شان تاج الاولیاءؒ - 2


شان تاج الاولیاءؓ 

 


یہ ایک بہت ہی خاص اور منفرد اظہار عقیدت ہے جو صرف سرکار تاج الاولیاءؒ کی بارگاہ میں ہی دیکھا گیا - آپ کی حیات ظاہری میں

 چادریں جلوس کے ساتھ شہر کا گشت کرتی ہوئی لائی جاتیں اور بابا صاحب کو پیش کی جاتیں - چند حضرات نے  کمشنر کو درخواست دی کہ

 چادریں مزارات پر  چڑھائی جاتی ہیں - یہ ایک نیا شگوفہ نکالا گیا ہے کہ زندہ پر چادر چڑھائی جارہی ہے  ،  اسے روکا جائے -

  چنانچہ ایک روز اس درخواست پر عمل درآمد کچھ اس طرح ہوا کہ چادر کے جلوس کو انگریز ایس پی نے روکا اور کہا کہ یہ ایک غلط کام

 ہورہا ہے  ... اس کی وضاحت کرو  ،  ہمیں مطمئن کرو تو جلوس آگے جائے گا ورنہ نہیں - جلوس کے شرکاء میں سے ایک صاحب نے کہا

 کہ اس  کا جواب تو بابا سرکار ہی دے سکتے ہیں - ایس پی نے کہا  ... جلوس روکو اور ہمیں جواب لا کر دو - وہ صاحب بولے کہ  ،  صاحب

 آپ کے پاس جیپ گاڑی ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں اور بابا صاحب سے جواب لے لیں -

 وہ ایس پی ان لوگوں کے ساتھ چلا جیسے ہی یہ لوگ سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں  پہنچے  ... آپ نے ارشاد فرمایا  ... اس سے کہہ دو تاج 

الدین روزآنہ ایک ہزار مرتبہ مرتا ہے اور ایک ہزار مرتبہ زندہ ہوتا ہے  - انگریز سمجھ گیا کہ یہ اللّٰه کے بہت بڑے ولی ہیں  ... فورا جلوس کو 

روانہ کردیا گیا - 


سرکار تاج الاولیاء کے معتقد نہ صرف مسلمان ہیں  بلکہ کروڑوں ہندو  ،  پارسی  ،  اور عیسائی بھی ہیں - بابا صاحب نے بلا امتیاز مذہب  و

 ملت اپنا فیض عطا فرمایا ہے - 

علاقه سی پی کے ہندو برادری کے لوگ اس درجہ معتقد ہیں کہ بابا صاحب کی شبیہہ مبارک رکھ کر اس کو  ،  پھول  پہناتےہیں اور عودی ٹیکہ

 لگاتے ہیں -  

علاقه مدراس کے ہندو اصحاب سرکار بابا تاج الدین اولیاء کو  سائیں بابا کے نام سے یاد  کرتے ہیں اور جب آپ کا نام لیتے ہیں تو دونوں

 ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور تعظیماً  کھڑے ہوجاتے ہیں - 


ایک روز بابا تاج الدین اولیاء زمین پر لیٹے ہوئے تھے  ... کچھ لوگ   پیر دبا رہے تھے  ... ان میں سے ایک صاحب بولے  ... حضرت منصور

 کا بھی کیا مرتبہ تھا اناالحق فرما گئے - سرکار ایک دم اٹھ بیٹھے اور مسکراتے ہوئے فرمایا  ... میاں منصور  بچہ  تھے  ،  بچے نے بند  مٹھی کھول

 دیا  ... اجی ہم شہنشاہ  ہیں شہنشاہ  ،    یہ مٹھی تاج الدین کی ہیں قیامت  تک نہیں کھلینگی   ... پھر مونچھ  پر تاؤ دیتے ہوئے لیٹ گئے - 


بابا تاج الدین اولیاء سے ایک مرتبہ ایک صاحب نے کہا  ... حضور آپ کو سو پچاس میل دور تک تو دکھائی دیتا ہوگا  ... سرکار نے فرمایا  ... 

کیا بکتا ہے  ،  جدھر بھی دیکھتا ہوں لاکھوں کوس دیکھتا ہوں  (  کوس تین میل  کے فاصلے کو کہتے ہیں ) -


ایک مرتبہ سرکار تاج الاولیاء نے فرمایا  ... کسی ولی سے آج تک پانچ   پیسے نہیں بنے ہم پانچ   پیسے بنا کر دکھائیں گے  ،  ہم تاج الدین ہیں - 


ایک روز آپ راجہ کے محل کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے  ...   پیچھے سے ایک صاحب نے سوال کیا  ... بابا فلاں بزرگ نے گیارہ منزلیں

 طے کی تھیں آپ نے کتنی منزلیں طے کیں - آپ نے فرمایا  ... گن لے سیڑھیاں - 


فرید الدین صاحب جو مریم بی اماں صاحبہ کے برادر زادہ تھے  ... ان سے سرکار بابا صاحب نے فرمایا  ... سب ہوگئے اپنے اپنے وقت کے

 سلطان و بادشاہ  ... ہم اپنے وقت کے شہنشاہ  ...  جس کو دیں اس سے کوئی نہیں لے سکتا اور جس کو نہ دیں اسے کوئی نہیں دے سکتا - 


ایک مرتبہ ایک صاحب نے دریافت کیا  ،  بابا آپ  کے بچے (  فیض یافتہ  ) کتنے ہیں  ... آپ نے آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا  ...

 تارے گن لے - 












Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2