سایہ دار مکان


کشف و کرامات 


سایہ دار  مکان 


 بابا تاج الدین اولیاءؒ کے رشتے کے بھانجے جناب حسام الدین صاحب بیان کرتے ہیں   ... والد صاحب نے بعض وجوہ سے اپنا مکان

 جو محلہ کنٹا میں تھا بدلنا چاہا - محلہ  بیرونی   پیڑ    میں ایک مکان مولوی عبدالصمد صاحب وکیل کا خالی تھا - یہ مکان کافی بڑا تھا لیکن آ سیب

 زدہ مشہور تھا - والد صاحب کو یہ مکان پسند آ  گیا - لوگوں نے کہا کہ صاحب اس مکان میں سایہ ہے  ... والد صاحب نے جواب دیا کہ

 مجھے سایہ دار مکان ہی کی ضرورت ہے  - لوگوں نے کہا آسیب ہے اور آپ کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں - والد صاحب نے کہا کہ پہلے

 تو پروردگار ہے اور  اس کے بعد ان بچوں پر بڑے بڑے بزرگان دین کی شفقت ہے - یہ بابا تاج الدین کے بھانجے ہیں -

 غرض ہم اس آسیب زدہ مکان میں منتقل ہوگئے - حقیقت میں اس مکان میں آسیب کا اثر تھا - روزآنہ ایسا ہوتا کہ میرے چھوٹے بھائی

 نظام الدین جھولے میں سوتے رہتے اور گھر کے سارے لوگ سوجاتے - جب کوئی اٹھتا تو جھولا برابر جھولتا رہتا تھا - گھر کے اکثر 

لوگوں نے دیکھا کہ ایک شخص جھولا جھلاتا رہتا ہے -

ہم اس مکان میں تقریباً دو سال رہے لیکن ہمیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ ایک آدمی کا اضافہ ہوگیا جو جھولا جھلاتا تھا - اس 

کے بعد والد صاحب کا تبادلہ یہاں سے کریم نگر ہوگیا - وہاں والدہ صاحبہ نے خواب دیکھا کہ سرکار تاج الاولیاء کفن میں ملبوس کھڑے

 ہیں - وہ یہ  دیکھ کر رونے لگیں تو بابا صاحب نے ارشاد فرمایا  ... رونے کی کیا ضرورت ہے اماں  ! میں ہر وقت جب تو چاہے حاضر ہوں 

اور غائب ہوگئے - اس واقعہ کے پانچ روز بعد معلوم ہوا کہ بابا صاحب کا وصال ہوگیا ہے -







Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2