کمیٹی
کمیٹی
جس زمانہ میں سرکار تاج الاولیاء شکردرہ لال محل میں تشریف فرما تھے ... آپ کے پاس نذر نیاز ، روپیہ پیسہ بہت زیادہ پیش ہونے لگا
- بابا صاحب کے بعض عزیزوں اور دنیا دار خدام نے دیکھا کہ مال و دولت تو کافی آرہی ہے لیکن انہیں اس میں سے کچھ نہیں مل رہا
ہے اس لئے کہ سارا انتظام راجہ رگھو جی راؤ کے پاس تھا -
بابا تاج الدین اولیاءؒ ... جنہوں نے عمر بھر ہندو ،مسلمان کسی دھرم یا فرقہ میں فرق نہیں کیا ، صرف انسانیت کی خدمت کرتے رہے
... ان کے لئے مسلمانوں نے ایک کمیٹی بنا ڈالی - اس کمیٹی کے صدر نواب نیاز الدین خان اور سیکریٹری یوسف شریف بیرسٹر بنائے
گئے -
اس کمیٹی نے راجہ رگھو ویر راؤ بھونسلے پر مقدمہ دائر کردیا - مقدمہ کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح بابا صاحب کو لال محل سے لےجایا جائے -
اس مذموم مقصد کے لئے کمیٹی نے ایک درخواست کلکٹر صاحب ضلع کے پاس پیش کی کہ ... ( نعوذ باللّٰہ ) تاج الدین بابا کی
ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے ... اس لئے گورنمنٹ تاج الدین صاحب کو ان کے عزیزوں اور خدام کے حوالے کرے -کمیٹی کے افراد
کے دستخطوں کے ساتھ ، آپ کے ماموں عبدالرحمٰن صاحب کے دستخط بھی درخواست پر تھے -
ضلع سے سرکار کے نام سمن جاری ہوا - آپ حسب عادت تانگہ پر سوار تھے ... ایک کثیر مجمع آپ کے ہمراہ تھا کہ ضلع کے چپراسی نے
سمن لاکر آپ کو پیش کیا - آپ نے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سمن چاک کردیا کہ ..." ہمارا انتظام ہم کرلیں گے " -
خلاف معمول آپ جلدی واپس شکردرہ تشریف لے آئے اور زمین پر بیٹھ گئے - اس وقت آپ کا عجیب عالم تھا - چہرۂ انور پر اس قدر
رعب طاری تھا کہ وہ خدام جو رات دن سرکار کی خدمت میں رہتے تھے ، خوفزدہ ہو کر دور دور کھڑے تھے اور کسی میں اتنی جرأت نہ تھی
کہ آپ کے قریب جا سکے -
سرکار تاج الاولیاء آسمان کی طرف دیکھتے جاتے تھے اور اپنے زانو پر انگشت شہادت سے کچھ لکھتے جاتے تھے - آپ یہ عمل برابر تین
گھنٹے تک فرماتے رہے - اس کے بعد آپ نے عبدالرحمٰن صاحب کو بلوا کر فرمایا ... ہمارا جو کچھ ہے لاکر رکھو - عبدالرحمٰن صاحب نے
چار روپے اور ایک ٹین کا صندوق آپ کے پاس لا کر رکھا - سرکار نے ایک نظر روپیوں اور صندوق کو دیکھ کر ... عبدالرحمٰن صاحب کو
دیکھا اور ارشاد فرمایا ... " ہم نالے پو پڑ جاتے ہیں ، تم گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھو " - چہرۂ مبارک پر افسردگی طاری تھی -
اسی اثناء میں نورا قوال ڈھولک لئے ہوئے حاضر ہوا ، لوگوں کو خاموش اور خوفزدہ پا کر خود بھی ایک طرف ہوگیا - غلام نبی پہلوان نے
نورا سے کہا کہ ڈھول بجا ... مگر نورا بابا صاحب کو دیکھ کر خاموش ہوگیا - سرکار نے ارشاد فرمایا ... بہت سنے رے بس -
دوسرے روز خود کلامی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ... تاج الدین بہت جلدی چادر بچھا دیا -
جون 1925ء سے بابا صاحب کی طبیعت خراب رہنے لگی - مقدمہ بازی کے بعد بابا صاحب نے بالکل چپ سادہ لی اور باہر نکلنا
چھوڑ دیا - زیادہ تر اپنے بستر پر پڑے رہتے - سرکار کی ساری محنت اور ریاضت اکارت جارہی تھی - انہوں نے ساری زندگی سختیاں
برداشت کرکے انسانیت کی خدمت کی تھی اور مذہب کو کبھی آڑے نہیں آنے دیا - ان کے عقیدت مند نہ صرف آپس میں بٹ گئے
تھے بلکہ بابا صاحب کو بھی بانٹنا چاہتے تھے -
ایک دن طبیعت کچھ بہتر تھی ، آپ محل سے باہر نکلے اور پا پیادہ گھومتے ہوئے اس مقام پر زمین پر بیٹھ گئے جہاں اس وقت آپ کی
قبر مبارک ہے - ایک مٹھی مٹی ہاتھ میں لی اور اسے سونگھتے ہوئے فرمانے لگے ... مٹی اچھی ہے اس میں تاج الدین کی بو آتی ہے -
وہیں ایک لکڑی کا ٹکڑا پڑا ہوا تھا اس کو لیا اور زمین میں گاڑ کر فرمایا ... تاج الدین کا جھنڈا یہاں ر ہینگا ... پھر فرمایا ... ہمارا یہاں بنگلہ
رہینگا ، بنگلہ نہیں تو جھونپڑی بھی چلینگی رے -
Comments
Post a Comment