وصال مبارک
وصال مبارک
وصال کی پیشن گوئیاں :
ماہ ذ ی القعدہ ٣ ٤ ٣ ١ ھ ( جون 1925ء ) میں بابا تاج الدین اولیاء حسب معمول گھومنے نکلے اور
ڈگوری کے پل پر بیٹھ گئے - بہت سے لوگ آپ کے قریب بیٹھ کر اپنی اپنی مرادیں عرض کر رہے تھے -
بابا صاحب میری ( کریم بابا تاجی ) طرف مخاطب ہوکر فرمانے لگے ... تاج العارفین ، سراج السالکین ، تاج الملوک جانتے ہو یہ کون
ہیں ؟ میں نے جواب دیا ... آپ کے سوا کون ہوسکتا ہے - آپ نے فرمایا ... ہو بابو - ایک لمحہ کے بعد پھر فرمایا ... عید کا چاند دیکھا کیا
؟ میں نے عرض کی ... رمضان کی عید ہوچکی ہے ، اب عید الضحیٰ کا چاند یعنی بقر عید کا چاند دکھائی دے گا - آپ نے فرمایا ... ہو بابو ،
ایک چاند کے بعد چاند نہ د یکھے گا -
حضرت فرید خان صاحب نے جو انجمن ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے ... حیدرآباد دکن کے کسی کالج میں پروفیسر کی آسامی کے لئے
درخواست دی تھی - بابا صاحب سے اجازت لینے کے لئے حاضر ہوئے اور سرکار سے عرض کیا ... یہاں مجھے تنخواہ بہت کم ملتی ہے ،
وہاں پر یہاں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تنخواہ ملے گی ...
فرمایا ... پھر بوڑھی اماں کی دیکھ بھال کون کرے گا ؟ ...
فضا صاحب نے کہا ... حضور تنخواہ زیادہ ملے گی تو خدمت کے لئے ملازمہ رکھ لوں گا ...
سرکار نے فرمایا ... بڑا ضدی ہے ، نہیں مانتا اچھا مجھے مٹی دے کر تین دن بعد چلے جانا ، تجھ سے بڑا کام لینا ہے - تیسرے دن ہی
سرکار کا وصال ہوا -
داروغہ عزیز الحق صاحب شہر ناگپور میں پولیس انسپکٹر تھے - ایک روز دوران ڈیوٹی تھانے کے برآمدہ میں ٹہل رہے تھے -
حضرت بابا تاج الدین اولیاء اس وقت تھانے کے سامنے سے گزر رہے تھے - یکایک بابا صاحب نے داروغہ جی کی طرف اوپر سے
نیچے تک نظر ڈالی - سرکار تاج الاولیاء کی نظر فیض اثر سے داروغہ جی تھانے سے باہر آگئے ، وردی پھاڑ دی ... قلندرانہ کیفیت پیدا
ہوگئی - اس کیفیت میں خدمت خلق کی طرف رجوع ہوگئے -
وہ فرماتے تھے کہ ایک روز سرکار کی علالت کے دوران ایک شخص نے میرےسامنے عرض کیا ... اللّٰه باوا اچھے ہوجائیے ...
اس پر آپ نے فرمایا ... اب کیا اچھے ہوں گے ہزاروں کنکریاں کھا گئے -
قاضی امجد علی صاحب تاجی بیان کرتے ہیں ... ماہ جون 1925ء میں بابا تاج الدین اولیاء کی طبیعت قدرے خراب ہوئی جس کی وجہ
سے آپ محل سے کچھ روز باہر تشریف نہیں لائے - سرکار کے عزیزوں اور خادموں نے مہاراجہ کے محل سے سرکار کو دوسری جگہ منتقل
کرنے کے لئے راجہ کے خلاف کئی غلط الزامات لگا کر کیس کر رکھا تھا -
ادھر بھونسلے راجہ کے محل کے سامنے چوراہے پر ہم لوگوں نے جھونپڑے بنا رکھے تھے -یہ زمین محکمہ نزول کی تھی - نزول دار نے
بذریعہ پولیس ہم لوگوں کو وہاں سے ہٹانا چاہا تو نواب نیاز الدین صاحب نے ہم سب کو اپنی امریڈ روڈ کی زمین کے چھ سات ایکڑ پر
جھونپڑے بنانے کی اجازت دے دی - چنانچہ اس زمین پر سب سے پہلے میں نے جھونپڑا بنایا - بعد بھائی منشی جمال الدین اور بھائی
منشی عبدالرشید صاحب اور پھر یکے بعد دیگرے لوگ بناتے رہے -
یہ زمین ویران ہونے کے باوجود پر رونق و پر فضا معلوم ہوتی تھی - ایک روز ہم سب نے اس علاقه کا نام رکھنے کا سوچا ... کسی نے کچھ ،
کسی نے کچھ بتایا ... سرکار نے میری زبان سے اس کا نام تاج آباد نکلوایا - سب نے متفقہ طور پر نام کو تسلیم کیا -
دوسرے دن سرکار تاج الاولیاء نے شکردرہ شریف میں جو گھنٹہ لگا ہوا تھا .. اسے کھولا اور فرمایا ... یہ گھنٹہ تاج آباد شریف میں بجے گا-
✦سرکار بابا تاج الدین اولیاء جب محل سے باہر تشریف لاتے تھے ، اس وقت راجہ صاحب کے ملازمین لوگوں کی اطلاع کے لئے
اسے بجاتے تھے ✦
گھنٹہ کو ساتھ لے کر بابا صاحب تاج آباد تشریف لائے - ہم لوگوں نے ایک جگہ مسجد کا جھونپڑا بھی بنا رکھا تھا ... آپ اس میں آکر بیٹھ
گئے اور کھانا طلب کیا - ہر جھونپڑے سے کھانا لاکر بابا صاحب کے سامنے پیش کیا گیا - سرکار نے چند لقمے تناول فرما کر وہ کھانا ہم سب کو
عطا کیا - کچھ دیر بعد آپ نواب صاحب ہی کی زمین جو بیر پیٹھ کا علاقه کہلاتا تھا ... روانہ ہوئے تمام خدام بھی ساتھ تھے -
میدان میں ایک جگہ بیٹھ گئے - قریب ہی کی مٹی اٹھا کر سونگھی اور فرمایا ... حضرت یہ مٹی بہت اچھی ہے ، ہمارے لئے یہاں بنگلہ بناؤ
تو رہیں گے ، پھر فرمایا ... چپ جھونپڑا رہا تو بس -
محرم کی سولہ سترہ 16 , 17تاریخ کو سرکار تاج الاولیاء کو قدرے بخار ہوگیا - حکیم ظفر حسین صاحب تاجی آپ کے جاں نثار تھے ، حکیم
صاحب نے اپنا مطب بند کردیا اور سرکار کی خدمت میں آگئے - راجہ رگھو جی راؤ نے کئی ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کیں - ڈاکٹر چولکر
صاحب سرکار کے بے حد عقیدت مند تھے انہوں نے بابا صاحب کا معا ئنہ کیا اور فرمایا ... مجھے تو کوئی مرض معلوم نہیں ہوتا پھر علاج کس
مرض کا کروں ، سمجھ نہیں آرہا ہے ، کل پھر آکر چیک کروں گا - دوسرے روز بھی آئے مگر کسی نتیجے پر نہیں پہنچے -
الغرض ہر ممکن کوشش کے باوجود بابا صاحب کی حالت حق کی طرف مائل ہوتی جارہی تھی - راجہ صاحب نے اس موقع پر آپ سے
دریافت کیا ... کیا ملاقاتیوں کو آنے کی اجازت دی جائے ... آپ نے مسکرا کر اجازت دے دی - ہزاروں کی تعداد میں دیدار کے طالب
قطاریں بنا کر آتے رہے - دن بھر یہ سلسلہ جاری رہا - ان لوگوں میں ایک سادھو بھی تھا ... اس نے جب سرکار کے پیروں کو ہاتھ لگایا تو
آپ نے آنکھیں کھول دیں اور فرمایا ... کیوں بابو ! ابھی تک یہیں ہو ...
سادھو نے کہا ... سمجھ نہیں آتا کہاں جاؤں ...
آپ نے فرمایا ... آج ہم جاتے تم کل جانا -
ایک طرف بابا صاحب کی علالت کی پریشانی دوسری طرف مقدمہ کی فکر نے راجہ بہادر کو نڈھال کر رکھا تھا - مقدمہ کی تاریخ پیشی 19
اگست تھی - 17 اگست کے دن مغرب کے وقت بابا تاج الدین اولیاء نے راجہ رگھو جی راؤ کو قریب بلایا ... پلنگ سے اٹھ کر بیٹھ
گئے اور اپنے اس جاں نثار غلام سے فرمایا ... مت گھبرا ، میرا بستر تیرے گھر سے لاکھوں برس نہیں اٹھ سکتا -
لوگوں کا ہجوم بڑھتا ہی جارہا تھا - سرکار تاج الاولیاء نے تمام افراد کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی اور چاروں جانب نظر رحمت و شفقت
سے دیکھا پھر پلنگ پر لیٹ گئے اور ایک بلند آواز اور گہری سانس کے ساتھ ہی آپ کی روح پر فتوح نے جسم خاکی سے رشتہ منقطع
کرلیا - انّا للّہ و انّا الیہ راجعون - 17 اگست 1925ء مطابق 26 محرم الحرام 1344ھ بروز پیر مغرب کے وقت وصال فرمایا -
بابا تاج الدین اولیاء کے وصال کی خبر نہایت تیزی سے دور دور تک پہنچ چکی تھی - بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوچکے تھے -
راجہ رگھو جی راؤ بھونسلے کی خواہش تھی کہ محل میں ہی تدفین ہوجائے - سرکار تاج الاولیاء نے اپنی آخری آرام گاہ کے لئے بیر پیٹھ کی
زمین پسند کی تھی - اس موقع پر نواب نیاز الدین خان نے بابا صاحب کے لئے بیر پیٹھ کی اسی ( 80 ) ایکڑ زمین ... بیس ہزار ( 20)
رو پیہ کے عوض وقف کرنے کا اعلان کیا لیکن بعد میں اپنے وعدہ سے پھر گئے -
تمام خدام اور حاضرین کے مشورہ سے بیر پیٹھ میں تدفین کا فیصلہ ہوا - جس جگہ کی مٹی بابا صاحب نے سونگھی تھی اس مقام پر قبر تیار
کی گئی - امیراں بابا اور ان کے والد نے قبر تیار کی - مولانا نجم الدین صاحب تاجی نے سرکار تاج الاولیاء کے جسم اطہر کو غسل دیا ،
غسل کے بعد کفنایا گیا اور جنازہ تیار کیا گیا - بے شمار پھولوں کے ہار ڈالے گئے - جنازہ کے گرد مضبوط بلیاں باندھی گئیں تاکہ زیادہ سے
زیادہ لوگ کاندھا دے سکیں -
کلمہ شہادت کی صداؤں کے ساتھ جنازہ اٹھایا گیا ... لیکن جیسے ہی جنازہ محل کے بڑے دروازے میں پہنچا تو دروازہ میں ہی رک گیا -
بہت کوشش کی گئی مگر جنازہ اس دروازہ سے نہ نکل سکا - اس وقت راجہ صاحب کو سرکار تاج الاولیاء کی وہ بات یاد آگئی جو آپ نے
شکردرہ محل میں داخل ہوتے وقت فرمائی تھی کہ بھائی ہم اس دروازہ سے آئے تو ہیں مگر اس دروازہ سے جائیں گے نہیں ... چنانچہ
جنازہ تالاب والے راستے سے نکالا گیا -
لوگوں نے جنازہ مبارک کے ساتھ سارے شہر کا گشت لگایا - چھوٹے بڑے ، مسلم غیر مسلم ، مرد و عورت پروانہ وار گر رہے تھے -
جنازہ مبارک نکلنے سے پیشتر بارش بہت زور کی ہورہی تھی لیکن اس وقت تھم گئی - جنازہ مبارک شہر کا گشت کرتے ہوئے مغرب
سے قبل بیر پیٹھ ( تاج آباد شریف ) پہنچا - نماز جنازہ مولوی محمود علی صاحب ندوی نے پڑھائی جو امراؤتی میں مدرس تھے -
مولوی صاحب نے بابا صاحب کو جنازہ کے باہر کھڑے دیکھا - مولانا نجم الدین صاحب اور حکیم سید ظفر حسین صاحب نے جسم اطہر
کو لحد میں اتارا - اس طرح تدفین عمل میں آئی ، پھر فاتحہ ہوئی اور سب غم سے نڈھال اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے -
سلام بحضور سرکار تاج الاولیاءؒ
تیری روح پاک پر بھیجتا ہوں سلام تاج الاولیاء ہو قبول بہر خدا سلام و پیام تاج الاولیاء
ترے آستانہ پاک پر ترا نان خوردہ ہے دیر سے بخدا ہے منتظر جواب سلام تاج الاولیاء
وہ مثال برق چمک گیا وہ مثال مشک مہک گیا ترے دست ناز سے مل گیا جسے جام تاج الاولیاء
کوئی تاج فرق عقیل ہو یا کہ سراج بزم فہیم ہو یہ مجال کس کی سمجھ سکے جو کلام تاج الاولیاء
تو ہی بے کسوں کا نصیب ہے تو ہی غم زدوں کا حبیب ہے تو ہی عاصیوں کی جماعت کا ہے امام تاج الاولیاء
در دیر یا در کعبہ ہو مرے سر بریدہ کو کیا غرض وہیں جھک گیا جہاں آگیا تیرا نام تاج الاولیاء
یہ قلیل بزم کا تذکرہ کوئی خاک اہل نظر کرے ہے زمیں سے تا بہ زماں درست نظام تاج الاولیاء
سر عجز سرور بے نوا نہ جھکائے کیوں ترے سامنے کہ ہے تیرے پیش نظر نظر کا قیام تاج الاولیاء
![]() |
| میرا بستر تیرے گھر سے لاکھوں برس نہیں اٹھ سکتا |
![]() |


Comments
Post a Comment