تاج معین الدین
ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
بابا تاج الدین اولیاءؒ ، اپنا نام اکثر ... تاج معین الدین .... تاج محی الدین بھی فرماتے تھے - صوفی محبت شاہ صاحب جو آج کل
حیدرآباد سندھ گاڑی کھاتہ میں مطب کرتے ہیں بیان کرتے تھے کہ میں ایک عرصہ تک درگاہ حضرت خواجہ غریب نواز میں معتکف رہا
اور سرکارمعین الدین چشتی اجمیریؒ سے مجھے ایک خصوصی نسبت حاصل تھی -
میرا ایک مرید ناگپور سی پی کے علاقه سے آیا اور وہاں مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہا ... میں نے منظور کرلیا - وہاں پہنچ کر میں نے قیام کیا ہی
تھا کہ حاضرین میں سے کسی نے بابا صاحب کا ذکر چھیڑ کر کہا ... آپ ان کے علاقے میں آئے ہیں تو وہاں حاضری دینا ضروری ہے -
بدقسمتی سے میں نے کہہ دیا کہ ہم خواجہ صاحب کے نام لیوا ہیں ، ہمیں بابا تاج الدین صاحب سے کیا لینا ہے ؟ بات آئی گئی ہوگئی -
ہم نماز عشاء سے فارغ ہوکر سو رہے - کیا دیکھتے ہیں کہ اجمیر شریف کی خانقاہ عالیہ کا سماع خانہ ہے ، وہاں دربار شاہی منعقد ہے -
صدر مقام پر ایک تخت بچھا ہوا ہے ، اس تخت پر بابا تاج الدین بیٹھے ہوئے ہیں ... رعب و جلال شاہانہ آپ کے چہرہ مبارک سے
ٹپک رہا ہے -
اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار غریب نواز ایک طشت میں تاج زرنگار لئے تشریف لائے ... وہ تاج زرنگار ، بابا صاحب کی طرف بڑھایا
بابا تاج الدین نے وہ تاج اپنے سر مبارک پر رکھتے ہوئے میری طرف دیکھا اورفرمایا ... کیوں محبت شاہ ! یہی ہیں تیرے معین الدین
- خواجہ غریب نواز نے تنبیہہ آمیز نظر سے مجھے دیکھا ، گھبرا کر میری آنکھ کھل گئی اور ایسا معلوم ہوا کہ سکون و اطمینان ، محبت و
عقیدت کی سب کیفیتیں ایک دم سلب ہوگئیں - بے چینی ، اضطراب اور وحشت طاری ہوئی -
میزبان سے ہم نے کہا ... جلد سے جلد ہم کو بابا صاحب کے دربار میں لے چلو - ابھی رات باقی تھی ، بیل گاڑی کا انتظام ہوا -
ناگپور پہنچے ، دربار میں حاضری کا موقع ملا ، ہمیں دیکھتے ہی بابا صاحب نے فرمایا ... یہاں دماغ لے کر نہیں آتے حضرت !
میں نے دل ہی دل میں معافی چاہی - سرکار نے حاضر خدمت رہنے کا حکم دیا - عرصہ تک سعادت قدم بوسی اور دولت تربیت حاصل کی -
Comments
Post a Comment