بہادر گھوڑا
ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
بہادر گھوڑا
محمد اسمعیل خان صاحب عرف چھٹکا پٹیل آف بالا گھاٹ نے ... اس گھوڑے کو سرکار تاج الاولیاء کی نشاندہی پر ... ایک دیہات
کے مال گزار سے دو سو روپیہ میں خرید کر ... بابا تاج الدین اولیاء کی خدمت میں پیش کیا - یہ گھوڑا بابا صاحب کے وصال تک ان کی
خدمت میں رہا
- سرکار تاج الاولیاء اکثر اپنے گلے کے تمام ہار اتار کر اس کے گلے میں ڈال دیتے تھے - اس گھوڑے کا نام آپ نے بہادر رکھا تھا -
سرکار کا جب وصال ہوا تو تجہیز و تکفین کا سامان لانے کے لئے تانگہ کی ضرورت ہوئی - سب کا خیال یہی تھا کہ سرکار کی آخری خدمت
اسی گھوڑے تانگے سے لی جائے مگر ہیرا لال کوچوان کو یہ گوارا نہ تھا کہ اب گھوڑا تانگہ کسی اور کی سواری میں استعمال ہو -
آخر خادموں کے اصرار پر گھوڑے کو جوتا گیا - سامان لے کر بدھوار محل سے واپسی پر دربار کے قریب آنے سے پہلے بہادر ایک جگہ
رک گیا اور ایک پیر اٹھا لیا -
ہیرا لال نے تانگہ سے اتر کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کے اگلے پیر کے ٹخنے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے - راستہ میں نہ کہیں ٹھوکر لگی اور نہ اس
سے پیشتر کوئی تکلیف تھی - سامان دوسری سواری سے لایا گیا - خالی تانگہ شکردرہ لاکر گھوڑے کو تھان پر گھوڑ پاگاہ میں باندھ دیا گیا -
ڈاکٹر نے دیکھ کر پٹی وغیرہ کی لیکن اس وفادار جانور نے اس وقت سے دانہ پانی ترک کردیا -
تیسرے روز ... بابا صاحب کے قدموں میں تاج آباد ... اس کی لاش لائی گئی اور سرکار تاج الاولیاء کے قدموں کی طرف اس کو دفن کیا
گیا اور پختہ قبر بنادی گئی - اب ایک خوبصورت مزار بن چکا ہے -

Comments
Post a Comment