نور ہی نور


ارشادات  ...  واقعات  ... تعلیمات  اور  طرز فکر


نور ہی نور   


ایک مولانا صاحب کے خیالات  ،  بابا تاج الدین اولیاءؒ کے متعلق اچھے نہیں تھے - اپنے ایک دوست کے اصرار پر اس کے ہمراہ

 شکردرہ آئے - مولانا کا یہ دوست سرکار کا بے حد عقیدت مند تھا - دوست تو سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوکر قدم بوس

 ہوا  ... مولانا دور ایک درخت کے سائے میں کھڑے ہوگئے - مولانا کے دل میں خیال آیا کہ اگر یہ ولی ہیں تو نماز کیوں نہیں پڑھتے - 

اس خیال کے آتے ہی سرکار بابا صاحب  ،  مولوی صاحب کے قریب آئے اور فرمایا  ... " ہو جی  حضرت  ،  ہم تو ننگے ہیں "  ... 

اور اپنا جبہ مبارک اتار کر مولوی صاحب کے سر پر ڈال دیا  ،  تھوڑی دیر بعد ہٹا لیا - جیسے ہی سرکار نے جبہ ہٹایا  ... مولانا سرکار کے

 قدموں میں گرگئے اور معافی چاہی -

 سرکار تاج الاولیاء نے مولوی صاحب کے سر پر ہاتھ رکھا  ،  اب ان کی کایا ہی پلٹ گئی - لوگوں کے معلوم کرنے پر  مولوی صاحب نے

 بتایا کہ جس وقت بابا صاحب نے جبہ مبارک میرے سر پر رکھا ،  جس سے میرا چہرہ بھی ڈھک گیا  ... میں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا  ،

  سرکار تاج الاولیاء ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں نہ آسمان ہے اور نہ زمین  ،  صرف نور ہی نور ہے  اور اس نور میں سرکار نماز ادا کررہے

 ہیں -


 

Comments

Popular posts from this blog

پیش لفظ

حالات زندگی - - 3

حالات زندگی - - 2