جسم اطہر کی خوشبو
جسم اطہر کی خوشبو
میر محمّد تاجی صاحب بیان کرتے ہیں ... دربار تاج الاولیاءؒ میں جو تبرکات محفوظ ہیں ... ان میں ایک رومال ہے جس سے بابا تاج الدین
اولیاؒء کا پسینہ مبارک ، آخری ایام میں خشک کیا گیا تھا ... اس میں مشک و عنبر کی خوشبو آج بھی موجود ہے - ایک مرتبہ زیارت کے
موقع پر ایک محترمہ تشریف لائیں جو کافی عمر کی تھیں ... اس ضعیفی میں بھی وہ حسین تھیں - ان بزرگہ نے جب رومال کی زیارت کی تو زار
و قطار رونے لگیں -
زیارت سے فارغ ہونے کے بعد ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا ... میرا قیام بمبئی میں تھا ... بابا صاحب کی کرامات کی شہرت
سنتی تھی - مجھے سانس کی شکایت ہوگئی تھی،میں نے اپنے گھر میں بابا صاحب سے عرض کی آپ کی کرامات کا بہت شہرہ ہے ، میری یہ
بیماری جاتی رہے تو میں آپ کی خدمت میں حاضری دوں گی چونکہ میں پردہ کی سخت پابند تھی اس لئے فوراً خیال آیا کہ بابا صاحب کی
خدمت میں تو بے شمار لوگ ہوتے ہیں ، میں ان کے درمیان کیسے جاسکوں گی ... اس لئے حاضری کی شرط بھی لگادی کہ حاضری ضرور
دوں گی لیکن قدم بوسی کا شرف اس وقت حاصل کروں گی جب آپ تنہا ہوں گے - یہ ناممکن تھا -
دوسرے ہی روز ان کے کرم سے شفاء ہوگئی - چند روز بعد حسب وعدہ میں ناگپور روانہ ہوئی - ان دنوں سرکار کا قیام شکردرہ میں تھا -
پتہ معلوم کرکے پہنچی ... جب اندر گئی تو سرکار تنہا تھے ، قدم بوسی کا شرف حاصل کیا - سرکار نے ایک پیر آگے کرکے حکم دیا ... اسے
دباؤ ، پیر دباتی رہی - اس دوران ایک صاحب آکر کھڑے ہوئے ، سرکار نے انہیں اشارہ کیا جسے میں نہ سمجھ سکی -
ان صاحب نے سرکار کو بیڑی پیش کی - آپ نے ایک دو کش لےکر وہ بیڑی مجھے عطا کی ... میں نے اسے بجھا کر اپنے
دوپٹے میں باندھ لیا -
اس دوران دوسرا پیر دبانے کا اشارہ فرمایا ... میں بہت ہی نفاست پسند تھی ، جب میں پیر دبا رہی تھی تو میرے ہاتھ بدن سے چپک
رہے تھے - میں نے محسوس کیا کہ شاید کسی نے بدن میں تیل لگایا ہو - یہ سوچا کہ بعد میں صابن سے ہاتھ دھو لوں گی ، کافی دیر کے بعد
اجازت مل گئی -
باہر آکر ہاتھ دھونے کا ارادہ تھا ... صابن کی تلاش میں دکان کی طرف جارہی تھی کہ برقع صحیح کرنے میں ہاتھ جو ناک کے قریب گیا تو اس
میں مشک و عنبر کی خوشبو تھی - اب جو میں نے دونوں ہاتھ سونگھے تو خوشبو سے معطر تھے ... کئی روز تک خوشبو باقی رہی - اس رومال میں
وہی خوشبو ہے -
وہیں میں نے محسوس کرلیا تھا کہ بدن پر تیل نہیں ہے بلکہ پسینہ ہے اور یہ خوشبو پسینے کی ہے - یہ رومال پلاسٹک کی ڈبیہ میں دیکھ کر وہ ایک
چاندی کی کٹوری بنا کر لائیں اور اس میں وہ ڈبیہ رکھوائی -
آپ کے جسم اطہر میں یہ خوشبو کیوں نہ ہو ... آپ حسنیؑ حسینیؑ سادات ہیں ... سرکار دو عالم صلی الّله علیہ وسلم کے لاڈلے اور پیامبر
زہرہ سلام اللّہ علیہا ہیں -
محمّدؐ گل است و علیؑ روئے گل شدہ فاطمہؑ درمیان بوئے گل
چوں عطر ش برآمد حسینؑ و حسنؑ معطر ازاں شد زمین و زمن
سرکار دو عالم صلی اللّه علیہ وسلم کو حضرت انسؓ کی والدہ سے بہت محبت تھی - یہ آپ کی رشتہ کی خالہ ہوتی تھیں یعنی محرمات میں تھیں -
آپ صلی الّله علیہ وسلم جب کبھی دوپہر میں ان کے گھر تشریف لے جاتے تو وہیں آرام فرماتے تھے - حضرت ام سلیمؓ کا یہ معمول تھا
کہ آپؐ کے جسد اطہر سے پسینہ پونچھ پونچھ کر ایک شیشی میں جمع کرلیتی تھیں - ایک روز حضور سرور کائنات علیہہ الصلوٰة والسلام نے
دیکھ لیا اور دریافت فرمایا ... تم اس کا کیا کرو گی ؟ ... انہوں نے عرض کیا ... سرکار اس کو ہم بطور خوشبو استعمال کرتے ہیں -
مشک سے ہاتھ مس ہوجائے تو ہاتھ میں خوشبو ہوجاتی ہے ... بابا صاحب تو سرکار دو عالم صلی الّله علیہ و آله وسلم کی آ ل پاک ہیں ،
سرکار دو عالم صلی اللّه علیہ و آله وسلم کی خوشبو ... ان کی آ ل میں پیدا ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں -
Comments
Post a Comment