قیام شکردرہ
قیام شکر درہ
ناگپور کے راجہ ... رگھو ویر راؤ بھونسلے ... بابا تاج الدین اولیاء سے بڑی محبت اور عقیدت رکھتے تھے - واکی شریف میں بھی بابا صاحب
کی خدمت میں اکثر آتے رہتے - سرکار تاج الاولیاء بھی ان کی محبت سے بہت متاثر تھے - سن 1919ء میں بابا تاج الدین اولیاء کے
عاشق صادق جناب کاشی ناتھ راؤ پٹیل انتقال کرگئے - پٹیل صاحب کے انتقال کے کچھ عرصے بعد راجہ رگھو جی راؤ ... بابا صاحب سے
ملنے واکی شریف آئے اور گزارش کی کہ آپ ہمارے ساتھ شکردرہ چلیں - راجہ صاحب کی درخواست قبول کی گئی -
1920ء میں سرکار تاج الاولیاء .. راجہ صاحب کے ہمراہ شکردرہ لال محل تشریف لائے - جب محل کے دروازے پر پہنچے تو راجہ
صاحب سے فرمایا ... " ہاؤ جی بڑے بھائی .. ہم اس دروازے سے آئے تو ہیں مگر اس دروازے سے جائیں گے نہیں " -
راجہ صاحب نے لال محل کی ایک کوٹھی آپ کے قیام کے لئے وقف کردی -
شکردرہ تشریف لانے کے بعد ... راجہ صاحب نے دیکھا کہ بابا صاحب تمام دن پیدل گھومتے ہیں اور مخلوق خدا ، قدم بوسی کے لئے ان
پر گرتی ہے ... تو آپ نے چھٹکا پٹیل آف بالا گھاٹ سے مشورہ کیا کہ سرکار کی حفاظت کے لئے پہلوان اور خدمت کے لئے چپراسی ،
خدمت گار اور سواری کے لئے ایک تانگہ کا انتظام ہونا چاہیئے - چنانچہ چھٹکا پٹیل نے ایک تانگہ بابا صاحب کی سواری کے لئے فراہم کیا
اور راجہ صاحب نے پہلوان مقرر کردیئے تا کہ لوگ بابا صاحب کو تکلیف نہ دے سکیں اور سرکار پر گر نہ پڑیں -
ان پہلوانوں میں ... میران بخش پہلوان .. چراغ پہلوان .. حمدو پہلوان .. مولا پہلوان .. غلام نبی پہلوان اور باماجی گاؤڑے
شامل تھے - یہ سرکار کو چاروں طرف سے گھیرے رہتے تھے -
بابا صاحب کے تانگے کا کوچوان ہیرا لال تانوے تھا ... اس نے بابا صاحب کی بہت خدمت کی - خدمت گاروں میں شیخ داؤد اور
محمد یعقوب نے سرکار کی خدمت دل و جان سے کی -
شکردرہ لال محل میں قیام کے دوران ہزاروں عقیدت مند اور مراد مند روزآنہ دیدار کے لئے آتے ... جن میں ہندو ، مسلمان ، سکھ ،
عیسائی ، پارسی سب ہی مذاہب کے لوگ ہوتے - امیر غریب ہر طبقے کے لوگ حاضر ہوتے - بہت سے وہیں جھونپڑے بنا کر پڑے
رہتے - مہاراجہ کی طرف سے سب کے لئے اچھا انتظام تھا -
چڑھاوے اور نذرانے میں روپیہ ، کپڑا ، مٹھائیاں اور کھانے کی چیزیں کافی آتی تھیں - ان میں سے مٹھائیاں روزآنہ تقسیم کردی جاتی
تھیں ... کپڑے سال میں ایک مرتبہ رمضان میں تقسیم ہوتے ... روپیہ میں سے ایک حصہ سرکار تاج الاولیاء کے ماموں صاحب اور
ماموں زاد بھائی کو مل جاتا ... باقی رقم میں سے خدمت گاروں کو تنخواہ ملتی اور جو کچھ بچ رہتا ... بابا صاحب کے لنگر میں شامل کرلیا جاتا -
سرکار تاج الاولیاء جب تانگے پر سوار ہوکر نکلتے تو جناب راجہ صاحب تانگے کے پیچھے دست بستہ برہنہ پا چلتے - بابا صاحب جب چاہتے
تانگے سے اتر جاتے اور جب چاہتے سوار ہوجاتے - جب پیدل چلتے بہت تیز چلتے اور جب دوڑا کرتے تو ہمراہی لوگ پیچھے رہ جاتے -
سرکار کے ہمراہ ہمیشہ ہزاروں کا مجمع رہتا - آپ جہاں جاتے یہ ہجوم بھی ساتھ جاتا -
اس مجمع میں قوال ، طوائفیں ، زائرین اور معتقدین رہتے - دوکاندار پھول ، مٹھائی ، پان بیڑی وغیرہ کی دکان لئے ساتھ ساتھ چلتے -
ایک میلہ تھا جو روزآنہ آپ کے ساتھ رہتا - لوگ عموماً سرکار کے لئے پھول کے ہار ، جبہ ، شال اور زری کے جوتے ( جسے پادوکا بھی
کہتے ہیں ) لاتے تھے - اس میں سے بابا جس کو چاہتے دے دیتے اور باقی راجہ صاحب کے حوالے کردیتے تھے - بعض لوگ سرکار پر سے
نقد سکے بھی نچھاور کرتے تھے اور کچھ نذر و نیاز بھی پیش کرتے تھے جس سے آپ کو کوئی دلچسپی نہیں تھی -
آپ کے ساتھ عام طور پر گانے والوں کی تکڑ یاں رہا کرتی تھیں ... نورا قوال کی تکڑی جس میں ببی قادر وغیرہ تھے پیش پیش رہتی تھی ،
انہیں سرکار بھی بہت چاہتے تھے - -
لال محل امتداد زمانہ کے ہاتھوں ختم ہوچکا .... اب صرف اس کی کچھ باقیات ہیں ، جن میں بڑا دروازہ ، احاطہ کی دیوار ، لال کوٹھی کا
وہ حجرہ جس میں بابا صاحب نے قیام کیا وغیرہ شامل ہیں - اسے چھوٹا تاج باغ بھی کہا جاتا ہے -
![]() |
| بڑا دروازہ لال محل شکردرہ ، ناگپور ، انڈیا |
![]() |
| بڑا دروازہ لال محل شکردرہ ، ناگپور ، انڈیا |
![]() |
| بڑا دروازہ لال محل شکردرہ ، ناگپور ، انڈیا ( اندرونی منظر ) |
![]() |
| بڑا دروازہ لال محل شکردرہ ، ناگپور ، انڈیا ( اندرونی منظر ) |
![]() |
| لال محل شکردرہ ، ناگپور ، انڈیا |
![]() |
| لال محل شکردرہ ، ناگپور ، انڈیا |
![]() |
| لال محل شکردرہ ، ناگپور ، انڈیا |







Comments
Post a Comment