آخری ملاقات
ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
سرکار تاج الاولیاءؒ کے شکردرہ میں قیام کے دوران آپ کے سگے چچا زاد بھائی سید یوسف شاہ صاحب .... بابا صاحب سے ملاقات کے
لئے اپنے گھر والوں کے ساتھ تشریف لائے - جوں ہی یہ سکندر آباد سے چلے ، ادھر بابا صاحب نے کہنا شروع کیا ... آرہا ہے ، ادھر
سے آرہا ہے ، بہت دنوں کے بعد آرہا ہے ، املی کا جھاڑ ہے وہاں سے آرہا ہے ( بابا صاحب کے چچا جان سید عباس صاحب کے
مکان ... گھاس منڈی ، سکندر آباد ، میں املی کا درخت تھا ) -
جب یوسف شاہ صاحب شکردرہ پہنچے تو سرکار تاج الاولیاء بے حد جلال میں تھے - خادموں نے عرض کیا ، یہ وقت ملاقات کے لئے
مناسب نہیں ہے - سید یوسف صاحب اور ان کے اہل خانہ کے لئے راجہ رگھو جی راؤ نے رہائش کا انتظام کر رکھا تھا - آپ لوگ
وہاں چلے گئے -
سید صاحب سے زیادہ دیر انتظار نہ ہوسکا ، وہ بابا صاحب کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا ... سرکار نے بہت غصے
سے جواب دیتے ہوئے اپنا منہ پھیر لیا اور فرمایا ... اب یاد آئی ، کیوں آئے ؟ کس غرض سے آئے ؟ اس کی تکرار فرماتے رہے -
یوسف صاحب خاموش سر جھکائے سنتے رہے - کچھ دیر بعد ان سے بہت محبت سے دریافت کیا ... پان کہاں ہیں ، میں محنت سے جمع
کیا تھا ، کیا کئے ؟ انہوں نے پریشانی میں کہا ... ہیں - پھر سرکار نے ان سے بیڑی مانگی ، سید صاحب نے بیڑی پیش کی - بابا صاحب
نے دو تین کش لئے پھر یوسف صاحب کو دے دی اور فرمایا ... پی لے ، انہوں نے پی لی -
دوسرے روز جب یوسف صاحب ملنے آئے تو سرکار نے فرمایا ... آؤ بڑے بھائی بیٹھو - پھر دونوں میں بڑی پر لطف گفتگو ہونے لگی -
سرکار اپنی ملازمت کا حال بتاتے ہوئے فرمانے لگے ... بڑے بھائی ہم بڑے بڑے بوڑساں پینے بوڑساں اور اٹھ کر پھرتے ہوئے پیر
زمین پر مارتے ہوئے کہنے لگے ... لیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ اور بتایا کہ یوں پریڈ کئے اور یوں پہرہ دیئے -
ایک روز سرکار تاج الاولیاء کے آگے بہت سی آگ روشن تھی - یوسف صاحب رومی ٹوپی پہنے بابا صاحب کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے
تھے - سرکار نے اچانک ان کی رومی ٹوپی اتار کر آ گ میں ڈال دی - یوسف صاحب نے عرض کیا ... بابا میرا وسیلہ سب گزر چکا ،
خاندان میں صرف آپ ہی بڑے رہ گئے ہیں اور آپ نے میرے سر کی ٹوپی آ گ میں ڈال دی ہے - بابا تاج الدین کچھ دیر سوچتے رہے
... پھر اس دہکتی آ گ میں ہاتھ ڈال کر ٹوپی نکالی اور اپنی انگشت شہادت کو تیل میں ڈبو کر ٹوپی پر کلمہ طیبہ لکھا اور فرمایا ... بڑے بھائی یہ
تمہارا تاج ہے اور سید یوسف صاحب کو پہنایا -ٹوپی بالکل صحیح سالم تھی -
اس سفر میں سید یوسف صاحب دو ہفتہ ناگپور میں مقیم رہے - جب سکندر آباد واپس جانے کے لئے بابا صاحب سے اجازت لینے گئے تو
سرکار تاج الاولیاء سر سے پیر تک اوڑھے ہوئے لیٹے تھے - یوسف صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں جانے کی اجازت مانگی ... سرکار نے
لیٹے لیٹے ارشاد فرمایا ... ہو بھائی جاؤ ، اس وقت بابا صاحب بھی رو رہے تھے - اس کے پانچ ماہ بعد آپ کا وصال ہوگیا ... اپنے بھائی
سے آپ کی یہ آخری ملاقات تھی -
Comments
Post a Comment