طے الارض


 کشف و کرامات 


طے الارض 


زمان و مکان کے فاصلوں کا سمٹ جانا اور دور دراز مقامات پر چشم زدن میں پہنچ جانا اور دوسروں کو بھی پہنچا دینا  ... کرامت ہے

جسے  طے الارض کہاجا تا ہے -  اولیاء اللّٰه کی یہ روایت ہمیشہ سے چلی آرہی ہے کہ وہ آن واحد میں جہاں چاہتے ہیں پہنچ جاتے ہیں -

 زمان و مکان کے فاصلے پلک جھپکنے میں طے کرلیتے ہیں - 

حضرت بابا تاج الدین اولیاء کی یہ مشہور زمانہ خصوصیت رہی ہے کہ آپ چشم زدن میں دور دراز مقامات پر پہنچ جاتے اور اپنی جگہ پر

 بھی موجود ہوتے - دوسرے مقامات پر پہنچ کر   احکامات دیتے اور لوگوں کی مشکل کشائی فرماتے -

 آپ کا ارشاد مبارک ہے  ... "  ہم اپنے نام کے ساتھ رہتے ہیں  " - یہاں ایک خاص واقعہ پیش کیا جارہا ہے جس کے راوی  ... 

 ہیرا لال تانوے صاحب ہیں جو بابا صاحب کے تانگہ کے کوچوان تھے - 

ایک روز سرکار تانگہ میں تشریف فرما تھے اور مہاراج باغ کی سیر ہورہی تھی  ،  اچانک سرکار نے بہت زور سے فرمایا  ... "   بڑھا رے گاڑی

 کابل قندھار کو   " ...    سرکار تاج الاولیاء کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ سارا منظر بدل گیا - اب ہمارا تانگہ مہاراج باغ میں

 نہیں بلکہ کسی دوسرے شہر میں چل رہا تھا - ایک مقام پر پہنچ کر بابا جی بھگوان نے گاڑی روکنے کا حکم دیا - جہاں گاڑی رکی اس کے

 سامنے ایک کمرہ تھا  ،  اس کمرہ سے تین آدمی نکل کر آئے اور حضور کی قدم بوسی کی - سرکار نے ان سے کچھ باتیں بھی کیں جسے میں نہ سمجھ

 سکا ...   اس کے بعد فرمایا  ..."  بڑھا رے گاڑی  "  ...   اگلے ہی لمحے ہم مہاراج باغ میں تھے -

 اس واقعہ کی تصدیق حضرت عین اللّٰه شاہ صاحب تاجی ،(  جن کا مزار اناؤ بھارت میں ہے) نے کی اور ہیرا لال صاحب نے بھی شاہ

 صاحب کو پہچان کر بتایا کہ جو تین آدمی مکان میں سے نکلے تھے  ،  ان میں سے ایک یہ ہیں -






Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2