شہنشاہ ہفت اقلیم


کشف و کرامات 


شہنشاہ ہفت اقلیم 

 


   حضرت فرید خان صاحب فضا کے بزرگوں کا سابق وطن اجمیر شریف تھا - وہاں حضرت کلو  پاشاہ  قطب اجمیر تھے - فضا صاحب

 فرماتے ہیں کہ بچپن میں مجھے انہوں نے گود میں کھلایا -  پاشاہ صاحب  ... حضرت فضا صاحب سے بہت محبت کرتے تھے - کلو پاشاہ قلاقند

 شوق سے کھاتے تھے - حضرت فضا صاحب کے والد بزرگوار بسلسلہ ملازمت ناگپور تشریف لائے تو یہیں مقیم ہوگئے -

فضا صاحب کبھی کبھی اجمیر شریف جاتے تو حضرت کلو پاشاہ کی خدمت میں ضرور حاضری دیتے - ناگ پور شریف میں فضا صاحب کو 

بابا تاج الدین اولیاء سے بے پناہ عقیدت ہوگئی تھی -  حضرت فضا صاحب جب بھی ناگپور سے باہر کہیں تشریف لے جاتے تو سرکا ر

تاج الاولیاء سے اجازت حاصل کرکے جاتے -

 ایک مرتبہ فضا صاحب  ... سرکار تاج الاولیاء کے خدمت میں جبہ اور قلاقند لے کر حاضر ہوئے  ،  سرکار نے قبول کیا -

 جبہ زیب تن فرمایا  ،  قلاقند بھی چکھا - بعد میں فضا صاحب نے اجمیر جانے کی اجازت چاہی جو  مل گئی -

 فضا صاحب اجمیر شریف پہنچے - 

اس زمانے میں کلو پاشاہ کی قطبیت کا ڈنکا بج رہا تھا - فضا صاحب ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قلاقند پیش کیا  ... اس پر کلو پاشاہ 

صاحب نے فرمایا  ... کیوں رے  ! اپنے بابا کو  جبہ بھی   پہنایا مجھے صرف قلاقند دیا -  فضا صاحب نے کہا  ... میں جلدی میں حاضر ہوا ہوں 

 ، جبہ بھی  پیش کروں گا -

 چنانچہ ایک دو روز بعد جبہ اور ایک دونے میں قلاقند لے جا کر   پیش کیا - انہوں نے جبہ پہن کر قلاقند کا دونہ ہاتھو ں  میں لیا اور منہ سے

 لگایا  ،  جتنا منہ میں آ سکا  کھا کر  قلاقند کا دونہ فضا صاحب کی طرف بڑھایا  - یہ لینے کے لئے آگے بڑھے تو ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا ... نہیں  ،

  نہیں  - اس کے بعد دونہ کو پھر اپنے منہ سے لگایا اور بڑی محبت سے فرمایا  ... لے لے   ،  میں آگے بڑھا تو پھر نہیں نہیں کہہ کر ہاتھ کھینچ

 لیا - تیسری مرتبہ بھی یہی صورت پیش آئی  ... اس مرتبہ نہیں نہیں کہتے ہوئے دونہ کو زمین پر پھینک دیا - 

فرید صاحب فرماتے ہیں  ... میں کچھ بھی نہ سمجھ سکا کہ خود ہی دونہ دینا چاہتے تھے  خود ہی نہیں نہیں کہہ کر ہاتھ کھینچ لیتے تھے  - اسی رات

 عالم خواب میں ... میں نے دیکھا ایک لق و دق  دشت میں ہوں  ،  ہر طرف ریت ہی ریت ہے  ،  نہ یہاں کوئی درخت دکھائی دے رہا ہے

 نہ آدمی کی صورت نظر آرہی ہے  - ننگے سر اور ننگے   پیر   چلا جارہا ہوں  - 

اچانک کلو  پاشاہ نمودار ہوئے  ،  میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ یہاں کہاں  ؟  جواباً فرمایا  ... چوک بنا رہا ہوں  خانہ  پری کر رہا ہوں  -

 بادشاہ  (  حضرت کلو پاشاہ کو سب لوگ بادشاہ کہہ کر مخاطب کرتے تھے  )  کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی  لکڑی تھی   ... اس لکڑی سے

 انہوں نے ریت  پر مر  بع  شکل میں  چار لکیریں کھینچیں اور مجھ سے فرمایا  ... لکیر کے اندر   بیٹھ جاؤ  ،  میں نے حکم کی تعمیل کی -

 اچانک ایک کلاہ میرے سر  پر خود بخود  آ  گیا اور کلو پاشاہ کی لکڑی استرے میں تبدیل ہوگئی - بادشاہ نے کہا ٹوپی اتار دو تاکہ میں تمہارا سر 

مونڈ دوں - میں نے ٹوپی سر  سے  اتار دی اور کلو پاشاہ نے سر مونڈنے کے لئے استرا میرے سر  پر رکھا -

  اچانک ایک رعب دار آواز سنائی دی  ... ٹھہرو ٹھہرو  ،  کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار تاج الاولیاء تشریف لا رہے ہیں - آتے ہی پہلے کلو پاشاہ کو

 ڈانٹا  ... تم کس کے حکم سے یہ کام کر رہے ہو  ،  کیا تم نے مجھ سے دریافت کرلیا تھا  ؟   اس کے بعد مجھ سے فرمایا  ... تم کس کی اجازت

 سے یہاں آئے  ،  اس خانے سے باہر آجاؤ  ،  چنانچہ میں باہر آ  گیا -

  دوسرے دن صبح کلو پاشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا - بادشاہ نے دور ہی سے فرمایا  ... جاؤ جاؤ بڑے کا ہاتھ سر   پر  ہے -

    اس واقعہ سے دو حقائق سامنے آتے ہیں  ... ایک یہ کہ سرکار تاج الاولیاء اپنے بچوں کی نگہبانی ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی فرماتے تھے 

 اور دوسرے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ سرکار تاج الاولیاء کے احکامات ...  اقطاب پر بھی جاری ہوتے تھے  ... یہ آپ کے 

شہنشاہ ہفت اقلیم ہونے کا ثبوت  ہے - 


دونہ  :   پتوں سے بنا ہوا   پیالہ  ،  جس میں دکاندار پھول یا مٹھائی رکھ کر دیتے ہیں  - 







Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2