کرامات بعد از وصال -1


کرامات بعد از وصال 


حضرت قاضی بابا صاحب      56-  1955 ء میں حسب معمول چادر شریف لے کر دربار پہنچے تو مسجد تاج آباد شریف کے مؤذن  محمد شفیع

 صاحب نے یہ واقعہ سنایا - شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خیال    پیدا ہوا کہ میں  بابا تاج الدین اولیاءؒ سے   بیعت حاصل کروں  ...

 ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ بعد وصال   بیعت  ہوسکتی ہے یا نہیں - انہوں نے کسی شیخ سے اس سلسلے میں رابطہ کیا - شیخ طریقت نے

 عام معلومات کے تحت کہہ دیا کہ بعد وصال یہ کام ممکن نہیں - بیعت ہونا ہی چاہتے ہو تو کسی اور زندہ بزرگ کا ہاتھ تھام لو - 

غریب مؤذن  یہ سن کر بہت مایوس ہوئے  اس صدمہ میں وہ رات کو سوئے - اسی رات سرکار تاج الاولیاء حیات الولی ان کے خواب

 میں تشریف لائے اور سینہ ٹھونک کر فرمایا  ... "چلتے  پھرتوں کو آج بھی ولی  بناتا ہوں کہیں بھٹکنے کی ضرورت نہیں" - مؤذن  صاحب نے

 قاضی بابا کو بتایاکہ   ... اس روز سے میری ظاہری و باطنی تعلیم    بابا صاحب فرمارہے ہیں - حضرت قاضی بابا نے اپنی   بیاض میں لکھا ہے

 کہ ان   پر نزول باران رحمت  بہت زور سے ہورہا ہے -  

یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی نظر سے اوجھل ہوجائے تب ظاہر بین حضرات پر ان کے اثرات بھی کم ہوجاتے  ہیں - ان حضرات کے

 لئے  جو رشتہ ظاہری شکل و صورت سے ہوتا ہے بعد میں قائم نہیں رہتا  ... عشق و محبت اور احکام کی   پیروی سب جاتی رہتی ہے لیکن

 جن خوش نصیبوں  پر اللّٰه کا خاص فضل ہوتا ہے ...  انہیں   باری تعالیٰ  اپنے اولیاء کی حیات دائمی سے روشناسی عطا فرماتا ہے -

Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2