاحب راجہ کے محل سے باہر تشریف لارہے تھے - دروازہ سے
لے کر سڑک تک دو رویہ قطار میں ہزاروں زائرین دست بستہ ادب سے کھڑے تھے ، ان میں کہیں قاضی صاحب بھی تھے -
سرکار بابا صاحب دونوں صفوں کے درمیان سے سر جھکائے گزر رہے تھے کہ وہاں گزر ہوا جہاں قاضی صاحب کھڑے تھے -
سرکار تاج الاولیاء نے چلتے چلتے قاضی صاحب کی طرف رخ کیا اور ایک نظر ڈال کر آگے بڑھ گئے - نظر پڑتے ہی قاضی صاحب
کھو گئے - سارا عالم غائب ... حواس گم ... عقل رخصت ... عشق بیدار ہوا -
باطن میں ایک شدید تغیر نے انگڑائی لی ... جذب طاری ہوگیا - بابا یوسف شاہ تاجی صاحب نے اپنا مشاہدہ بیان فرمایا ، قاضی صاحب کی
نظر میں سوائے بابا صاحب کے اور کوئی چیز باقی نہیں تھی ، یا کوئی چیز نہ تھی جو ان کی نظر میں بابا صاحب نہ ہو - نماز کو جذب میں بھی
ترک نہ کیا - نماز میں ر فع یدین جاری تھا - ایک روز خیال ہوا کہ بابا صاحب کا دربار حنفی ہے ، ر فع یدین ترک کردینا چاہیئے چنانچہ
بابا یوسف شاہ تاجی سے مشورہ کیا - انہوں نے کہا ، آپ کے ر فع یدین پر دربار کے بہت سے لوگوں کو اعتراض ہے -
قاضی صاحب نے ر فع یدین ترک کردیا - اسی دن بابا یوسف شاہ تاجی کے ہمراہ سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے -
جیسے ہی یہ دونوں بابا صاحب کے سامنے پہنچے ، سرکار نے یوسف شاہ تاجی کو مخاطب کرکے فرمایا ... " فعل رسول صلی اللّہ علیہ وسلم پر
اعتراض نہیں کرتے حضرت "... پھر قاضی صاحب کو حکم دیا ... " ہمیشہ کی طرح نماز پڑھتے ، گڑبڑ نہیں کرتے ، گڑبڑ کی تو ہڈی توڑ دیتا
ہوں " -
اس حکم کے بعد قاضی صاحب حسب معمول نماز پڑھنے لگے - بابا صاحب نے انہیں چند روز زیر تربیت رکھنے کے بعد ، گھر جانے کی
اجازت دے دی - گھر پہنچ کر غلبۂ حال میں انہوں نے ایک پرچم مندرجہ ذیل لکھوا کر نصب کیا ...
لا اله الا اللّٰہ
محمد رسول اللّٰه
تاج الدین نور اللّٰه
اس کے علاوہ بابا صاحب کا ایک چھوٹا فوٹو چاندی کے تعویذ میں منڈھوا کر بازو پر باندھ لیا اور بابا صاحب کے گیت گانے لگے - ایک
روز خواب میں دیکھا ... بابا صاحب طلب فرمارہے ہیں - دوسرے روز حاضر دربار ہوئے - سرکار کی خدمت میں حاضر ہوکر قدم بوس
ہوئے - بابا صاحب نے فرمایا ... "جھنڈا اتار دو ، بازو بند کھول دو" - حکم کی تعمیل کی - اس کے بعد محبت میں غلو تو ضرور باقی رہا لیکن
اس کا اظہار ممنوع ہونے کی وجہ سے اسرار بن گیا -
Comments
Post a Comment