جنگ بلقان کی کمان
جنگ بلقان کی کمان
فرید خان صاحب کہتے ہیں ... جس زمانہ میں ... بابا تاج الدین اولیاءؒ واکی شریف میں مقیم تھے - میں اور پروفیسر عبدالقوی صاحب
.... سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت بابا صاحب ... واکی سے سات آٹھ میل دور ایک کاشت کی زمین پر
( کھیت میں ) تشریف فرما تھے - اس کھیت کے چاروں طرف ببول کے درخت تھے - زائرین درختوں کے نیچے بیٹھے تھے -
بابا صاحب کھیت میں پتھر چن چن کر ڈھیر کر رہے تھے - ہم دونوں بھی پتھر جمع کرنے لگے .. پتھروں کا دو ڈھائی فٹ اونچا ڈھیر ہوگیا تو
سرکار نے فرمایا ... اب دوسرا ڈھیر بناؤ اور جلد بناؤ - دوسرا ڈھیر بھی تیار ہوگیا - اس کے بعد سرکار تاج الاولیاء نے ایک لکڑی ہاتھ میں
لے کر فوجی احکام جاری کرنا شروع کردیئے -
لکڑی سے اشارہ کرتے تھے ... فلاں ڈویژن ادھر جاؤ ... اٹیک فائر شوٹ ، اس قسم کے احکام ایک خاص کیفیت میں جاری فرما رہے
تھے - اس کے بعد آپ نے فرمایا ... وہ بھاگے یونانی ، یونانی بھاگے ، پکڑو پکڑو اور پھر فرمایا ... یونانیوں کی ہم نے کمر توڑ دی اب مقابلہ
میں کھڑے نہ ہوں گے - اس کے بعد وہ لکڑی جو آپ کے دست مبارک میں تھی ، پتھر کی بڑی ڈھیری پر یہ فرماکر نصب کردی ... یہ ترکی
کا جھنڈا ہے ترکوں کی فتح ہوگئی -
جس وقت آپ یہ خوشخبری سنا رہے تھے آپ کے چہرہ مبارک پر بڑی بشاشت تھی - کچھ دن بعد اخبارات میں خبر آگئی کہ یونانیوں کو
شکست فاش ہوئی - ترکوں کے ہاتھ زبردست مال غنیمت آیا - جنگ بلقان کی فتح ترکوں کو نصیب ہوئی -
محمد عثمان خان فضا ... فرید خان فضا صاحب کے چھوٹے بھائی تھے - عثمان خان صاحب بھی سرکار تاج الاولیاء سے بے حد عقیدت
رکھتے تھے - اس زمانے میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کام کرتے تھے - محمد عثمان خان صاحب بیان کرتے ہیں ... اس جنگ کے فتح ہونے
کے بعد ایک روز ڈی سی نے ان کو طلب کیا اور ایک فائل دکھا کر پوچھا ... یہ گھوڑے سوار کا فوٹو دیکھ کر بتاؤ یا معلومات کرکے رپورٹ
دو ... یہ شخص ہندوستانی ہے اور ترکی کی فوج کی کمان کر رہا تھا ، یہ فوٹو لندن سے وائسرائے ہند کے پاس آیا اور وائسرائے نے
ہندوستان کے تمام کمشنروں او ر ڈپٹی کمشنروں کو بغرض شناخت روانہ کیا ہے -
عثمان صاحب نے فائل لے کر تصویر دیکھی اور حیران ہوکر کہنے لگے ... یہ تو ہمارے پیر و مرشد بابا تاج الدین کی فوٹو ہے ، تمام ہندو
مسلمان ان کو پہچانتے ہیں ، دفتر میں جس سے جی چاہے معلوم کرلیجئے - ڈپٹی کمشنر نے دفتر کے تمام عملہ سے معلومات کرکے تصدیق کرلی
اور رپورٹ وائسرائے کو بھیج دی - وائسرائے نے لندن روانہ کردی اس طرح بابا صاحب کی شہرت برطانیه تک پہنچ گئی -
Comments
Post a Comment