ہم نے اپنی مہر لگا دی
ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
ایک نواب صاحب کی اٹھارہ لاکھ کی جائیداد کا مقدمہ کورٹ میں چل رہا تھا - یہ کورٹ کے چکروں سے تنگ آکر سرکار تاج الاولیاؒء کی
خدمت میں حاضر ہوئے اور قدم بوس ہوکر سرکار سے عرض کیا کہ کیس کا فیصلہ میرے حق میں ہوجائے اور پوری جائیداد مجھے مل جائے
- سرکار نے کوئی جواب نہیں دیا - کئی روز بعد سرکار بابا صاحب تانگہ میں تشریف لے جا رہے تھے - نواب صاحب بھی تانگہ کے پیچھے دوڑ
رہے تھے -
راستے میں ایک ہریجن کپڑے میں بندھی ہوئی روٹیاں سر پر رکھ کر جا رہا تھا - اس کی نظر جیسے ہی سرکار پر پڑی ، دوڑ کر سرکار کے قدموں
میں سر جھکایا - بابا تاج الدین نے روٹی کی پوٹلی اس کے سر سے اٹھالی اور تانگہ سے نیچے اتر گئے - قریب ہی ایک املی کا پیڑ تھا ... آپ
اس کے سائے میں بیٹھ گئے - پوٹلی کو کھولا اس میں سے ایک روٹی نکال کر آدھی نوش فرمائی اور آدھی نواب صاحب کو عطا کرکے
فرمایا ... " پوری کھانے سے ہگنا لگ جاتا ہے ، لاؤ جی بیڑی پلاؤ "- نواب صاحب نے بیڑی پیش کی اور مقدمہ کے کاغذات بھی
بابا صاحب کے سامنے پیش کئے - سرکار تاج الاولیاء نے اپنی بیڑی کاغذات کے درمیان رگڑ کر ارشاد فرمایا ..." حق دار کا حق دیتے
اچھے رہتے ، ہم نے اپنی مہر لگادی "-
نواب صاحب سمجھ گئے اور سرکار کا حکم پاتے ہی روانہ ہوگئے - یہ تو سمجھ ہی گئے تھے کہ سرکار کا حکم ہے کہ حق دار کا حق دو چنانچہ یہ
پیشی پر حاضر ہوئے - کیس کا فیصلہ ہوا تو وہ بابا صاحب کے حکم کے مطابق ہی تھا یعنی جائیداد کی آدھی آدھی تقسیم کا حکم ہوا -
بابا تاج الدین اولیاء کی خدمت میں حاضری کا مقصد ، نواب صاحب یہ لے کر آئے تھے کہ پوری جائیداد مجھے مل جائے گی لیکن
سرکار بابا صاحب پر تو یہ روشن تھا کہ اس طرح دوسرے فریق کا حق مارنا چاہتے ہیں - بابا صاحب کے تصرف سے حق دار کو اس کا حق
مل گیا اور نواب صاحب بھی راہ راست پر آگئے -
Comments
Post a Comment