کاٹھ کی تلوار


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


کاٹھ کی تلوار 


 بلور مدراس کے رہنے والے  ...  بہادر جنگ نامی ایک بہت بڑے سوداگر تھے - سلسلہء نقشبندیہ میں کسی بزرگ سے بیعت تھے -

 اوراد و اشغال  ، ذکر و فکر  اور مراقبہ کا اہتمام رکھتے تھے - ایک رات بعد نماز عشاء مراقبہ میں دیکھا کہ ایک بزرگ تشریف لائے اور ایک

 تلوار ان کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا  ...  "  بہادر جنگ یہ تلوار لو  ،  تمہاری تلوار    بیکار ہے  ،  کاٹھ کی ہے  " -

 یہ فرما کر وہ بزرگ غائب ہوگئے - ان کو جب ہوش آیا تو طبیعت اچاٹ  ،  نسبت غائب  ،  دل پر وحشت اور عجیب و غریب حالت

 طاری ہوئی -

 اتفاق سے کاروبار کے سلسلے میں ان کو بمبئی جانا پڑا  - وہاں کے ایک سیٹھ نے ان کو رات کے کھانے پر مدعو کیا - یہ وہاں پہنچے تو کمرے

 میں قدم رکھتے ہی ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئے - میزبان پریشان اور ملازمین حواس باختہ ہوگئے کہ یہ کیا ہوا ؟  کچھ دیر بعد ہوش آیا تو

 پہلا سوال میزبان سے یہ کیا کہ ...   یہ فوٹو کس کا ہے جو کمرے میں آویزاں ہے  ؟  

میزبان نے جواب دیا ...   یہ ہمارے بابا تاج الدین صاحب کا فوٹو ہے - 

بہادر جنگ نے کہا ...   یہ کہاں ہیں  

  میزبان نے کہا کہ  ...  ناگ پور میں ہیں تعجب ہے آپ ان کو نہیں جانتے - 

بہادر جنگ نے کہا کہ ...  میں چاہتا ہوں کہ پہلی ٹرین سے ناگپور چلا جاؤں  ... یہ دعوت میرے لئے نہایت مبارک ثابت ہوئی کہ جس

 بزرگ کی تلاش میں تھا ان کا پتہ چل گیا -

 سیٹھ صاحب سے  کہا  کہ ...  میرے ملازمین سے کہہ دیا جائے کہ وہ جانیں اور کاروبار جانے اب میرا انتظار نہ کرنا - 

سیٹھ صاحب نے کہا ... ہوٹل سے مال اسباب تو ملازمین سنبھال لیں گے مگر آپ دن میں دو بار کپڑے تبدیل کرنے کے عادی ہیں  ،

  کپڑوں کے بکس تو ساتھ لے لیجئے  ... جواب دیا کہ ضرورت نہیں  .. اور پہلی ٹرین سے ناگپور روانہ ہوگئے -

 ناگپور پہنچ کر سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے - اس وقت بابا صاحب ندی کے کنارے تشریف فرما تھے - زائرین آپ کو

 چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے  ... انہیں میں بہادر جنگ کھڑے ہوئے تھے - سرکار نے انگلی سے زمین پر ایک تلوار بنائی اور بلند

 آواز سے فرمایا  ... بہادر جنگ یہ تلوار لو تمہاری تلوار   بیکار ہے  ،  کاٹھ کی ہے - بہادر جنگ ہجوم سے نکلے  اور بڑھ کر قدم بوس ہوئے  

گل اس نظر کے زخم رسیدوں میں مل گیا 

یہ   بھی   لہو   لگا  کے   شہیدوں  میں  مل   گیا 

چند روز بعد یہ بہت بڑے سوداگر ایک بڑے سودائی کی صورت میں کامٹی ہریجن مندر میں نظر آئے - دن میں دو بار کپڑے بدلنے والے

 خوش پوش انسان کے بدن پر وہ لباس تھا جس میں الٹا سیدھا کچھ بھی نہیں - سراپا وارفتگی  ،  مکمل بے خودی  ،  مجسم جذب  ،  مندر کے 

ایک کونے میں دن رات پڑے رہنا  ،  نہ کسی سے کوئی کام نہ کوئی کلام - 

نہ کچھ غرض ان کو جسم و جاں سے         نہ کام  کچھ ان  کو  این و آں  سے 

    گزر    چکے   ہیں   وہ   دو   جہاں     سے              جو   تیرے   کوچے   میں   آگئے   ہیں 







Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2