طرز تعلیم -- 4 دست سوال دراز نہ کر
ارشادات ... واقعات ... تعلیمات اور طرز فکر
بابا تاج الدین اولیاءؒ نے دست سوال دراز کرنے کو سختی سے منع فرمایا - ہزاروں مفلس نادار حاضر ہوتے مگر آپ ان کے سوال کرنے
سے پہلے ایسے انتظامات فرمادیتے کہ وہ مالا مال ہوجاتے اور اپنے اپنے مقامات کو لوٹ جاتے -
ایک صاحب سائل بن کر معہ بیوی بچوں کے سرکار تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے - ان کے دل میں یہ خیال تھا کہ بابا صاحب
کی خدمت میں ہزاروں افراد کا اجتماع ہوتا ہے ... ایک ایک پیسہ بھی خیرات دیں گے تو اچھا گزارہ ہوجائے گا - لیکن سرکار کو یہ کب
گوارا تھا - آپ نے ان کو تخم پنواڑ عطا کی اور فرمایا اس کی چائے فروخت کیا کرو - چند ہی روز میں الّله کا فضل ہوگیا اور ان کی مفلسی
دور ہوگئی -
قاضی امجد علی شاہ صاحب کی بمبئی سے طلبی ہوئی تو وہ اپنے کسی دوست کے سفید کپڑے پہن کر سرکار کی خدمت میں پہنچے - جب قدم
بوس ہوئے تو سرکار نے فرمایا ... حضرت مانگ کر نہیں پہنتے -
اندور میں چاند خان نامی ایک صاحب کا قیام تھا - یہ صاحب معاشی طور پر پریشان تھے - بابا صاحب کی کرامات کی شہرت سن کر یہ
بابا تاج الدین اولیاء کی خدمت میں واکی شریف حاضر ہوئے - پریشان حال تو تھے ہی ... سرکار کی خدمت میں زائرین کا اجتماع دیکھ
کر سوچا کہ یہاں لوگوں کے سامنے طبلہ بجا کر بابا صاحب کی شان میں کچھ پڑھتا رہوں گا تو یہ سب حضرات کچھ نہ کچھ دے ہی دیں گے -
چنانچہ طبلہ کمر سے باندھ کر گانا سنانے لگے -
سرکار ان کے قریب تشریف لائے اور ان کی کمر سے طبلہ کھول کر فرمایا ... بابو تمہاری نیت بھیک مانگنے کی ہے ، طبلہ کو لوبان لگا کر رکھ دو
یہ تمہارا کام نہیں ... اگر تم نے یہ کام کیا تو بڑے صاحب ( اللّه میاں ) کا حکم ہے کہ تمہارے ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں -
چنانچہ چاند خان صاحب نے اسی وقت طبلہ توڑ دیا اور سرکار کی خدمت میں رہنے لگے - ایک روز سرکار تاج الاولیاء نے انہیں ایک
جھاڑو عطا کی اور فرمایا ... حضرت جاروب کشی کیا کرو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں - چاند خان صاحب تا حیات جاروب کشی کرتے رہے -
Comments
Post a Comment