کنکر پتھر کی بریانی
عطاءالرحیم صاحب سب انجینئر کے ڈی اے ... نے اپنی والدہ حجن کبرا بی ... کے حوالہ سے یہ واقعہ سنایا ... ہمارا تعلق جبلپور ،
سی پی ، انڈیا سے ہے - میرے والد ریلوے میں ڈرائیور تھے - میری والدہ کی عمر اس وقت ایک سو دس ( 110 ) سال کی ہے -
سرکار بابا تاج الدین اولیاءؒ کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتی رہی ہیں -
ایک روز سرکار تاج الاولیاء ناگپور شریف کے ایک محلہ کے مکان میں داخل ہوئے - اس مکان کے مکین دو روز سے فاقوں میں مبتلا تھے
- بچے جب زیادہ پریشان کرنے لگے تو بچوں کی والدہ نے کنکر پتھر اور پانی پتیلی میں ڈال کر چولہے پر چڑھا رکھا تھا اور بچوں کو تسلی دے
رہیں تھیں کہ کھانا تیار ہورہا ہے - جب بچے بھوک سے بے تاب ہوگئے تو رونے لگے - ماں بھی کب تک تسلی دیتی اس کے بھی آ نسو
آگئے - بابا صاحب اسی وقت گھر میں داخل ہوئے اور اس مائی سے مخاطب ہوکر فرمایا ... " اماں کیا پکا رہی ہو "- یہ کہتے ہوئے آپ نے
ہانڈی میں جھانکا تو چند قطرے آپ کے پسینے کے اس ہانڈی میں گر گئے - آپ یہ فرماتے ہوئے باہر آگئے ... " اماں بچوں کو کھانا کھلاؤ " ...
اس مائی نے ہانڈی میں جھانکا تو بریانی تیار تھی - بچوں کو کھلایا اور خود بھی کھایا - اس کے بعد اللّٰه تعالیٰ نے ان کے گھر میں رزق کی
فراوانی کردی -
راوی ... عطاءالرحیم صاحب
14 اکتوبر 1995 ء
Comments
Post a Comment