پلیگ
ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
یہ معلوم نہ ہوسکا کہ بابا تاج الدین کی حیات مبارکہ میں ناگپور ، واکی اور اطراف کے علاقوں میں پلیگ یا طاعون کی وبا کتنی بار پھیلی -
سرکار تاج الاولیاء کے تذکروں میں پلیگ سے متعلق چار روایات ملتی ہیں ... یہاں چاروں روایات کو پیش کیا جارہا ہے -
حضرات حسنین کریمین علیہ الصلوٰة والسلام سے فدائیت کی نسبت بابا تاج الدین اولیاء کے تمام حالات میں نمایاں تھی - ناگپور میں
پلیگ شدت سے پھیلا اور لوگوں نے اس بلا سے نجات کے لئے آپ سے درخواست کی چنانچہ ایک جلوس مرتب کیا گیا -
سب سے آگے خود بابا تاج الدین اپنے ہاتھ میں سبز علم اٹھائے روانہ ہوئے اور ... امام دیں سلطان مدینہ شاہوں کے سردار حسینؑ ...
زبان مبارک پر جاری تھا - بابا صاحب نے اس جلوس کے ساتھ شہر کے گلی کوچوں میں گشت لگایا ... پلیگ تیزی سے شہر سے ختم
ہوگیا -
بابا عبدالکریم صاحب پلٹن نمبر 63 میں ملازم تھے ... آپ کی تعیناتی ناگپور میں ہوئی - کسی وجہ سے آپ نے اپنے والد کو خط میں سخت
الفاظ لکھ دیئے جس سے آپ کے والد حسن احمد صاحب ناراض ہوگئے - ادھر بابا عبدالکریم نے ملازمت چھوڑ دی اور کامٹی ندی
کے کنارے ایک بزرگ کے مزار پر معتکف ہوگئے - ان بزرگ نے عالم بشارت میں ان سے کہا کہ اس زمانے میں بابا تاج الدین
عارفین کے سردار ہیں ، تم ان کی خدمت میں جاؤ -
بابا عبدالکریم ... دربار تاج الاولیاء میں حاضر ہوئے - بابا صاحب نے دیکھتے ہی فرمایا ... تم اپنے والد کی زیارت کرکے آؤ -
حکم کے مطابق نرمول پہنچ کر اپنے والد سے ملے اور وہاں سے واپس بابا صاحب کی خدمت میں واکی شریف آگئے - بابا تاج الدین نے
آپ کے نام محمد حسین رکھا -
ایک دفعہ ناگپور میں پلیگ کی وبا شدت سے پھیلی ... ہزاروں افراد موت کا لقمہ بننے لگے - بابا تاج الدین اولیاء نے محمد حسین بابا کو بلا کر
کہا ... اونٹ پر بیٹھ کر ناگپور کی گلی گلی گھومو اور بلا کو بھگاؤ -
محمد حسین بابا ، اونٹ پر بیٹھ کر گلی گلی گھومنے لگے - لوگ کسی مریض کو آپ کے پاس لاتے تو آپ بابا صاحب کا نام لے کر لعاب
دہن طاعون کی گلٹی پر لگا دیتے اور مریض موت کے منہ سے نکل آتا - کچھ دنوں میں ناگ پور سے طاعون کا خاتمہ ہوگیا اور اس کے
بعد طاعون نے شہر کو اپنا نشانہ نہیں بنایا -
1924ء کا واقعہ ہے کہ ناگپور میں زبردست طاعون پھوٹ پڑا - لوگوں نے سرکار تاج الاولیاء سے عرض کیا لیکن آپ نے توجہ نہ دی -
ایک روز خود ہی شام چار بجے حکم دیا کہ ..." چلو رے چلو ، شہر کو چلو ، یہاں کوئی نہ رہے " - آپ باہر تشریف لائے اور مغرب کے
بعد تک شکردرہ کے بچوں ، بڑوں ، بوڑھوں اور عورتوں کو ... سب لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ سب گانا گاؤ ... اور خود بھی گانے لگے
... " چندر جھٹکی ڈگر نہیں مانت رے " چنانچہ ہزاروں افراد آپ کے ساتھ گاتے ہوئے نکلے - سرکار ایک بیل گاڑی پر سوار ہوئے اور
ہانکنے والوں کو حکم فرمایا کہ ناگپور کی کوئی گلی نہ چھوٹے -
یہ مجمع جب شہر پہنچا تو ناگپور شہر کے لوگ بھی آپ کی سواری کے ساتھ ہولئے - بابا صاحب کے پاس جو شخص بھی آتا ، اس سے کہتے
... لیمن لا ، سوڈا لا ... جب لیمن اور سوڈا کی بوتلیں آپ کو دی جاتیں تو آپ بوتل کھول کر سوڈا لیمن جو بھی ہوتا سارے کا سارا زمین
پر پھینک دیتے - اس روز آپ نے ہزاروں بوتلوں کا سوڈا اور لیمن زمین پر پھینک دیا - ناگپور میں لیمن اور سوڈے کا کال پڑگیا -
یہ سارا ہجوم سرکار تاج الاولیاء کے ہمراہ ناگپور کی گلی گلی کوچہ کوچہ ... چندر جھٹکی ڈگر نہیں مانت رے ... گاتا پھرتا رہا - صبح چار بجے سرکار
نے واپسی کا حکم دیا - دوسرے روز سے ہی پلیگ کا زور کم ہونا شروع ہوگیا -
واکی شریف میں کاشی ناتھ راؤ پٹیل صاحب نے جس جگہ سرکار بابا سید محمد تاج الدین اولیاء کی قیام گاہ بنائی تھی ... اس سے دو فرلانگ
آگے جا کر ایک آ م کے درخت کے قریب کھڑے ہوکر آپ نے فرمایا ... یہ ہمارا شفاء خانہ ہے ... آپ لاعلاج مریضوں کو حکم دیتے ...
ہمارے شفاء خانہ میں داخل ہوتے ، اچھے ہوجاتے - بعض مریض اس خطہ زمین پر چند گھنٹے قیام کے بعد ہی ٹھیک ہوجاتے - بعض دو
چار روز قیام کرکے تندرست ہوکر روانہ ہوجاتے - یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے -
آم کا درخت عرصہ ہوا گرگیا ، اب اس کی جگہ پر ایک اونچا چبوترہ بنا دیا گیا ہے جس پر بابا صاحب کی خیالی تصویر لگائی گئی ہے -
دوا خانے کے باہر ایک بڑا بورڈ نصب ہے جس پر ایک قول لکھا ہوا ہے - واکی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بات خود سرکار تاج الاولیاء
نے ارشاد فرمائی ... واکی کا پانی واکی کی ہوا بابا کی دعا تو مٹی بھی دوا -
آج کل ( 23-2022 ء) یہاں ایک مائی صاحبہ خدمت گار ہیں جن کا نام راج کنہیا ہے - یہ مائی صاحبہ پچھلے پچاس ( 50) سال سے یہاں
آنے والے زائرین کی خدمت کر رہی ہیں - وہ بیان کرتی ہیں کہ یہاں سو سال پہلے پلیگ کی بیماری آئی تھی ... اس وقت بابا صاحب نے
کہا ... " ہو جی اماں ، چوہے پٹا پٹ مریں گے ، اپن جھونپڑی میں رہیں گے " -
وبا کے زمانے میں اس شفاء خانے کے ارد گرد جھونپڑیاں بنائی گئیں تھیں ، ان جھونپڑیوں میں پلیگ سے متاثرہ مریضوں کو رکھا جاتا تھا -
بابا صاحب نے ان مریضوں کو سختی سے حکم دیا کہ جب تک وہ شفاء یاب نہ ہوجائیں ان جھونپڑیوں سے باہر نہ نکلیں - جدید طب میں
اسے قرنطینہ ( Quarantine ) کہا جاتا ہے - بابا صاحب نے سو سال قبل قرنطینہ کے طریقہ پر عمل فرمایا -
Comments
Post a Comment