اب صبر کرتے جی اماں
میری پیدائش قاضی محلہ ناگپور کی ہے - بابا صاحب کے کرم سے میں پولیس میں ملازم رہا - سب انسپکٹر ہوکر ریٹائر ہوا - میرے ماموں
اور ایک نوجوان برطانیه کی فوج میں بھرتی ہوکر ہانگ کانگ وغیرہ چلے گئے تھے - 1914ء کی جنگ ختم ہونے کے بعد بہت سے فوجی
واپس آگئے لیکن میرے ماموں اور ان کا نوجوان ساتھی نہیں آئے - نوجوان کی والدہ بے حد پریشان تھیں -
چند حضرات نے ان کو مشورہ دیا کہ بابا تاج الدینؒ سے جا کر عرض کرو ، انشاء اللّٰه تمہارا لڑکا ان کی دعا سے آجائے گا - چنانچہ یہ مائی ...
سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور قدم مبارک پکڑ کر گڑگڑا کر بے حد رقت کے ساتھ عرض کرتی رہیں کہ بابا میرے لڑکے
کو بلا دو ، جب تک میرے لڑکے کے آنے کی خبر آپ نہ دیں گے میں قدم مبارک نہیں چھوڑوں گی -
رحم دل بابا صاحب نے تھوڑی ہی دیر بعد فرمایا ... نیم کے درخت کے پاس جاکر دیکھو کون سو رہا ہے - یہ مائی نیم کے درخت کے پاس
گئیں جو قریب ہی تھا ... دیکھا تو ان کا بیٹا وہاں سو رہا تھا - مائی صاحبہ نے بیٹے کو اٹھایا ، سینے سے لگایا اور خوب رونے دھونے کے بعد
اس سے دریافت کیا ، تو اس نے بتایا کہ میں جنگ ختم ہونے کے بعد جاپان چلا گیا تھا - آج ہوٹل سے کھانا کھا کر باہر نکلا تو ایک بزرگ
نے میری پیٹھ پر ہاتھ مار کر کہا ... تیری ماں پریشان ہے اور تو یہاں موج کر رہا ہے ، دوسرے ہی لمحہ میں اس درخت کے نیچے سو رہا تھا
- مائی صاحبہ نے بیٹے کو سرکار کی خدمت میں پیش کیا -
سرکار تاج الاولیاء کو دیکھتے ہی وہ قدموں میں گر پڑا اور برجستہ کہا ، یہی بزرگ تھے جنہوں نے میری پیٹھ پر ہاتھ مار کر یہاں پہنچا دیا -
جب یہ واقعہ مشہور ہوا تو میری نانی صاحبہ مجھے تانگے میں لے کر بابا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے بیٹے کے لئے عرض
کرنے لگیں - عورتوں مردوں کا کافی رش تھا - اس وقت میری عمر سات سال کی تھی - عورتوں کے دھکوں سے میں سرکار کے قدموں
میں جاگرا ، اس طرح مجھے قدم بوسی نصیب ہوئی -
نانی جان کے گڑگڑانے پر سرکار نے فرمایا ... " تمہارا لڑکا بڑے صاحب ( اللّٰه میاں )کے پاس پہنچ گیا ، سب کو جانا ہے ، یہاں ہمیشہ
رہنے کے لئے کوئی نہیں آیا ... اب صبر کرتے جی اماں " - بابا صاحب کے الفاظ سے نانی اماں کو صبر آ گیا -
راوی ... حاجی محمد اصغر قادری چشتی تاجی
Comments
Post a Comment