تعویذ


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


تعویذ 

 

  یہ واقعہ میری اہلیہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ... ان کے  والد   محمد احمد صاحب  پر ہندوؤں نے غبن کا الزام لگایا - وہ نہایت نیک اور 

 پرہیزگار انسان تھے - ان کا قیام چھندواڑہ  میں تھا - اس الزام سے وہ بے حد دلبرداشتہ ہوئے - چند احباب نے ان کو مشورہ دیا کہ ناگپور

 جاکر بابا تاج الدین اولیاءؒ سے عرض کرو چنانچہ یہ ناگپور روانہ ہوئے - 

ان دنوں بابا صاحب کا قیام رگھو جی راؤ بھونسلے کے محل شکر درہ میں تھا - ان کو یہاں آئے  ہوئے دو روز گزر گئے لیکن شرف باریابی

 نصیب نہ ہوا - تیسرے دن بھی مایوسی سے دوچار ہونا پڑا - یکایک بابا صاحب باہر آئے اور دوسری طرف روانہ ہوگئے  ... یہ اور زیادہ 

مایوس ہوگئے اور دل میں خیال کیا  کہ مقصد میں ناکامی ہوگی اس لئے بابا صاحب متوجہ نہیں ہورہے - یہ خیال دل میں آتے ہی 

سرکار تاج الاولیاء ان کی طرف پلٹے اور فرمایا  ... "بابا تم میرے پاس کیوں آنا تمہارا نام تو خود تعویذ ہے "-

 سرکار کے یہ الفاظ سن کر انہیں بڑی طمانیت نصیب ہوئی - بابا صاحب کی اجازت سے گھر آگئے - مقدمہ کا فیصلہ ان کے حق میں ہوا ...

  اور بے داغ الزام سے بری ہوگئے

راوی  ... پروفیسر  ایم اے نعیم    

      ملیر کراچی                       







Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2