تقسسیم ہند کی پیشن گوئی
ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
تقسیم ہند کی پیشن گوئی
امراؤتی میں خواجہ محمد حسین صاحب پولیس انسپکٹر تھے - ایک روز بابا تاج الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی ... حضور میں
پولیس میں سپرنٹنڈنٹ ہوجاؤں اس کے لئے دعا فرمائیں - سرکار تاج الاولیاء نے فرمایا ... ہوجائے گا - سرکار کا جواب سن کر محمد حسین
صاحب خوش ہوگئے اور ہمت کرکے عرض کی ... سرکار میرا تبادلہ بھی پنجاب ہوجائے - سرکار نے فرمایا ... یہ خلاف قانون ہے لیکن تو
ایک چمٹا بنا کرلا تب بولیں گے -
خواجہ محمد حسین صاحب سرکار کی دعا سے سپرنٹنڈنٹ ہوگئے اور امراؤ تی سے ناگپور آگئے - بابا تاج الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر
ہوئے تو حسب الحکم چمٹا لے کر آئے اور سرکار کو پیش کیا - سرکار نے اپنے ہاتھ میں لیا پھر کندھے پر رکھا اور گھومتے رہے ، کبھی ہاتھ
میں لیتے اور کبھی کندھے پر رکھتے - تھوڑی دیر اسی طرح کرتے رہے پھر ان کو واپس دے کر فرمایا ... ہوجائے گا مگر دیر لگے گی -
اس زمانہ میں سینٹرل پروونس CP کے افسروں کا تبادلہ پنجاب نہیں ہوسکتا تھا - 1947ء میں پاکستان بنا ... خواجہ محمد حسین صاحب نے
ہجرت لکھوا دیا اور پنجاب آگئے - چمٹے کے دو حصے ہوتے ہیں ہندوستان کے بھی دو حصے ہوگئے -
کاغذ کے گھوڑے :
عبدالرحمٰن تاجی صاحب کا قیام ڈرگ روڈ کراچی میں تھا - ان کا شمار بھی سرکار تاج الاولیاء کے بچوں میں تھا -
ناگپور شریف میں درزی کا کام کیا کرتے تھے - ایک روز ان کی پریشانی دیکھتے ہوئے سرکار بابا صاحب نے ہجرت کا حکم کچھ اس طرح دیا
... بابو جہاں کاغذ کے گھوڑے دوڑیں گے وہاں جاؤ - چنانچہ یہ کراچی آئے اور ایک ایسی جگہ قیام کیا جہاں پاکستان بننے کے بعد پریس بنا
اور پاکستان کی کرنسی چھپنے لگی - اس طرح تیس برس قبل حضرت بابا صاحب نے پاکستان کی پیشن گوئی کی -
بلیرام :
بابو ہنمنت راؤ ناگپور سیکریٹریٹ آفس میں ملازم تھے - وہ اکثر بابا تاج الدین اولیاء کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا کرتے -
انہوں نے شکردرہ میں سینکڑوں ہندوؤں اور ہریجنوں کو بابا صاحب کے دست مبارک پر مسلمان ہوتے دیکھا تھا - ایک دن بابو ہنمنت
راؤ نے سرکار تاج الاولیاء سے عرض کیا ... اگر حکم ہو تو میں مسلمان ہوجاؤں - سرکار نے ارشاد فرمایا ... تیری کتاب لا - ان کے پاس
گیتا تھی وہ پیش کردی ... بابا صاحب نے گیتا کو ہاتھ میں لے کر فرمایا ... اس میں ہم ہی تو ہیں ، اسے پڑھا کرو -
یہی بابو ہنمنت راؤ صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ... میں گیتا حاصل کرنے کے بعد اکثر بابا جی کے چرن چھونے
حاضر ہوتا رہا - ایک روز میرے سامنے ایک صاحب نے سرکار تاج الاولیاء سے عرض کیا ... بابا جی ! دنیا میں بہت گڑبڑ پھیلی ہوئی ہے
... ایک طرف کانگریس دوسری طرف خلافت کمیٹی کا زور ہے ... انگریزوں کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں اور اب ہندوستان کا نظام
کیا ہوگا ؟
سرکار بابا صاحب نے فرمایا ... " ہمارے دربار کا انتظام بلیرام ہاتھی پر آکر کرے گا ، اب انگریزوں کو نہیں رکھیں گے " -
آپ کے فرمان کے مطابق ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور ہندوستان کی حکمرانی ہندوؤں کو ملی - دربار کے انتظام میں خود غرض حضرات
نے گڑبڑ پھیلائی جس کے نتیجے میں حکومت وقت نے اپنا ایک نمائندہ مقرر کردیا جو برسوں رہا - اب سرکار ہی کے کرم سے پبلک ٹرسٹ
قائم ہوگیا ہے -
Comments
Post a Comment